نوبیل امن انعام ایٹمی ہتھیاروں کے خلاف کام کرنے والے ادارے کو دے دیا گیا

،تصویر کا ذریعہNobel Committee
اس سال کا نوبیل امن انعام ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے کے لیے مہم چلانے والے ادارے آئی کین (انٹرنیشنل کیمپین ٹو ابولش نیوکلیئر ویپنز) کو دیا گیا ہے۔
نوبیل کمیٹی کی سربراہ بیرٹ رائس اینڈرسن نے انعام کے فاتح کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس تنظیم نے ایٹمی ہتھیاروں میں تخفیف کے لیے زبردست خدمات انجام دی ہیں۔
'ہم ایک ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جہاں ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کا خطرہ اس قدر زیادہ ہے جتنا ایک طویل عرصے تک نہیں تھا۔'
انھوں نے شمالی کوریا کی مثال دی۔
جولائی میں آئی کین کے دباؤ کے تحت 122 ملکوں نے اقوامِ متحدہ کے پیش کردہ ایک معاہدے پر دستخط کیے جس کا مقصد بالآخر تمام ایٹمی ہتھیاروں کو ختم کرنا ہے۔ تاہم امریکہ اور برطانیہ سمیت نو معلوم ایٹمی طاقتوں نے اس معاہدے کی توثیق نہیں کی۔
رائس اینڈرسن نے ایٹمی طاقتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ ایٹمی ہتھیاروں کے بتدریج خاتمے کے لیے ابتدائی مذاکرات شروع کریں۔
آئی کین سینکڑوں غیر سرکاری تنظیموں کا مجموعہ ہے۔ یہ تنظیم دس سال قبل قائم ہوئی تھی اور اس کا صدر دفتر سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ہے۔ اس تنظیم کو بطورِ انعام 90 لاکھ سویڈش کرونا (11 لاکھ ڈالر) ملیں گے۔
تنظیم کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر بیئیٹرس فن نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ انعام ان کے لیے حیران کن تھا، ’تاہم یہ اس بات کی بڑی علامت ہے کہ اس کے کام کی ضرورت ہے اور اس کی قدر کی جاتی ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا: 'جنگی قانون کہتا ہے کہ ہم عام شہریوں کو نشانہ نہیں بنا سکتے۔ ایٹمی ہتھیاروں کا مقصد عام شہریوں کو نشانہ بنانا ہے، ان کا مقصد تمام شہر کو نیست و نابود کر دینا ہوتا ہے۔۔۔ یہ ناقابلِ قبول ہے، اور اب ایٹمی ہتھیاروں کا کوئی بہانہ نہیں چلے گا۔'
انھوں نے کہا کہ ایٹم بم 'ایک بہت بڑا تابکار بم ہوتا ہے، جو افراتفری اور تباہی پھیلاتا ہے اور عام شہریوں کی ہلاکتوں کا سبب بنتا ہے۔ اسے جنگی قانون کے تحت استعمال نہیں کیا جا سکتا۔'

،تصویر کا ذریعہAFP
نوبیل کمیٹی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ 'بعض ملک اپنا ایٹمی اسلحہ جدید تر بنا رہے ہیں، اور اس بات کا حقیقی خطرہ موجود ہے کہ مزید ملک بھی ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کریں گے، جس کی مثال شمالی کوریا ہے۔'
یاد رہے کہ حالیہ مہینوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان ایک دوسرے کو شدید دھمکیاں دیتے رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ دھمکی دے چکے ہیں کہ وہ شمالی کوریا کو مکمل طور پر تباہ کر دیں گے۔










