’میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کی ریاست کے خلاف عسکری مزاحمت میں اضافہ ہو گا‘

روہنگیا

،تصویر کا ذریعہYoutube

،تصویر کا کیپشن’ہمارا مقصد عالمی برادری کی توجہ حاصل کرنا تھا۔ ہم پر اتنا ظلم ہو رہا تھا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ ہم جیتے یا مرتے۔'
    • مصنف, جوناتھن ہیڈ
    • عہدہ, جنوب مشرقی ایشیائی نامہ نگار

میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کی صورتحال کے حوالے سے ایک بات جس پر شاید ہر کسی کا اتفاق ہے وہ یہ ہے کہ اس سے ریاست کے خلاف عسکری مزاحمت میں اضافہ ہو گا۔

25 اگست کو تقریباً 30 پولیس اور فوجی چوکیوں پر حملوں کے بعد جو شدید جوابی فوجی کارروائی شروع کی گئی اس کے نتیجے میں پانچ لاکھ کے قریب افراد کو بنگلہ دیش میں پناہ لینی پڑی ہے۔

اس سب سے واضح ہوتا ہے کہ روہنگیا مسلمانوں میں اب میانمار کی ریاست کے خلاف عسکری مزاحمت جڑ پکڑ رہی ہے اور اس کی قیادت اراکان روہنگیا سیلویشن آرمی (آرسا) نامی ایک گروہ کر رہا ہے۔

تاہم بنگلہ دیش میں پناہ گزینوں اور عسکریت پسندوں سے باتیں کر کے معلوم ہوتا ہے اس گروہ کی منصوبہ بندی انتہائی کمزور ہے اور اسے تمام روہنگیا کی حمایت حاصل نہیں ہے۔

میانمار کی سکیورٹی فورسز کے بیانات کے مطابق 25 اگست کو ہونے والے حملوں میں بیشتر انتہائی سادہ تھے جن میں زیادہ تر حملہ آوروں کی نیت خودکش حملے کرنے کی تھی اور وہ چاقوؤں یا ڈنڈوں سے مسلح تھے۔

ان میں سے مہلک ترین اور اولین حملوں میں سے ایک حملہ تھا ایلل تھان کوا نامی قصبے میں پولیس چوکی پر کیا گیا تھا۔

پولیس لیفٹیننٹ آنگ کوا مو نے بعد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انھیں اس حملے کی پیشگی خبر تھی اور انھوں نے ایک رات قبل ہی اپنے مقامی حکام کو بیرکوں میں بھیج دیا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ تقریباً صبح چار بجے 500 کے قریب حملہ آور نے دھاوا بولا۔ انھوں نے ایک امیگریشن افسر کو ہلاک کیا مگر آسانی سے خودکار ہتھیاروں سے لیس پولیس نے انھیں بھگا دیا اور 17 لاشیں پیچھے رہ گئیں۔

بنگلہ دیش میں ایک پناہ گزین نے جب مجھے اس حملے کی کہانی سنائی تو اس کی باتوں میں بھی مماثلت تھی۔

رخائن ریاست سے نکالے جانے کے بارے میں جب میں نے اس سے سوال کیا تو اس نے شکایت کی کہ 25 اگست کے حملے کے چند ہی روز میں عسکریت پسندوں نے ان کے پورے گاؤں کو حملوں میں شامل کرنے کی کوشش کی تھی۔

روہنگیا
،تصویر کا کیپشن25 اگست کے میں سے مہلک ترین اور اولین حملوں میں سے ایک حملہ تھا ایلل تھان کوا نامی قصبے میں پولیس چوکی پر کیا گیا جس کے بعد اس گاؤں کو تباہ کر دیا گیا۔

پناہ گزین کے مطابق عسکریت پسندوں نے خود ہی بیل بکریوں پر قبضہ کیا اور لوگوں سے کہا کہ جو آزاد روہنگیا ریاست قائم ہو گی تو انھیں یہ واپس کر دیے جائیں گے۔

اس کا مزید کہنا تھا کہ انھوں نے نوجوانوں کو بڑے چاقو دیے اور کہا کہ قریبی تھانوں پر حملہ کریں۔

اس نے بتایا کہ ان لوگوں کا کہنا تھا کہ آرسا کے پاس بہت ہتھیار ہیں اور وہ ان نوجوانوں کی حمایت کے لیے واپس آئیں گے۔

انھوں نے کہا کہ میری برادری کے 25 نوجوانوں نے ایسا ہی کیا مگر عسکریت پسندوں کی جانب سے کوئی حمایت نہ آئی۔

بنگلہ دیش میں میری ملاقات ایک ایسے نوجوان سے بھی ہوئی جس نے چار سال قبل آرسا میں شمولیت اختیار کی تھی۔

اس نے بتایا کہ 2013 میں آرسا کا رہنما عطا اللہ اس کے گاؤں میں آیا اور کہنے لگا کہ روہنگیا پر مظالم کے خلاف لڑنے کا وقت آ گیا ہے۔

’اس نے ہر برادری سے 5 سے 10 نوجوان دینے کا مطالبہ کیا۔ وہ ایک گروہ لے کر قریبی جنگلوں میں گئے جہاں ان نوجوانوں کو پرانی گاڑیوں کے انجن کے حصے استعمال کرتے ہوئے دیسی ساختہ بم بنانے کی تربیت دی گئی۔‘

’ہمارے دیہات کے لوگوں کو اس سے حوصلہ ملا اور وہ کھانا اور دیگر اشیا ان کے لیے لے جانے لگے۔ آخرکار میں بھی ان میں شامل ہو گیا۔‘

انھوں نے دیہات کی نگرانی شروع کر دی، ان کے پاس صرف ڈنڈے تھے اور انھوں نے اس بات کو یقینی بنانا شروع کر دیا کہ ہر کوئی نماز پڑھے۔ ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے کبھی بھی کوئی بندوق نہیں دیکھی۔

روہنگیا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنحملوں کے بعد جو انتہائی شدید جوابی فوجی کارروائی شروع کی گئی اس کے نتیجے میں پانچ لاکھ کے قریب افراد کو بنگلہ دیش میں پناہ لینی پڑی ہے۔

دنیا کی توجہ حاصل کرنا

اس سابق جنگجو کا کہنا ہے کہ 25 اگست کو اسے ایک فاصلے پر فائرنگ سنائی دی اور آگ دکھائی دی۔ آرسا کا مقامی کمانڈر (جسے مقامت امیر کہا جاتا تھا) وہاں پہنچا اور کہنے لگا کہ فوج ان پر حملہ کرنے والی ہے۔ اس امیر نے کہا کہ ’آپ پہلے حملہ کر دیں کیونکہ آپ نے مرنا تو ہے ہی تو کیوں نہ اس مہم کے لیے شہید ہو جائیں۔ ‘

اس سابق جنگجو نے بتایا کہ تمام عمر کے مردوں نے خود کو چھریوں اور ڈنڈوں سے لیس کیا اور پیش قدمی کرتے ہوئے فوجی دستے کی جانب بڑھ گئے، اور اس طرح بہت سے لوگ ہلاک ہو گئے۔

اس کےبعد عسکریت پسند چاول کے کھیتوں میں بھاگ گئے اور بنگلہ دیش جانے کی کوشش کی۔ اس دوران رخائن کے بودھ مردوں نے ہی ہراساں کیا۔

میں نے اس سے پوچھا کہ ایسے حملے کا مقصد کیا تھا۔

اس کا کہنا تھا کہ ہمارا مقصد عالمی برادری کی توجہ حاصل کرنا تھا۔ ’ہم پر اتنا ظلم ہو رہا تھا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ ہم جیتے یا مرتے۔‘

اس سابق جنگجو نے کسی بھی بین الاقوامی دہشتگرد گروہ کے ساتھ تعلقات سے انکار کیا۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ اپنے حقوق کے لیے لڑ رہے تھے اور ان کا ہدف میانمار کی فوج سے ہتھیار چھین لینا تھا۔

اس جنگجو کی دیگر باتوں سے معلوم پڑتا ہے کہ اس تحریک میں چند سو پیشہ ور عسکریت پسند ہیں اور ان میں شاید کچھ غیر ملکی ہیں، اور ہزاروں غیر مسلح اور غیر تربیت یافتہ پیروکار ہیں جو کہ حملوں میں آخری وقت میں شمولیت اختیار کرتے ہیں۔

25 اگست کو عطا اللہ نے ایک ویڈئو پیغام جاری کیا تھا جس میں اس نے ان حملوں کو روہنگیا کی نسل کشی کے خلاف دفاعی نوعیت کا قرار دیا تھا۔ عطا اللہ پاکستان میں پیدا ہونے والا روہنگیا مسلمان ہے۔ رخائن ریاست میں 2012 میں مذہبی فسادات کے بعد اس نے ہی آرسا کی بنیاد رکھی تھی۔

پیغام میں اس کا کہنا تھا کہ ان کے حملہ آوروں کے پاس اب کوئی راستہ نہیں کیونکہ میانمار کی فوج نے انھیں گھیر رکھا ہے۔ انھوں نے عالمی حمایت کی اپیل کی اور اراکان (رخائن ریاست کا دوسرا نام) علاقے پر روہنگیا کے حق کی بات کی۔

تاہم انھوں نے دیگر بیانات میں کہا ہے کہ آرسا کی دیگر کسی برادری کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں ہے۔

انھوں نے اس پیغام میں مسلمانوں کے اتحاد کی بات نہیں کی اور انھوں نے اپنی جدوجہد کو عالمی جہادی کاوش کا حصہ نہیں بنایا۔

رو

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنبنکاک میں مقیم ایک سکیوٹی تجزیہ کار اینتھونی ڈیوس کا کہنا ہے کہ عطا اللہ نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ خود کو ایک نسلی قومی تحریک کے طور پر دیکھتے ہیں۔

خیال رہے کہ عطا اللہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ دیگر اسلامی عسکریت پسند گروہوں کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اس وقت بظاہر وہ ان کی مدد نہیں مانگ رہے۔

بنکاک میں مقیم ایک سکیورٹی تجزیہ کار اینتھونی ڈیوس کا کہنا ہے کہ عطا اللہ نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ خود کو ایک نسلی قومی تحریک کے طور پر دیکھتے ہیں۔

’ان کے بین الاقوامی جہادی تنظیموں جیسے کہ القاعدہ یا دولتِ اسلامیہ کے ساتھ کوئی خاطر خواہ روابط نہیں ہیں۔ وہ اپنی تحریک کو روہنگیا کے لیے رخائن ریاست کے اندر ہی حقوق کی بات کر رہے ہیں۔ وہ نہ تو علیحدگی پسند ہیں اور نہ ہی جہادی۔‘

تاہم میانمار کی فوج نے کامیابی کے ساتھ انھیں غیر ملکی حمایت یافتہ اور ریاست کے خلاف سازش کے طور پر دکھایا ہے اور عالمی میڈیا نے بنگلہ دیش کی جانب جوق در جوق جانے والے پناہ گزینوں کی کوریج نہیں کی ہے۔

عطا اللہ کے رخائن پر روہنگیا کے حق ہونے کے بیان کو میانمار کی فوج کے کمانڈر جنرل من آنگ لانئج نے توجہ دی اور گذشتہ ماہ انھوں نے متنبہ کیا کہ فوج ملک کو کبھی بھی ’ان بنگالی دہشتگردوں‘ کے ہاتھ کوئی بھی علاقے کھونے نہیں دے گی۔ ‘

انھوں نے رخائن میں جاری آپریشن کو 1942 کا غیر مکمل معاملہ قرار دیا جب برطانوی اور جاپانی فوجوں کے درمیان اس علاقے میں جنگ جاری تھی۔

،آڈیو کیپشنمیانمار سے فرار ہو کر بنگلہ دیش پہنچنے والے روہنگیا مسلمانوں کی تاریخ پر ایک نظر۔

آبادی میں نیا توازن؟

اس جنگ میں روہنگیا اور رخائن کی بودھ برادری نے متضاد حمایت کی تھی اور دونوں جانب انتہائی شدید قتلِ عام کے واقعات کے ساتھ ساتھ آبادی کے بڑے حصوں کی نقل مکانی بھی ہوئی تھی۔

رخائن اور میانمار قومیت پسندوں کا خیال ہے کہ یہ وہی وقت تھا جب رخائن کی آبادی میں بنگالی تارکینِ وطن کے ذریعے روہنگیا کو بڑھایا گیا۔

صرف چار ہفتوں میں روہنگیا آبادی کو رخائن سے بڑی تعداد میں نکال کر میانمار کی فوج نے ریاست کی آبادی کا تناسب ایک بار پھر غیرمسلموں کے حق میں بڑھا دیا ہے۔

سوال یہ رہ جاتا ہے کہ اب آرسا کیسے کام کرے گی جبکہ اس کے پاس ریاست میں شاید ہی کوئی اڈے رہ گئے ہوں۔ سرحد پار سے حملہ کرنا تو انتہائی مشکل ہو گا اور شاید بنگلہ دیش کے حکام بھی اسے برداشت نہ کریں۔ اگرچہ بنگلہ دیش پناہ گزینوں کے معاملے پر برہم ہے تاہم انھوں نے اس معاملے میں اب تک غیر جانبداری کا ثبوت دیا ہے۔

ہم سے بات کرنے والے سابق جنگجو کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش میں وہ اب بھی اپنے علاقے کے امیر سمیت آرسا کے دیگر رہنماؤں سے رابطے میں ہے تاہم اس نے عطا اللہ سے بات نہیں کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ انھیں نہیں معلوم کہ ان کی تنظیم اب اگلا قدم کیا اٹھائے گی۔ کیمپ میں ہم نے جن لوگوں سے بات کی ان میں سے زیادہ تر آرسا کی موجودگی کے بارے میں جانتے تھے تاہم ان میں سے بہت سے تنظیم کے بارے میں بات کرنے سے کتراتے ہیں۔