عرب ممالک کے مطالبات نامناسب اور ناقابل عمل ہیں: قطر

،تصویر کا ذریعہReuters
قطر نے سعودی اتحاد والے عرب ممالک کے مطالبات کو نامناسب اور ناقابل عمل قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔
قطر نیوز ایجنسی کی ایک رپورٹ کے مطابق قطر کا بائیکاٹ کرنے والے چار عرب ممالک نے مطالبات کی جو لسٹ تیار کی تھی وہ اسے جمعرات کو موصول ہوئی تھی۔
قطری حکومت کے محکمہ کمیونیکیشن کے سربراہ شیخ سیف بن احمد الثّانی نے جمعے کو روز اس سے متعلق اپنے رد عمل میں کہا: 'مطالبات کی فہرست نے اسی بات کی توثیق کی ہے جو قطر روز اوّل سے کہتا رہا ہے کہ غیر قانونی رکاوٹ کا دہشت گردی کے خلاف لڑائی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، یہ قطر کی خود مختاری کو محدود کرنے اور ہماری خارجہ پالیسی کو روکنے کی بات ہے۔'
ان کا کہنا تھا کہ 'حال ہی میں امریکہ نے بائیکاٹ کرنے والے ممالک سے شکایات کی ایسی لسٹ پیش کرنے کو کہا تھا جو مناسب ہو اور جس پر عمل کیا جا سکے۔ برطانوی وزیرخاجہ نے بھی نپے تلے اور حقیقی مطالبات کی بات کی تھی۔ یہ لسٹ تو اس معیار پر پورا نہیں اترتی۔'

،تصویر کا ذریعہHuw Evans picture agency
یاد رہے کہ حال ہی میں چھ عرب و خلیجی ممالک نے قطر پر دہشت گرد گروپوں کی مدد کرنے اور خطے کو غیر مستحکم کرنے کے الزامات لگاتے ہوئے اس سے تعلقات منقطع کیے ہیں جبکہ قطر ان الزامات سے انکار کرتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
قطر کی حکومت نے مطالبات کی لسٹ موصول ہونے کی تصدیق کرنے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان مطالبات کا جائزہ لے رہی ہے اورباقاعدہ جواب کی تیاری کی جا رہی ہے۔
قطر کی نیوز ایجنسی نے وزارت خارجہ کے حوالے سے ایک بیان میں کہا ہے کہ ' قطر کی حکومت ان دستاویزات کا جائزہ لے رہی ہے جس میں مطالبات کا ذکر ہے اور اس بات غور کر رہی کہ آخر کن بنیادوں پر یہ مطالبات پیش کیے گئے ہیں تاکہ مناسب جواب تیار کر کے کویت کے حوالے کیا جا سکے۔‘
اس معاملے پر امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ قطر اور اس کے خلیجی ہمسایہ ممالک کے درمیان جاری تنازع 'خاندانی معاملہ' ہے۔
پریس سیکریٹری شان سپائسر کا کہنا تھا کہ 'اس معاملے میں جو چار ممالک ملوث ہیں، ہمارا ماننا ہے کہ یہ ایک فیملی معاملہ ہے اور اسے انھیں (آپس میں ہی) حل کرنا چاہیے۔'
'اگر ہم ان مذاکرات میں مدد کر سکتے ہیں تو ایسا ہی ہو۔ وہ چاہتے ہیں کہ وہ اسے خود حل کریں اور ایسا ہی ہونا چاہیے۔'

،تصویر کا ذریعہReuters
انھوں نے یہ بات صحافیوں کو ایک آف کیمرہ بریفنگ کے دوران کہی۔
گذشتہ روز سعودی عرب، مصر، متحدہ عرب امارات اور بحرین کی جانب سے قطر کو مطالبات کی لسپ سونپی گئی تھی۔ ان مطالبات میں ٹی وی چینل الجزیرہ اور ترک فوجی اڈے کی بندش کے علاوہ ایران سے تعلقات میں کمی کا مطالبہ بھی شامل ہے اور ان پر عملدرآمد کے لیے قطر کو دس دن کا وقت دیا گیا ہے۔
حال ہی میں چھ عرب و خلیجی ممالک نے قطر پر دہشت گرد گروپوں کی مدد کرنے اور خطے کو غیر مستحکم کرنے کے الزامات لگاتے ہوئے اس سے تعلقات منقطع کیے ہیں جبکہ قطر ان الزامات سے انکار کرتا ہے۔










