’بحران کا قطر کے 2022 فٹبال ورلڈ کپ پر کوئی منفی اثر نہیں پڑا‘

    • مصنف, عمردراز ننگیانہ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، قطر

محض چند لاکھ کی آبادی والے قطر کو اتنے بڑے اجتماع کی میزبانی کیسے مل گئی؟ وہاں تو ناروا سلوک کی وجہ سے تعمیرات کرنے والے مزدور مر رہے ہیں اور پھر اس قدر گرمی میں فٹبال کے میچ دیکھنے کون جائے گا۔ قطر سے 2022 ورلڈ کپ واپس لیا جائے۔

اس طرح کے سوالات اور مطالبات کا سامنا قطر کو گذشتہ سات برسوں سے ہے جب سے اس نے کھیلوں کی دنیا کے سب سے بڑے اجتماع یعنی سنہ 2022 کے فٹ بال کے عالمی مقابلوں کی میزبانی کے لیے بولی لگائی تھی اور جیت گیا۔

رواں برس کے آغاز ہی میں شاید قطر کو کچھ امید ہو چلی تھی کہ میزبانی کے حقوق اب اس سے واپس نہیں لیے جا سکتے، کیونکہ وقت شاید کم بچا ہے۔ اسی وقت تاہم قطر کو ایک نئی مشکل آن پڑی۔

چار ماہ قبل ہمسایہ ممالک سعودی عرب، بحرین، متحدہ عرب امارات اور ساتھ ہی مصر نے اس کے ساتھ روابط ختم اور مکمل قطع تعلقی کا اعلان کر دیا۔ سعودی عرب کے ساتھ اس کا واحد زمینی رابطہ تھا جو متحدہ عرب امارات تک جاتا تھا۔

ورلڈ کپ کے لیے تعمیر کیے جانے والے آٹھ میں سے سات سٹیڈیم کے لیے تعمیراتی مواد قطر اسی راستے سے منگواتا تھا۔

بحران کے وقت زیادہ تر تعمیراتی کمپنیوں کے پاس محض دو ماہ کا اضافی مواد میسر تھا جبکہ بحران ختم ہونے کے تاحال امکانات نظر نہیں آتے۔

یہ بھی خدشات تھے کہ بحران کے طوالت اختیار کرنے کی صورت میں قطر کا محاصرہ کرنے والے ممالک کے ساتھ وفادار یا مواد کی قلت سے تنگ کمپنیاں قطر میں منصوبے ختم کر دیں گی۔

ایسے میں 2022 کے عالمی فٹبال مقابلوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گیا؟

قطری حکومت کو شاید اس کا اندازہ تھا۔ 2022 کا ورلڈ کپ منعقد کروانے کی ذمہ دار قطر کی سپریم کمیٹی برائے ڈلیوری اینڈ لیگیسی کے سربراہ حسن ال تھوادی کہتے ہیں انھوں نے جلد اور موثر اقدامات اٹھائے۔

بی بی سی سے ایک حالیہ انٹرویو کے دوران انھوں نے بتایا کہ بحران کی نظر ہونے والے تجارتی راستوں کے متبادل تلاش کر لیے گئے جہاں سے قطر کو تمام تر تعمیراتی مواد کی ترسیل جاری ہے۔

’ہم نے فوری طور پر چائنا، ملائیشیا، ترکی اور اومان سے یہ مواد منگوانا شروع کر دیا ہے۔ آرائشی سامان جو ہم پہلے متحدہ عرب امارات سے لاتے تھے اب اومان سے آتا ہے، اسی طرح سٹیل یا سریا چین اور ملائیشیا سے منگوایا جا رہا ہے۔‘

قطر کی حمد نامی بندرگاہ اور پاکستان میں کراچی کی بندرگاہ کے درمیان راستہ کھول دیا گیا ہے جس کے ذریعے ضرورت کا تعمیراتی سامان قطر میں منگوایا جاتا ہے۔

’یہ اقدامات قطر کی کسی بھی مسئلے سے عہدہ برا ہونے کی صفت کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس طرح قطر میں 2022 ورلڈ کپ کی تیاریوں پر بحران کا کوئی منفی اثر نہیں پڑا۔‘

حال ہی میں آٹھ میں سے پہلا سٹیڈیم ’خلیفہ سٹیڈیم‘ دوحہ میں تیار ہونے کے بعد کھول دیا گیا تھا۔ ال تھوادی کے مطابق دو مزید سٹیڈیم آئندہ ماہ کھول دیے جائیں گے جبکہ قطر سنہ 2020 تک تمام سٹیڈیم کی تعمیر مکمل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

تاہم بی بی سی کی ٹیم کو ان میں سے ایک زیرِ تعمیر الخور کے علاقے کے پاس واقع ’بیت سٹیڈیم‘ کا مختصر دورہ کروایا گیا۔

40 ہزار تماشائیوں کی گنجائش والے بدوؤں کے خیمہ کی شکل والے اس سٹیڈیم میں 2022 ورلڈ کپ کا سیمی فائنل میچ کھیلا جائے گا۔

تکمیل کے قریب اس سٹیڈیم پر کام بظاہر جاری تھا جہاں مزدور بھاری آلات کی مدد سے آخری مراحل کے کام میں مشغول دکھائی دیے۔

ال تھوادی کے مطابق نہ تو کسی کمپنی نے کسی منصوبے کو چھوڑنے کا ارادہ ظاہر کیا اور نہ ہی انہیں مواد یا افرادی قوت کی قلت کا سامنا ہے۔

یاد رہے کہ قطر کو 2022 ورلڈ کپ کے میدانوں، ان سے ملحقہ سہولیات اور دیگر منصوبوں کی تکمیل کے لیے سالانہ تقریباً 30000 افرادی قوت کی ضرورت ہے جو وہ زیادہ تر جنوبی ایشیائی ممالک سے پوری کرتا ہے جہاں سے لاکھوں کی تعداد میں تارکینِ وطن فی الوقت قطر میں مقیم ہیں۔

قطر ان مزدوروں کے بنیادی انسانی حقوق کی پامالی خصوصاً ورلڈ کپ کے منصوبوں پر کام کرنے والوں کو مناست حالاتِ زندگی فراہم نہ کرنے جیسے الزامات میں آ کر دنیا کی تنقید کا نشانہ بنتا رہا ہے۔ یہ الزامات اب بھی پوری طرح ختم نہیں ہوئے۔

تاہم ال تھوادی کا دعویٰ ہے کہ قطر میں گذشتہ چند برسوں میں قوانین میں تبدیلیوں کے ساتھ زمینی حقائق بدل چکے ہیں۔

قطر نے کفالا کا نظام ختم کر دیا ہے، ملک میں قوانین پر سختی سے پاسداری کروانے کے لیے انسپکٹروں کی تعداد بڑھا دی گئی ہے اور بینک کے ذریعے ہر مزدور کو تنخواہ کی ادائیگی جیسے نئے قوانین لاگو کیے گئے ہیں۔

ال تھوادی کے مطابق سپریم کمیٹی برائے ڈلیوری اینڈ لیگیسی کی جانب سے دیگر اقدامات کے علاوہ حال ہی میں اِمپیکٹ نامی ایک آزاد برطانوی محتسب کمپنی کی خدمات حاصل کی گئیں ہیں جو انہیں تعمیراتی معیار اور اس پر کام کرنے والے مزدوروں کے حالات کی بہتری کے حوالے سے سالانہ رپورٹ جاری کرتی ہے جس تک عوام کی رسائی ہوتی ہے۔

تاہم بین الاقوامی میڈیا یا بیرونی مبصرین کے لیے تاحال قطر میں قائم مزدوروں کے کیمپوں تک آزادانہ رسائی ممکن نہیں۔ تاہم ال تھوادی کا کہنا ہے قطر خطے میں واقع ان چند ممالک میں سے ایک ہے جہاں ہیومن رائٹس واچ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دیگر بین الاقوامی اداروں کو بلا روک ٹوک رسائی حاصل ہے اور وہ قطر کے اندر رہ کر قطری حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔

’یہ ایک غلط فہمی ہے کہ قطر بین الاقوامی مبصرین کو روکتا ہے۔ شفافیت کے معاملے میں قطر کے کردار پر انگلی نہیں اٹھائی جا سکتی۔ ہم علاقے میں وہ واحد ملک ہیں جو بلا روک رسائی دیتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ صحافیوں کا معاملہ دوسرا ہے۔ ان کے لیے چند قوانین ہیں جن کی پاسداری کرنا ان پر لازم ہے۔

’ماضی میں کچھ صحافیوں نے ان قوانین کی خلاف ورزیاں کیں جس کی وجہ سے انہیں مسائل کا سامنا کرنا پڑا تاہم جو قوانین پر عمل درآمد کرے اس کو مکمل اجازت ہے۔‘

تاہم ایسے قوانین میں ایک صحافی کا آزادانہ بغیر نگرانی کے آج بھی مزدوروں کے کیمپوں تک جانا اور ان سے بات کرنا تقریباً ناممکن ہے۔