،تصویر کا کیپشنافغانستان کی جنگ کے دوران جنرل عبدالرشید دوستم کی فوج میں شامل بچے۔ یہ تصویر سنہ انیس سو چھانوے کی ہے۔
،تصویر کا کیپشنسنہ انیس سو ترانوے میں اے کے 47 سے مسلح سربیائی فوجی گشت کر رہے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنکانگو میں یونین آف کانگولیز پیٹریاٹس کی مسلح تنظیم میں شامل بچے فوجی۔
،تصویر کا کیپشنعراق کے شہر فلوجہ میں یہ تصویر تیرہ جون سنہ دو ہزار تین میں لی گئی جس میں ایک بچہ کلاشنکوف اٹھائے کھڑا ہے۔
،تصویر کا کیپشنبھارت کے زیر انتظام کشمیر میں علیحدگی پسند گروہ بھی کلاشنکوف استعمال کرتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنشام میں ایک باغی کلاشنکوف اٹھائے نشانچیوں سے بچتے ہوئے ایک شکستہ دیوار سے نکل کر بھاگ رہا ہے۔
،تصویر کا کیپشنافریقہ کے مختلف علاقوں میں مختلف مسلح گروہوں میں شامل کم عمر بچوں کے ہاتھوں میں بھی یہ ہتھیار اکثر و بیشتر نظر آتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنمشرق وسطیٰ میں جاری مسلح شورشوں میں بھی یہ ہتھیار ہر دوسرے شخص کے ہاتھ میں نظر آتا ہے حتی کہ عورتیں بھی اسے آسانی سے استعمال کر سکتی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنپاکستان میں افغانستان پر روس کے حملے سے قبل اس ہتھیار کا کوئی نام بھی نہیں جانتا تھا۔
،تصویر کا کیپشنکلاشنکوف بنیادی طور پر روسی فوج کے لیے بنائی گئی تھی لیکن یہ باغیوں گروہوں ، نجی سکیورٹی گارڈز اور دنیا بھر کی قانونی اور غیر قانونی مسلح تنظیموں میں بھی یکساں مقبول ہے۔
،تصویر کا کیپشنکالعدم تنظم القاعدہ کے سربراہ اوسامہ بن لادن بھی اکثر تصاویر میں کلاشنکوف اٹھائے نظر آتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشناردن میں رضا کار فوجی خیلج کی جنگ کے دوران اے کے 47 سے جنگ کی تربیت حاصل کرتے ہوئے۔
،تصویر کا کیپشنعراقی فوج میں شامل سپاہی اے کے 47 کی تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ یہ تصویر سنہ دو ہزار پانچ کی ہے۔
،تصویر کا کیپشنلیبیا کے شہر طرابلس کے باہر بنی ولید کے علاقے میں ایک فوجی ہوائی فائرنگ کرکے خوشی کا اظہار کر رہا ہے۔ یہ تصویر تین ستمبر دو ہزار گیارہ میں لی گئی۔
،تصویر کا کیپشندنیا میں جہاں بھی کوئی جنگ یا مسلح تصادم جاری ہے اس کا کلاشنکوف ایک لازمی جز ہے۔
،تصویر کا کیپشنکلاشنکوف ایک بہت ہی سادہ اور استعمال میں آسان ہتھیار ہے اور اس کی دیکھ بھال میں کوئی پیچیدگی پیش نہیں آتی۔
،تصویر کا کیپشنکلاشنکوف دنیا کا مشہور ترین ہتھیار بن گیا اور درجنوں ملکوں کی فوجیں اسے استعمال کر رہی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنمیخائل کلاشنکوف نے اس ہتھیار سے لاکھوں افراد کی ہلاکت پر کبھی معافی نہیں مانگی ان کا کہنا تھا کہ یہ ہتھیار انھوں نے روس کے دفاع کے لیے بنایا تھا۔
،تصویر کا کیپشنمیکسیکو میں منشیات کا کاروبار کرنے والوں کی کلاشنکوف بندوقیں جن پر سونے کا پانی چڑھا ہوا ہے۔