میخائل کلاشنکوف کے مجسمے پر نازی جرمنی کی رائفل

مجسمہ

،تصویر کا ذریعہReuters

روس کے دارالحکومت ماسکو میں مشہور زمانہ اے کے 47 یعنی کلاشنکوف بنانے والے کی رونمائی کی گئی لیکن اس مجسمے میں جلد ہی تبدیلی کی جائے گی۔

تبدیلی کی وجہ یہ ہے کہ میخائل کلاشنکوف کے مجسمے پر ان کی تخلیق کردہ اے کے 47 نہیں بلکہ جرمن رائفل ہے۔ اس مجسمے پر کلاشنکوف کے مختلف ڈیزائنز کندہ کیے گئے ہیں۔

میخائل کے مجسمے کی رونمائی اعلیٰ حکام کی جانب سے ماسکو میں اسی ہفتے کی گئی تھی۔ تاہم اسلحے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مجسمے پر ایس ٹی جی 44 رائفل ہے جس کو نازی فوج کے دوسری جنگ عظیم میں استعمال کیا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ مجسمے کو درست کیا جائے گا۔

مجسمہ

،تصویر کا ذریعہReuters

روس کے ملٹری ہسٹوریکل سوسائٹی کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نے کہا کہ 'مجسمہ بنانے والے سے غلطی ہوئی اور اس نے ایس ٹی جی کی جگہ کلاشنکوف لگانے پر کام شروع کر دیا ہے۔

اس سوسائٹی نے 25 فٹ بلند یہ مجسمہ بنوایا ہے جس میں میخائل کے ہاتھ میں اپنی ایجاد کردہ اے کے 47 ہونی چاہیے تھی۔

مجسمہ

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنمجسمے پر سے جرمن رائفل کو ہٹائے جانے کا کام شروع ہو گیا ہے

روسی اسلحے کی تاریخ کے ماہر یوری پشولوک نے سب سے پہلے اس غلطی کی نشاندہی کی اور اس کے بعد کئی ماہرین نے اس غلطی کی تصدیق کی۔

مجسمہ بنانے والے صلاوت شربکوو نے جمعہ کو کہا کہ وہ اس غلطی کو درست کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ اے کے 47 روس کی سب سے مشہور آٹومیٹک رائفل ہے اور اس رائفل کو روس کے وزیر ثقافت نے ملک کے 'ثقافتی برانڈ' قرار دیا۔

میخائل کلاشنکوف نے یہ رائفل 1946 میں تیار کی تھی اور یہ دنیا میں سب سے زیادہ جانی پہچانی رائفل کیونکہ دنیا میں کسی جگہ بھی مسلح تصادم ہو اس رائفل کو استعمال کیا جاتا ہے۔

مجسمہ

،تصویر کا ذریعہAFP

اگرچہ میخائل کو سرکاری اعزاز س لیکن انھوں نے خود اس رائفل کو ایجاد کرنے سے زیادہ رقم نہیں بنائی۔ انھوں نے ایک بار کہا کہ وہ زیادہ رقم بناتے اگر رائفل کی جگہ انھوں نے گھاس کاٹنے کی مشین ایجاد کی ہوتی۔

میخائل کا انتقال 94 سال کی عمر میں 2013 میں ہوا۔

ہیوگو شمیسر نے ایس ٹی جی 44 (Sturmgewehr 44) ایجاد کی تھی اور اس کو پہلی بار ایڈولف ہلالر کی فوج نے 1944 میں استعمال کیا تھا۔

چند ماہرین کہتے ہیں کہ ایس ٹی جے 44 اور اے کے 47 میں مماثلت ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد روس نے ہیوگو کو سوویت یونین میں کام کرنے پر مجبور کیا تھا۔

۔