ٹرمپ ذہنی طور پر بوکھلاہٹ کا شکار اور خودکش مشن پر ہیں: شمالی کوریا

ٹرمپ، کم جونک ان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان

امریکہ کے محکمۂ دفاع پینٹاگون کا کہنا ہے کہ امریکی بمبار طیاروں نے کسی بھی خطرے سے نمٹنے کی صلاحیتوں کو جانچنے کے لیے شمالی کوریا کے قریب سمندر پر پروازیں کی ہیں۔

دوسری جانب شمالی کوریا کے وزیرِ خارجہ ری یونگ ہو نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ'خودکش مشن' پر ہیں۔

شمالی کوریا کے وزیرِ خارجہ ری یونگ ہو نے اپنے خطاب میں صدر ٹرمپ کی جنرل اسمبلی میں کئی گئی تقریر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'مسٹر ٹرمپ ذہنی طور پر بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، ان پر طاقت کا خبط سوار ہے اور وہ اس ناقابل واپس غلطی کو ناگزیر بنا رہے ہیں کہ شمالی کوریا امریکی سرزمین کو راکٹوں سے نشانہ بنا سکتا ہے۔'

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے وزیر خارجہ کی تقریر کے جواب میں کہا ہے کہ اگر وہ اپنی جذباتی بیان بازی یوں ہی جاری رکھتے ہیں تو پھر مسٹر ری اور کم بہت دیر تک نہیں رہیں گے۔

امریکی جنگی جہاز

،تصویر کا ذریعہUS PACIFIC COMMAND

،تصویر کا کیپشنامریکی بمبار جہازوں نے شمالی کوریا کے شمالی ساحل کے آس‎ پاس پروازیں کی ہیں

مسٹر ٹرمپ نے اس کے تعلق سے اپنی ٹویٹ میں کہا: 'ابھی اقوام متحدہ میں شمالی کوریا کے وزیر خارجہ کے خطاب کو سنا۔ اگر وہ لٹل راکٹ مین کی ہی سوچ کی صدا بلند کرتے ہیں تو پھر وہ بہت دیر تک نہیں رہیں گے۔'

شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے تعلق سے حالیہ دنوں میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا گيا ہے۔

شمالی کوریا کے وزیر خارجہ ری یونگ کے خطاب سے زرا پہلے پینٹاگون نے کہا تھا کہ اس کے جنگی جہازوں نے شمالی اور جنوبی کوریا کی سرحد سے کافی دور شمال میں پرازیں کی ہیں۔

پینٹاگون کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا کہ یہ مشن امریکی ارادے کا ثبوت ہے اور واضح پیغام ہے کہ صدر( ٹرمپ) کے پاس کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے متعدد فوجی راستے موجود ہیں۔

شمالی کوریا کی فوج

،تصویر کا ذریعہAFP PHOTO/KCNA VIA KNS

،تصویر کا کیپشنسنیچر کے روز شمالی کوریا کے دارالحکومت پیونگ یانگ میں ایک بڑی امریکہ مخالف ریلی کا انعقاد کیا گيا تھا

'ہم امریکی سرزمین اور اپنے اتحادیوں کے دفاع کے لیے تمام فوجی صلاحیتوں کو استعمال کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘

ادھر شمالی کوریا کے وزیرِ خارجہ ری یونگ ہو نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ'خودکش مشن' پر ہیں۔

خیال رہے کہ صدر ٹرمپ نے جنرل اسمبلی میں کی گئی تقریر میں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا تھا کہ 'راکٹ مین خود کش مشن پر ہے'۔

شمالی کوریا کے وزیرِ خارجہ ری یونگ ہو نے کہا ہے کہ مسٹر ٹرمپ کو اپنی تقریر کی قیمت چکانا ہو گی جس میں انھوں نے کہا تھا کہ امریکہ یا اس کے اتحادیوں کو دفاع کرنے کی ضرورت پیش آئی تو وہ شمالی کوریا کو مکمل طور پر تباہ کر دیں گے۔

اس سے پہلے جمعے کو شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے کہا تھا کہ ’بوکھلاہت کے شکار‘ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کے بعد انھیں یقین ہو گیا ہے کہ وہ شمالی کوریا کے لیے ہتھیار بنانے کے معاملے میں صحیح ہیں۔

کم جونگ ان

،تصویر کا ذریعہReuters/KCNA

سرکاری میڈیا کے ذریعے ایک غیر معمولی بیان میں شمالی کوریا کے رہنما نے کہا کہ صدر ٹرمپ کو اقوام متحدہ میں اپنے حالیہ خطاب پر 'بھاری قیمت' چکانی پڑے گی۔

شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ہونہاپ کے مطابق کم جونگ ان کا کہنا تھا کہ ’امریکی صدر کے بیان کے بعد مجھے یقین ہو گیا ہے کہ میں نے خوفزدہ یا رکنے کی بجائے، جو راستہ منتخب کیا وہ درست ہے اور اسی پر چلنا ہے۔‘

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے ایک نئے حکم نامے پر دستخط کیے جس سے اس پر عائد کی جانے والی پابندیوں کو مزید تقویت ملے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ

،تصویر کا ذریعہReuters

اس حکم نامے سے امریکی محکمۂ خزانہ کو ایسی کمپنیوں اور مالیاتی اداروں کو نشانہ بنانے کا اختیار مل گیا ہے جن کے شمالی کوریا کے ساتھ کاروباری تعلقات ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ چین کے مرکزی بینک نے بھی چین کے دوسرے بینکوں کو پیانگ یانگ کے ساتھ کاروبار روکنے کے لیے کہا ہے۔

شمالی کوریا کی جانب سے حالیہ ہفتوں کے دوران جوہری اور بیلسٹک میزائلوں کے مسلسل تجربات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدیگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے جمعرات کو نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا: 'یہ اقدامات آمدن کے ان ذرائع کو ختم کرنے کے لیے اٹھائے گئے ہیں جو شمالی کوریا کو مہلک ہتھیار بنانے کے لیے رقم مہیا کرتے ہیں۔'

ٹرمپ کا اشارہ شمالی کوریا کی ٹیکسٹائل، ماہی گیری، آئی ٹی اور مینوفیکچرنگ انڈسٹری کی جانب تھا۔