’مشرق وسطیٰ میں امن معاہدے کا قوی امکان ہے‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات کے بعد کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امن معاہدے کا قوی امکان ہے۔
فلسطینی صدر کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں انھوں نے اس عہد کا اظہار کیا کہ ’ہم یہ کر کے دکھائیں گے۔‘
خیال رہے کہ محمود عباس کے ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ کی یہ پہلی ملاقات ہے۔ یہ ملاقات اسرائیلی وزیراعظم کے دورہ امریکہ کے ڈھائی ماہ بعد ہو رہی ہے۔
صدر عباس نے اپنے امریکی ہم منصب سے کہا ہے کہ وہ 1967 سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر دو ریاستی حل کی بنا پر امن قائم کرنا چاہتے ہیں۔
انھوں نے صدر ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’جنابِ صدر آپ کے ساتھ ہمیں اب امید ہے۔‘
تاہم صدر ٹرمپ دو ریاستی حل کے بارے میں واضح موقف دینے سے قاصر رہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال رہے کہ اس سال فروری میں صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’دو ریاستی حل یا ایک ریاستی حل پر غور کرنے کے بعد مجھے وہی پسند ہے جو دونوں فریقین کو پسند ہے۔‘
بدھ کے روز صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ خطے میں امن تب تک نہیں آ سکتا جب تک دونوں پارٹیاں تشدد کو مزید پھیلنے سے نہ روکیں۔
صدر محمود عباس پر دباؤ ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ لڑائی میں ہلاک ہونے والوں اور اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی قیدیوں کے گھر والوں کی مالی امداد کو روکیں۔
اسرائیلی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ مالی امداد دہشتگردی کو ہوا دیتی ہے۔ تاہم فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ ایسا کرنا صدر عباس کے لیے انتہائی مشکل ہوگا کیونکہ وہ فلسطین میں اپنی مقبولیت کھو رہے ہیں۔
واشنگٹن میں بی بی سی کی نامہ نگار باربرا پلیٹ کا کہنا ہے کہ فلسطینی حکام ابتدا میں صدر ٹرمپ کے اسرائیل حامی بیانات سے پریشان تھے۔ تاہم صدر ٹرمپ کے ایک سفیر نے انھیں یقین دہانی کروائی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ امن معاہدے کے بارے میں سنجیدہ ہیں، جس میں بظاہر مارچ میں عرب لیگ کی جانب سے مجوزہ پلان کی حمایت ہو۔
2002 میں عرب پیس انیشیٹوو نے اسرائیل سے کہا تھا کہ وہ 1967 کی عرب اسرائیل جنگ میں قبضہ کیے گئے تمام علاقے واپس کرے اور عرب ممالک سے تعلقات میں بہتری کے لیے ایک آزاد فلسطینی ریاست کو قبول کرے۔








