ٹوائلٹ میں کیوں بہائے گئے ہزاروں یورو؟

،تصویر کا ذریعہPA/Getty
سوئٹزرلینڈ کے پراسیکیوٹرز جینوا میں دسیوں ہزار یورو کے ٹوائلٹ میں فلش کر دیے جانے کے معاملے کی تفتیش کر رہے ہیں۔
پانچ سو یورو کے نوٹ یو بی ایس بینک اور اس کے پاس کے تین ریستورانوں کے ٹوائلٹس میں پائے گئے۔
اس سے ملحق پائپ لائنز کے پھنس جانے کے بعد اس کی مرمت اور صفائی پر مبینہ طور پر ہزاروں سوئس فرینک خرچ ہوئے ہیں۔
خیال رہے کہ یورو کے بڑے کرنسی نوٹ غیر قانونی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے خدشے کے تحت سنہ 2018 میں واپس لیے جانے والے ہیں۔
بہر حال وہ قانونی ٹینڈر کے طور پر جائز رہے ہیں گے لیکن ان کے استعمال کے متعلق یورپی کمیشن کی تحقیقاتی رپورٹ کے بعد یورپیئن سینٹرل بینک اب ان کا چھپائی بند کر دے گا۔
سوئٹزرلینڈ میں نوٹ کو برباد کرنا جرم نہیں ہے لیکن استغاثہ نے کہا ہے کہ وہ اس غیر معمولی دریافت کے بعد ان حالات کی جانچ کر رہے ہیں جس کے تحت ایسا کیا گيا ہے۔
جنیوا کے دفتراستغاثہ سے ونسنٹ ڈیورنڈ نے بی بی سی کو بتایا: ’ہم یہ پتہ چلانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ نوٹ کہاں سے آئے اور کیا اس کے پس پشت کسی جرم کا ارتکاب تو نہیں ہوا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’واضح طور پر یہ بہت حیران کن ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فرانسیسی زبان کے اخبار میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس سلسلے میں ایک وکیل سے پوچھ گچھ کی گئی ہے لیکن ڈیورنڈ نے اس مقامی رپورٹ پر کسی تبصرے سے اجتناب کیا۔








