ڈچ نازیوں کی باقیات اور فسطائی ہیں: اردوغان

طیب اردوغان

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنطیب اردوغان یورپ میں بسنے والے ایسے دسیوں لاکھ ترک شہریوں کو اپنی طرف راغب کرنا چاہتے ہیں جو اس ریفرنڈ میں وود دینے کے مزاج ہیں

ہالینڈ کے شہر روٹرڈیم میں ترکی کے وزیر خارجہ کی ریلی منسوخ ہونے پر ترک صدر طیب اردوغان نے اپنے سخت رد عمل میں ڈچ قوم کو ’نازیوں کی باقیات اور فسطائی‘ قرار دیا ہے۔

اس سے قبل ہالینڈ کی حکومت نے ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاویش اوغلو کی پرواز کو روٹرڈیم میں اترنے کے لیے اجازت دینے سے منع کر دیا تھا۔

ترک وزیر خارجہ کو صدر طیب اردوغان کو مزید اختیارات دینے کے لیے ہونے والے ریفرنڈم سے متعلق ایک ریلی سے خطاب کرنا تھا۔

شہر کے میئر کا کہنا ہے کہ اس ریلی پر سکیورٹی وجوہات کے سبب پابندی عائد کی گئی تھی۔

استنبول میں ایک ریلی سے خطاب کے دوران طیب اردوغان نے کہا: ’آپ جتنی مرضی ہو ہمارے وزیر خارجہ کی پرواز پر پابندی لگائیں، لیکن اب سے دیکھتے ہیں، آپ کی پرواز ترکی میں کیسے لینڈ کرتی ہے۔‘

ترکی کے وزیر خارجہ نے خبردار کیا تھا کہ اگر ان کے دورے میں رکاوٹ ڈالی گئی تو سخت قسم کی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔

ریلی

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنترک وزیر خارجہ کی ریلی کے خلاف ہالینڈ میں اسلام مخالف کارکنان نے احتجاج کیا

ہالینڈ کے وزيراعظم مارک روٹی نے ایک بیان میں کہا کہ ترکی کی پابندیوں والی دھمکی نے اس معاملے میں ’ایک مناسب حل کی تلاش کو ناممکن بنا دیا‘ اسی لیے ہالینڈ لینڈنگ کا حق نہیں دے رہا ہے۔

شہر کے میئر احمد عبدالمطلب کا کہنا تھا کہ چونکہ جس سٹیڈیم میں سنیچر کو ریلی ہونے والی تھی اس کے مالک نے اجازت دینے سے انکار کر دیا اس لیے ریلی منسوخ ہوئی لیکن تب بھی ترک وزير خارجہ دورہ کر سکتے تھے۔

اس سے قبل آسٹریا، جرمنی اور سوئٹزرلینڈ بھی طیب اردوغان کے حق میں ہونے والی ایسی ریلیوں پر پابندی عائد کر چکے ہیں جہاں ترکی کے حکام خطاب کرنے والے تھے۔

حالیہ ہفتوں کے دوران ترکی اور یورپی ممالک کے درمیان تعلقات میں کشیدگی ابھر کر سامنے آئی ہے اس کی ایک وجہ صدر رجب طیب اردوغان کی جانب سے بیرون ملک بسنے والے ترک شہریوں کو اپریل میں ان کے اختیارات میں مزید اضافے کے لیے ہونے والے ریفرینڈم میں حمایت حاصل کرنے کی کوششیں ہیں۔

ترک صدر رجب طیب اردوغان نے جرمنی کے کئی شہروں میں اپنے حامی ترک شہریوں کی ریلیوں کو روکے جانے پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے نازی دور کے اقدام سے تشبیہ دی تھی۔

ترک کارکنان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنترکی میں ریفرنڈم کے لیے 16 اپریل کو ووٹ ڈالے جائیں گے

اس کے ردعمل میں جرمن چانسلر انگیلا مرکل نے کہا تھا کہ ایسے بیانات نا قابل قبول اور افسوس ناک ہیں۔ انھیں روکنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’نازیوں کے ساتھ موازنہ کرنے سے صرف تکلیف میں اضافہ ہوگا۔‘

اسی نوعیت کی ایک ریلی سوئٹزرلینڈ کے شہر زورچ میں اتوار کو منعقد ہونے والی ہے لیکن مالک نے وہ جگہ دینے سے منع کر دیا ہے اس لیے ابھی واضح نہیں ہے کہ وہ ریلی ہو پائے گی یا نہیں۔

اس سے قبل اسی شہر میں جمعے کا ہونے والا ایک ایسا ہی پروگرام منسوخ کر دیا گیا تھا۔

ہالینڈ اور آسٹریا کی حکومتوں نے ترکی کی حکومت پر اس بات کے لیے تنقید کی ہے کہ وہ ترکی میں ہونے والے اس مجوزہ ریفرنڈم کی مہم یورپ میں چلا رہی ہے۔

ترکی میں 16 اپریل کو ریفرنڈم کے لیے ووٹ ڈالے جائیں گے۔ طیب اردوغان یورپ میں بسنے والے ایسے دسیو لاکھ ترک شہریوں کو اپنی طرف راغب کرنا چاہتے ہیں جو اس میں ووٹ دینے کے مجاز ہیں۔ اس میں تقریباً 14 لاکھ ترک صرف جرمنی میں رہتے ہیں۔