رقہ کے ہوائی اڈے کو دولت اسلامیہ کے قبضے سے چھڑا لیا گیا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکہ کے حمایت یافتہ شامی جنگجوؤں نے خود کو دولت اسلامیہ کہنے والی شدت پسند تنظیم سے ان کے مضبوط گڑھ رقہ کے قریب ایک اہم ہوائی اڈے کا قبضہ چھین لیا ہے۔
اس ہوائی اڈے پر قبضے کو جہادیوں کو شہر سے مار بھگانے کے سمت میں اہم قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ خیال رہے کہ دولت اسلامیہ نے رقہ کو اپنا دارالحکومت قرار دے رکھا ہے۔
شامی جمہوری فورس (ایس ڈی ایف) کے ایک ترجمان طلال سلو نے بتایا کہ انھوں نے جنگجوؤں سے طبقہ ایئرپورٹ چھین لیا ہے۔
جنگجو فوج، جن کی قیادت کرد کر رہے ہیں، شہر کی جانب پیش قدمی کر رہی ہیں۔
انسانی حقوق کے اداروں نے اس علاقے میں رہنے والے شہریوں کی حفاظت کے متعلق اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے۔
شام کے متعلق برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کی آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ گذشتہ ہفتے کے دوران فضائی حملوں میں کم از کم 89 افراد مارے جا چکے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہReuters
بی بی سی کے عرب معاملوں کے ایڈیٹر سیبیسچیئن اشر نے بتایا ہے کہ فوجی ہوائی اڈے پر قبضے کو باغیوں کے اتحاد کی بڑی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
خیال رہے کہ دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نے طبقہ ایئربیس کو شامی افواج سے سنہ 2014 میں چھین لیا تھا اور انھوں نے کریہ مظالم کا مظاہرہ کرتے ہوئے گرفتار شدہ فوجیوں کا قتل عام کیا تھا۔
اس پیش رفت کا مقصد شام کے سب سے بڑے ڈیم کا کنٹرول حاصل کرنے کے علاوہ طبقہ شہر پر قبضہ کرنا بھی شامل تھا۔
اس سے قبل دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نے کہا تھا طبقہ ڈیم ٹوٹنے والا ہے جس سے علاقے میں شدید سیلاب کا خطرہ منڈلانے لگا تھا۔ لیکن ڈیم بظاہر درست حالت میں نظر آ رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکہ کی قیادت والے اتحاد نے دولت اسلامیہ کے اس دعوے کو مسترد کر دیا تھا فضائی حملے میں ڈیم کو نقصان پہنچا ہے اور وہ ٹوٹنے کے دہانے پر ہے۔
ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا: 'ہماری معلومات کے مطابق ڈیم کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے اور اتحاد اس کی سلامتی چاہتا ہے کیونکہ یہ شام کے باشندوں کے لیے پانی کا انتہائی اہم زخیرہ ہے۔'
بہرحال اتوار کو دونوں جانب سے اس کے متعلق متضاد خبریں آئی ہیں۔
حالیہ دنوں اقوام متحدہ نے متنبہ کیا تھا کہ اگر اسے نقصان پہنچتا ہے تو علاقے میں بڑے پیمانے پر سیلاب آ سکتا ہے۔










