شام میں فوج نے دولتِ اسلامیہ کے ’آخری گڑھ‘ پر تین سال سے قائم محاصرہ توڑ دیا

دیر الزور

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنشامی فوجی شہر کے باہر ایک بورڈ کے قریب کھڑے ہیں جس پر لکھا ہے کہ ’دیر الزور میں خوش آمدید‘

شام کے سرکاری میڈیا نے کہا ہے کہ حکومتی افواج نے مشرقی شہر دیرالزرو کا محاصرہ توڑ دیا ہے جس کا پچھلے چار برس سے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے محاصرہ کر رکھا تھا۔

سرکاری خبررساں ادارے سانا نے کہا کہ فوجیوں اور اتحادی جنگجو شہر کے مضافات میں بریگیڈ 137 چھاؤنی پر ایک دوسرے سے آن ملے۔

دریائے فرات کے کنارے پر آباد اس شہر میں تقریباً 93 ہزار شہری 2015 سے پھنسے ہوئے ہیں۔

یہ لوگ شامی فضائیہ اور اقوام متحدہ کی جانب سے فضا سے پھینکے جانے والے سامان پر گزربسر کرتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے گذشتہ ماہ کہا تھا کہ شہر میں حالات بےحد مشکل ہیں۔

دیرالزور اور اس کے آس پاس کا علاقہ شام میں دولتِ اسلامیہ کا آخری گڑھ ہے، جب کہ اس کے عملی دارالحکومت رقہ کا امریکی حمایت یافتہ شامی کردوں اور عرب جنگجوؤں کے اتحاد نے محاصرہ کر رکھا ہے۔

ادھر پڑوسی ملک عراق میں سرکاری فوج نے حال ہی میں دولتِ اسلامیہ کو موصل اور تلعفر سے نکال باہر کیا ہے اور اب اس کے پاس عراق میں صرف دو آخری ٹھکانے بچے ہیں۔

سانا نیوز کے ایک رپورٹر نے کہا کہ فوجی یونٹ مغرب سے پیش قدمی کرتے ہوئے بریگیڈ 137 چھاؤنی کے مقام تک پہنچے۔ اس کے لیے انھیں روسی اور شامی فضائیہ کی مدد حاصل تھی۔

چھاؤنی کے اردگرد فوج اور بچے کھچے شدت پسندوں کے درمیان شدید جھڑپیں جاری ہیں، جب کہ ان کی بڑی تعداد اپنا اسلحہ اور گولہ بارود وہیں چھوڑ کر فرار ہو گئی ہے۔

فضائی حملوں میں دولتِ اسلامیہ کی گاڑیاں اور آس پاس کے دیہات میں ان کے مورچے تباہ کر دیے گئے ہیں۔

صدر بشار الاسد نے ان فوجیوں کی تحسین کی ہے جو 2014 سے دیرالزور کا دفاع کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ان فوجیوں نے 'دنیا کی سب سے طاقتور دہشت گرد تنظیم کے مقابلے پر استقامت دکھائی ہے۔'

روسی صدر کے ترجمان دمتری پیسکوف نے بھی اس 'تزویراتی کامیابی' کو سراہا ہے، تاہم کہا ہے کہ دولتِ اسلامیہ اب بھی سخت مزاحمت کر رہی ہے۔

دیر الزور

،تصویر کا ذریعہAFP

روسی وزارتِ دفاع نے کہا کہ اس سے قبل بحیرۂ روم میں لنگر انداز ایک روسی جنگی جہاز سے دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں پر میزائل داغے گئے۔

برطانیہ میں واقع انسانی حقوق کے شامی مبصر ادارے نے بھی سرکاری فوج کی پیش قدمی کی تصدیق کی ہے، تاہم اس نے کہا ہے کہ شہر کے جنوب مشرقی علاقے کو اب بھی جنگجوؤں نے گھیر رکھا ہے۔

صوبائی گورنر ابراہیم سامرہ نے خبررساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ فوجی اب ہوائی اڈے کی جانب بڑھ رہے ہیں اور کہا کہ 'آنے والے دنوں میں دیرالزور کو مکمل طور پر خالی کروا لیا جائے گا۔'