جب ایک فوٹوگرافر رضاکارانہ طور پر فائر فائٹر بن گیا

،تصویر کا ذریعہCam Neville
- مصنف, گریگ ڈنلپ
- عہدہ, بی بی سی نیوز، سڈنی
کیم نیویل نے اپنی گاڑی سے باہر دیکھا تو انھیں سرخ روشنی کی ایک جھلک دکھائی دی جو ہیل فائر پاس نامی مقام کی طرف سے آ رہی تھی۔
یہ ان کی آگ بجھانے والے مقامی عملے کے ساتھ پہلی رات تھی جو انھوں نے رضاکارانہ طور پر گزاری۔ آسٹریلین فوٹوگرافر کافی پریشان تھے۔
ان کا سامنا کس چیز سے ہونے والا تھا؟
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اصل میں مجھے تھوڑی گھبراہٹ ہو رہی تھی۔ انگلینڈ میں بچپن گزارتے ہوئے میں نے ایسا پہلے نہیں دیکھا تھا۔‘
اس رات تو وہ آگ کے شعلوں کے قریب نہیں گیے تھے لیکن اس کے بعد سے انھوں نے کئی آگ کے شعلوں کا سامنا کیا۔
آسٹریلیا عام طور پر ملک کے کئی حصوں میں جنگل میں لگنی والی آگ پر قابو پانے کے لیے رضاکاروں کی بڑی تعداد پر انحصار کرتا ہے۔
کیم نیویل نے کوئنز لینڈ کے گولڈ کوسٹ ہنٹر لینڈ کے لیے رضاکارانہ طور پر شمولیت اختیار کی تاکہ وہ آگ کی قریب سے تصاویر بنا سکیں۔

،تصویر کا ذریعہCam Neville

،تصویر کا ذریعہCam Neville
ان کی ایوارڈ یافتہ تصاویر کی سیریز ’ان ٹو دا فائر‘ کے پیچھے سادہ سی تحریک تھی: فائر فائٹر مردوں اور خواتین کے تجربے کو تصاویر میں قید کرنا۔ یہ ایک ایسی چیز تھی جو ان کے خیال میں بہت کم ٹی وی پر دکھائی جاتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کیم نیویل کا کہنا ہے کہ ’میں یہ جاننا چاہتا تھا کہ آخر یہ لوگ ہیں کو، اور میں اس سب کو محسوس کرنا چاہتا تھا جس سے یہ سب لوگ گزرتے ہیں۔‘
نیویل آسٹریلیا آنے اور جنوب مشرقی کوئنز لینڈ میں رہائش اختیار کرنے سے قبل برائٹن میں رہتے تھے۔
’جہاں ہم رہتے ہیں وہاں گھر جھاڑیوں کے بہت قریب ہیں، اور آگ کا خطرہ رہتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہCam Neville

،تصویر کا ذریعہCam Neville
ابتدائی طور پر وہ اپنے ساتھ دو ڈی ایس ایل آر کیمرے اور بھاری بھرکم لینز لے کر گئے لیکن بعد میں انھیں اندازہ ہوا کہ ان کہ ساتھ کام کرنا مشکل ہے۔ اب کیم نیویل ایک کیمرہ اور 25 ایم ایم کا لینز استعمال کرتے ہیں۔
وہ آگ بھجاتے ہوئے لمحات کے درمیان تصاویر بناتے ہیں۔
فوٹوگرافر نیویل کا کہنا ہے کہ اس پراجیکٹ کے مدد سے انھوں نے کچھ نئی چیزیں سیکھی ہیں اور دوستیاں بھی ہوئی ہیں۔
’میں نے یہ سیکھا ہے کہ کسی بھی طرح کی آگ سے لڑنا ایک انتہائی مشکل اور خطرناک کام ہے، کیونکہ یہ بالکل ایسا کام ہے جس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔‘
ان کی اپنے ساتھیوں کے لیے پسندیدگی بڑھ گئی ہے۔
’کال جاتی ہے اور لوگ اس کا جواب دیتے ہیں، وہ یہ نہیں جانتے کہ وہ کیا کرنے جا رہے ہیں۔‘
تمام تصاویر بشکریہ کیم نیویل







