شمالی کوریا پر ایک ہی چیز کام کرے گی: ڈونلڈ ٹرمپ

،تصویر کا ذریعہREUTERS
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ سابقہ امریکی صدور شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرات کرتے رہے ہیں جن کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا اور اب پیانگ یانگ سے نمٹنے کے لیے 'صرف ایک چیز ہی کارگر ہو گی۔'
انھوں نے ٹویٹ کیا: 'صدور اور ان کی انتظامیہ شمالی کوریا سے گذشتہ 25 برسوں سے مذاکرات کرتے چلے آئے ہیں، لیکن یہ بےسود رہا۔'
انھوں نے مزید وضاحت نہیں کی کہ ان کا اشارہ کس چیز کی جانب ہے۔
حالیہ مہینوں میں امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوتا رہا ہے، اور دونوں ملکوں کے سربراہوں نے ایک دوسرے کو کھلے عام جنگ کی دھمکیاں دی ہیں۔
شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ اس نے حال ہی میں ایک مِنی ہائیڈروجن بم کا تجربہ کیا ہے جسے دورمار میزائل پر نصب کیا جا سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ امریکہ خطے میں اپنے قومی مفاد اور اپنے اتحادیوں کے تحفظ کے لیے شمالی کوریا کو مکمل طور پر تباہ کر سکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گذشتہ ہفتے امریکی وزیرِ خارجہ ریکس ٹلرسن نے کہا تھا کہ امریکہ بحران کے حل کے لیے شمالی کوریا سے براہِ راست رابطے میں ہے۔ تاہم اس کے جواب میں صدر ٹرمپ نے ٹویٹ کی: 'اپنی توانائیاں بچا کر رکھو، ریکس۔ ہم جو کرنا ہوا وہ کر گزریں گے!'
واشنگٹن میں بی بی سی کی نامہ نگار لارا بکر کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی حالیہ ٹویٹ خالی خولی بیان بازی ہو سکتی ہے، لیکن خطرہ ہے کہ شمالی کوریا اسے اپنے لیے خطرہ سمجھ سکتا ہے۔
ستمبر میں شمالی کوریا نے ایٹمی تجربہ کیا تھا جس کی عالمی برادری نے مذمت کی تھی۔
اس کے کچھ عرصے بعد صدر ٹرمپ نے اقوامِ متحدہ میں تقریر کرتے ہوئے شمالی کوریا کو تباہ کرنے کی دھمکی دی تھی اور ملک کے سربراہ کم جونگ ان کو 'راکٹ مین' کہہ کر پکارا تھا اور کہا تھا کہ وہ خودکش مشن پر ہیں۔
اس کے جواب میں کم جونگ ان نے کہا تھا کہ وہ 'سٹھیائے ہوئے دماغی مریض امریکی کو آگ سے سدھائیں گے۔'









