میانمار نے ’جنگ بندی‘ کی پیشکش مسترد کر دی

روہنگیا

،تصویر کا ذریعہEMRUL KAMAL

،تصویر کا کیپشنایک روہنگیا مسلمان جو نو ستمبر کو بنگلہ دیش کی سرحد پر پہنچنے والوں میں شامل ہیں

میانمار کے حکام نے رخائن میں روہنگیا باغیوں کی جانب سے یکطرفہ جنگ بندی کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’دہشت گردوں‘ سے مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔

خیال رہے کہ ارکان روہنگیا سیلویشن آرمی (آرسا) نامی تنظیم نے میانمار کی فوج سے بھی کہا تھا کہ وہ ہتھیار ڈال دیں۔

تاہم اتوار کو حکومتی ترجمان زا ہتے نے کہا ہے کہ میانمار ’دہشت گردوں‘ سے مذاکرات نہیں کرے گا۔

روہنگیا مسلمانوں نے الزام لگایا ہے کہ فوج اور بودھسٹ مسلمانوں پر مظالم کیا جا رہا ہے اور ان کی آبادیوں کو آگ لگائی جا رہی ہے۔

میانمار کی حکومت نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوج روہنگیا ’دہشت گردوں‘ کے خلاف لڑ رہی ہے۔

اتوار کو ٹویٹر پر حکومتی ترجمان نے اپنے پیغام میں کہا کہ ’ہماری دہشت گردوں کے ساتھ بات چیت کی کوئی پالیسی نہیں ہے۔‘

اس سے قبل بین الاقوامی امدادی ادارے ریڈ کراس نے میانمار میں روہنگیا باغیوں کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کو 'بڑی مثبت پیش رفت' قرار دیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ اس سے متاثرین کی امداد کے لیے محفوظ رسائی مل سکے گی۔

یہ بات آئی سی آر سی کے اہلکار جوئے سنگہال نے اتوار کو بی بی سی سے گفتگو میں کہی۔ آرسا کی جانب سے 25 اگست کو ایک پولیس چوکی پر حملے کے جواب میں میانمار کی فوج وسیع پیمانے پر آپریشن کر رہی ہے۔

تب سے لے کر اب تک کچھ اندازوں کے مطابق تقریباً تین لاکھ روہنگیا نے رخائن چھوڑ کر پڑوسی ملک بنگلہ دیش میں پناہ لی ہے۔

میانمار

،تصویر کا ذریعہAFP

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ امدادی تنظیموں کو میانمار سے جان بچا کر بھاگنے والے روہنگیا کی مدد کے لیے فوری طور پر سات کروڑ ستر لاکھ ڈالر درکار ہیں۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ خوراک، پانی اور طبی امداد کی اشد ضرورت ہے۔

میانمار کی آبادی کی اکثریت بدھ مت سے تعلق رکھتی ہے۔ میانمار میں ایک اندازے کے مطابق دس لاکھ روہنگیا مسلمان ہیں. ان مسلمانوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بنیادی طور پر غیر قانونی بنگلہ دیشی مہاجر ہیں۔ حکومت نے انھیں شہریت دینے سے انکار کر دیا ہے تاہم یہ یہ ميانمار میں کئی دہائیوں سے رہ رہے ہیں. ریاست رخائن میں 2012 سے فرقہ وارانہ تشدد جاری ہے. اس تشدد میں بڑی تعداد میں لوگوں کی جانیں گئی ہیں اور ایک لاکھ سے زیادہ لوگ بےگھر ہوئے ہیں۔

بڑی تعداد میں روہنگیا مسلمان آج بھی خستہ کیمپوں میں رہ رہے ہیں. انھیں وسیع پیمانے پر امتیازی سلوک اور زیادتی کا سامنا کرنا پڑتا ہے. لاکھوں کی تعداد میں روہنگیا بغیر دستاویزات کے بنگلہ دیش میں رہ رہے ہیں جو دہائیوں پہلے میانمار چھوڑ کر وہاں آئے تھے۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے میانمار کی فوج کی طرف سے بنگلہ دیش کے ساتھ سرحد پر بارودی سرنگیں بچھائے جانے کی تصدیق کی ہے۔

تنظیم نے عینی شاہدین اور اپنے ماہرین کے حوالے سے کہا ہے کہ بارودی سرنگوں کے پھٹنے سے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران کم از کم ایک شہری ہلاک اور دو بچوں سمیت تین افراد شدید زخمی ہو گئے ہیں۔

روہنگیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی کرائسس ریسپانس ڈائریکٹر تیرانہ حسن کا کہنا ہے کہ اپنے جانیں بچا کر بھاگنے والے نہتے افراد کے خلاف اس انتہائی گھناونی حرکت کو فوری طور پر بند کیا جانا چاہیے۔

بنگلہ دیش کے حکام نے بھی میانمار فوج کی طرف سے سرحد پر بارودی سرنگیں بچانے کے اقدام پر احتجاج کیا ہے۔

میانمار کی فوج کے ایک اعلی اہلکار نے برطانوی خبر رساں ادارے روائٹرز کو بتایا کہ یہ بارودی سرنگیں نوے کی دہائی میں بچھائی گئی تھیں اور حال میں فوج نے ایسی کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔

دریں اثنا عالمی امدادی ایجنسی ریڈ کراس میانمار میں اپنی کارروائیاں تیز کر رہی ہے کیونکہ اقوام متحدہ پر میانمار کی حکومت کی طرف سے روہنگیا باغیوں کی امداد کرنے کے الزام کے بعد اسے اپنی کارروائیاں کم کرنی پڑ رہی ہیں۔