’تمام دوحہ میرے آرٹ کی نمائش کرتی ایک آرٹ گیلری ہے‘

    • مصنف, عمر دراز ننگیانہ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دوحہ

خلیجی ممالک کے درمیان رواں برس جون میں شروع ہونے والے بحران سے چند روز قبل قطر کے امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی کی ایک متنازعہ تقریر قطر کی سرکاری نیوز ایجنسی کے ویب سائٹ پر سامنے آئی۔

اس تقریر میں انہوں نے مبینہ طور پر سعودی عرب اور امریکہ کی ایران کی طرف سخت پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور ایران کو علاقائی طاقت قرار دیا تھا تاہم قطر اس بیان کی تردید کر چکا ہے۔

قطری حکومت کا کہنا تھا کہ قطر نیوز ایجنسی کی ویب سائٹ کو ہیک کر کے اس پر قطری امیر سے منسوب غلط خبر چلائی گئ۔

چند حلقوں کا ماننا ہے کہ یہ قطر اور عرب ممالک کے درمیان تنازعے کا باعث بنا اور حالیہ بحران کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔ قطر کے رہائشی بہرحال آغاز ہی سے قطر کے امیر کے ساتھ یکجہتی کا اظہار مختلف طریقوں سے کر تے رہے ہیں۔

ان میں سب سے نمایاں ایک قطری فنکار احمد ال معاضید ہیں۔ 'تمیم المجد' یعنی 'عظیم الشان تمیم' کے عنوان سے تخلیق کردہ ان کا مصوری کا ایک نمونہ نہ صرف ملک میں بلکہ دیگر ممالک تک ملکوں تک پہنچ چکا ہے۔

قطر میں حد نگاہ تک ان کا تخلیق کردہ یہ پوسٹر اونچی عمارتوں سے لے کر ہوٹلوں، دفاتر اور کاروباری سنٹروں تک ہر طرف یہ پوسٹر نظر آتا ہے۔

قطری امیر کا یہ پوسٹر اس قدر پذیرائی حاصل کر چکا ہے کہ اس کے تخلیق کار کو اس کی اصل جلد کے عوض لاکھوں امریکی ڈالروں کی پیشکش ہوئی۔

احمد ال معاضید نے اس پیشکش کے باوجود اسے بیچنے سے انکار کر دیا بلکہ اسے تحفہ کے طور پر قطر کے امیر کو دے دیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ مصوری کا یہ نمونہ انمول ہے جس کی قیمت کوئی ادا نہیں کر سکتا۔

ان کی اس سوچ کے پیچھے کیا تحریک ہے؟ اور یہ مصوری نمونہ تخلیق کرنے کا خیال انہیں کیسے آیا، ان سوالات کا انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دیا۔

احمد ال معاضید کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک کے امیر کے حوالے سے سامنے آنے والی غلط خبر پھیلنے اور کچھ ممالک کی جانب سے انہیں تنقید کا نشانہ بنائے جانے پر دکھ ہوا۔

' تمیم المجد' کا مطلب ہے عظیم الشان تمیم۔ جب یہ بحران شروع ہوا تو شیخ تمیم کے بارے میں جو غلط خبریں آئیں وہ مجھے اچھی نہیں لگیں۔ اس کا جواب میں نے اپنے آرٹ سے اس پوسٹر کی شکل میں دیا۔ پھر میں نے اپنے سوشل میڈیا سے اس کو شائع کیا جہاں سے لوگوں نے اس کو اٹھا لیا۔'

ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو ایسا کرنے پر کسی نے مجبور نہیں کیا تھا۔ 'ہمیں اچھا نہیں لگا جو بھی شیخ تمیم کے ساتھ ہوا تھا کیونکہ ہم سب ان سے محبت کرتے ہیں اور ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔'

یہی وجہ تھی کہ مصوری کا یہ نمونہ بہت جلد ہر طرف پھیل گیا۔ احمد جنہیں اس سے قبل شاید بہت زیادہ لوگ نہیں جانتے تھے اس وقت قطر میں سب سے زیادہ پہچانے جانے والے فنکار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں نے ایسا کبھی نہیں سوچا تھا کہ ان کا کام اس حد تک پھیل جائے گا۔ 'ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے تمام دوحہ میرے آرٹ کی نمائش کرتی ایک آرٹ گیلری ہے۔'

وہ کہتے ہیں ان کے جاننے والے دوسرے ممالک سے انہیں تصاویر بھیجتے ہیں جہاں ان کا بنایا ہوا پوسٹر پہنچ چکا ہے۔

احمد ال معاضید کا کہنا تھا کہ اس فن پارے کا اصل نمونہ خریدنے کے لیے بہت سے امیر کبیر لوگوں کی طرف سے انہیں بے شمار پیشکش کی جا چکی ہیں جس میں دس ملین امریکی ڈالر تک کی پیشکش بھی شامل تھی مگر انہوں نے انکار کر دیا کیونکہ یہ پینٹنگ ان کے لیے انمول ہے اور اس کی حقیقی جگہ صرف قطر کے امیر شیخ تمیم کے پاس ہی ہو سکتی تھی۔

اس فن پارے کی تخلیق سے ان کی زندگی کی ایک دیرینہ خواہش بھی پوری ہو گئی جب انھیں قطر کے امیر سے ملاقات کا موقع ملا۔

قطر کے امیر شیخ تمیم نے اس ڈیجیٹل تصویر کی بے پناہ مقبولیت کے بعد احمد کو اپنے محل پر خصوصی طور پر مدعو کیا جہاں احمد نے اس نمونے کی اصل جلد ان کو تحفے میں دی۔

'مجھے فخر ہے کہ میں نے شیخ تمیم سے ملاقات کی اور اس پینٹنگ کا اصل نمونہ ان کے حوالے کیا۔ وہ میری زندگی کا سب سے بڑا دن تھا، میں وہ دن کبھی نہیں بھول پاؤں گا۔'

احمد ال معاضید کا کہنا تھا کہ انہیں بچپن سے آرٹ کا شوق تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ فن کسی سکول سے نہیں بلکہ خود سے سیکھا ہے اور روزانہ تجربے سے اسے بہتر کر رہے ہیں۔