آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
عراق: موصل کی تاریخی مسجد النوری تباہ کر دی گئی
عراق کے وزیراعظم نے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کی جانب سے موصل کی مسجد النوری تباہ کیے جانے کو تنظیم کی شکست کا اعتراف قرار دیا ہے۔
عراقی اور امریکی فوج کا کہنا ہے کہ مسجد کے مینار کو دولتِ اسلامیہ نے دھماکے سے اڑا دیا تھا۔
تاہم دولتِ اسلامیہ کے خبر رساں ادارے العماق کا کہنا ہے کہ اس مسجد کو ایک امریکی لڑاکا طیارے نے نشانہ بنایا۔
علاقے کی فضا سے لی گئی تصاویر میں بڑے پیمانے پر تباہی دیکھی جا سکتی ہے۔
اس تباہی کی بڑے پیمانے پر مذمت کی گئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ وہی معروف مسجد ہے جہاں 2014 میں ابو بکر البغدادی نے خلافت کا دعویٰ کیا تھا۔ اس مسجد کے مینار کا جھکاؤ ایک طرف تھا۔
موصل کے معرکے پر عراقی فورس کے کمانڈر کا کہنا ہے کہ جس وقت دولتِ اسلامیہ نے ’تاریخ کے خلاف یہ جرم کیا‘ اور مسجد کو تباہ کیا اس وقت ان کے فوجی 50 پچاس میٹر کی دوری پر تھے۔
ادھر ایک امریکی کمانڈر کا کہنا تھا کہ دولتِ اسلامیہ نے موصل اور عراق کا ایک خزانہ تباہ کر دیا ہے۔
میجر جنرل جوژف مارٹن کا کہنا تھا کہ ’یہ عراق اور موصل کے عوام کے خلاف ایک جرم ہے اور اس بات کی مثال ہے کہ اس تنظیم کو کیوں تباہ کر دیا جانا چاہیے۔‘
عراق اور شام میں متعدد تاریخی ثقافتی مقامات کو تباہ کیا جا چکا ہے۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ دولتِ اسلامیہ موصل میں ایک لاکھ شہریوں کو انسانی ڈھالوں کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔
ہزاروں عراقی سکیورٹی فورسز، کردش پیشمرگا جنگجوؤں، سنی عرب قبائلیوں اور شیعہ ملیشیا کے اراکین امریکی اتحادی فورسز کے ساتھ مل کر اکتوبر 2016 سے موصل کے معرکے میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑ رہے ہیں۔
حکومت نے مشرقی موصل کو آزاد کروا لینے کا اعلان جنوری 2017 میں کیا تھا تاہم شہر کا مغربی حصہ آزاد کروانا قدرے مشکل ثابت ہو رہا ہے۔