قطر میں کفالہ کی جگہ نیا قانون کتنی بڑی تبدیلی؟

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کو قطر کے غیر ملکی مزدوروں کے لیے کفالہ کی جگہ نئے قانون سے کچھ زیادہ پر امید نہیں۔

ان کے مطابق نئے قانون میں لفاظی کے علاوہ کچھ زیادہ تبدیلی نہیں کی گئی۔ کفالہ کے سسٹم کو ختم کر کے نیا کنٹریکٹ پر مبنی نظام لایا گیا ہے حقیقی طور پر کچھ زیادہ تبدیل نہیں کیا جا رہا۔

2022 کے عالمی فٹ بال کے مقابلوں کے میزبانی کرنے والے قطر میں 20 لاکھ سے زائد غیر ملکی مزدور اور تارکین وطن کام کرتے ہیں۔

منگل کو قطر نے کفالہ کو ختم کر کے نیا قانون لاگو کیا ہے جس کا مقصد غیر ملکی مزدوروں کو کام کے بہتر مواقع اور تحفظ کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔

کفالہ سسٹم کے تحت قطر میں کام کرنے والے کسی بھی شخص کو اپنی کمپنی کی اجازت کے بغیر نوکری تبدیل کرنے کے اجازت نہیں تھی اور کوئی کمپنی یہ اجازت نہیں دیتی یعنی یا تو آپ ایک ہی کمپنی کے ساتھ اس ہی کی شرائط پر کام کرتے ورنہ اس کو چھوڑ دیں۔

چھوڑنے کی صورت میں آپ کو گھر واپس بھیج دیا جاتا تھا اور آپ دو سال قبل قطر کام کی غرض سے واپس نہیں آ سکتے تھے۔

قطر حکومت کے مطابق نیا قانون اس کو تبدیل کرتا ہے۔ اب کوئی بھی شخص اپنی کمپنی کی اجازت کے بغیر نوکری تبدیل کر سکتا ہے تاہم اس کے لیے بھی شرائط عائد کی گئی ہیں۔ نئے قانون کے مطابق نوکری تبدیل کرنے کے لیے آپ کو اپنی موجودہ کمپنی کے ساتھ کنٹریکٹ کی مدت پوری کرنا ہو گی جس کا کم از کم دورانیہ دو سال ہو گا۔

غیر معینہ مدت کا کنٹریکٹ ہونے کے صورت میں آپ کو کم از کم 5 سال پہلی کمپنی کے ساتھ کام کرنا ضروری ہے۔ انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق یہ تبدیلی نہ کافی اور غیر موزوں ہے۔

ان تنظیموں کا قطر کے کفالہ سسٹم پر دوسرا نقطہ اعتراض ملک میں تارکین وطن کے داخلے اور خروج کا متنازع نظام تھا۔ قدیم نظام کے مطابق قطر میں مقیم کسی بھی مزدور کو ملک چھوڑنے کے لیے اپنی کمپنی سے باقاعدہ اجازت لینی پڑتی ہے۔ ایسے پرمٹ کے بغیر آپ ملک چھوڑ کر نہیں جا سکتے چاہے کتنی ہی عجلت کیوں نہ ہو۔

اگرچہ زیادہ تر ادارے با آسانی یہ پرمٹ فراہم کر دیتے ہیں اور ان کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ کسی بھی وجہ سے اپنے ورکر کو یہ اجازت نامہ نہ دیں۔

نئے لاگو شدہ قانون کے مطابق ایسے تمام ورکر ایک نئی قائم کردہ کمیٹی میں درخواست دے کر ملک سے اخراج کا لازمی اجازت نامہ حاصل کر سکتے ہیں۔ تاہم ناقدین کے مطابق تبدیلی تب ہوتی اگر اس قسم کے پرمٹ کو مکمل طور پر ختم کر دیا جاتا۔

ان کے مطابق معاملہ ابھی بھی ملکان کے ہاتھ میں ہے جو قانون میں موجود جھول کو ورکرز کے خلاف استعمال کر سکتے ہیں تاہم قطر کی وزارات کا کہنا ہے کہ کمیٹی کو پرمٹ کے معاملات نمٹانے میں انتہائی فعال بنایا جائے گا۔ اس پر کس حد تک عمل در آمد کیا جاتا ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا۔

لاگو ہونے والے نئے قانون میں یہ شق بھی رکھی گی ہے کہ اگر کوئی کمپنی یا مالک اپنے ملازم کا پاسپورٹ ضبط کرتا پکڑا گیا تو اس کو 25000 قطری ریال تک جرمانہ کیا جائے گا جبکہ نئے قانون پر تنقید کرنے والوں کا کہنا کے قانون میں موجود بیشمار جھول اداروں کو پاسپورٹ ضبط کرنے کے مواقع فراہم کر دیں گے۔

قطری حکومت اس بات پر بضد ہے کے نیا قانون غیر ملکی مزدوروں کے لیے آسانیاں پیدا کرے گا جبکہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی تنظیمیں اس پر مزید تبدیلیاں لانے پر زور دے رہی ہیں۔ قطری حکومت نے عالمی برادری سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے قانون کے نتائج کے سامنے آنے کا انتظار کیا جائے۔