دنیا بھر میں ویلنٹائن ڈے کے موقع پر ملاجلا ردعمل

،تصویر کا ذریعہGetty Images
محبت کی علامت کے حامل تحائف اور سرخ گلابوں کے اس تہوار پر دنیا بھر میں ملاجلا ردعمل دیکھنے کو ملتا ہے۔ اس مرتبہ بھی صورتحال کچھ ایسی ہی رہی۔
انڈونیشیا کے بعض علاقوں میں حکام نے طلبہ کے ویلنٹائن ڈے منانے پر یہ کہہ کر پابندی عائد کردی کہ یہ جنسی بے راہ روی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ مکاسر کے شہر میں پولیس نے دکانوں پر چھاپے مار کر کونڈوم کے شیلف توڑ ڈالے۔
شہر کے میئر نے بی بی سی کو بتایا کہ صارفین کی شکایت پر کونڈوم کو صرف ہٹایا گیا ہے تاہم وہ اب بھی دستیاب ہیں۔
ویلنٹائن ڈے کا آغاز قدیم روم میں ہوا تھا جہاں اسے یومِ تولید یا بارآوری کے طور پر منایا جاتا تھا۔
وقت کے ساتھ ساتھ یہ ایک مسیحی تہوار بن گیا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ بعض مسلم اکثریت والے ملکوں میں اسے اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
انڈونیشیا کے دوسرے بڑے شہر سورابایا میں طلبہ کو تلقین کی گئی کہ وہ اسے تقافتی اقدار کے خلاف ہونے کی وجہ سے نہ منائیں۔
پڑوسی ملک ملائشیا میں بھی ویلنٹائن ڈے کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا گیا۔
نیشنل مسلم یوتھ ایسوسی ایشن نامی تنظیم نے خواتین اور لڑکیوں پر زور دیا ہے کہ وہ جذباتی علامتوں اور تیز خوشبو کے استعمال سے اجتناب برتیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تنظیم نے اس موقع پر ویلنٹائن ڈے مخالف پوسٹر بھی آویزاں کیے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہFACEBOOK/PERSATUAN BELIA ISLAM NASIONAL
جنوبی افریقہ کا جزیرہ 'روبن' افریقی رہنما نیلسن مینڈیلا کے ایامِ اسیری کی نسبت سے مشہور رہا ہے۔
مگر سنہ دوہزار سے چودہ فروری کو وہاں محبت کے نام پر بڑی بڑی تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے جن میں دنیا بھر سے جوڑے حصہ لیتے ہیں۔
اس بار کم سے کم بیس جوڑوں نے ایک اجتماعی تقریب میں 'قبول ہے' کے کلمات ادا کیے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
تھائی لینڈ میں حکام لوگوں کو ویلنٹائن ڈے کے موقع پر اس امید میں مفت گولیاں دے رہے کہ اس طرح شاید ملک کی گرتی ہوئی شرحِ پیدائش میں بہتری آئے۔
ممکنہ طور پر مائیں بننے کی حامل خواتین کو دی جانے والی ان گولیوں پر 28 ہزار ڈالر سے زیادہ رقم خرچ کی گئی ہے۔
حکام کے مطابق یہ گولیاں فولاد اور فولِک ایسڈ پر مشتمل ہیں۔
سنہ انیس سو ستّر میں ایک تھائی جوڑے کے ہاں اوسطاً چھ بچے ہوتے تھے مگر اب یہ شرح ایک اعشاریہ چھ رہ گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی ہائی کورٹ نے عوامی سطح پر ویلنٹائن ڈے کی تقریبات کو مسلم ثقافت کے منافی قرار دیتے ہوئے پابندی عائد کر دی تھی۔
ویلنٹائن ڈے کو حالیہ برسوں کے دوران مقبولیت ملی ہے تاہم بعض ناقدین اسے مغرب کی ثقافتی یلغار گردانتے ہیں۔
عدالت نے ویلنٹائن ڈے کی تقریبات کی کوریج پر پابندی عائد کر دی تھی۔
سعودی عرب میں بھی پولیس اس دن کی مناسبت فروخت ہونے والی اشیا، مثلاً پھول اور تہنیتی کارڈ وغیرہ کے بارے میں چوکنا رہی۔
پھول فروش پولیس کی نظروں سے بچنے کے لیے گلدستے رات کے وقت پہنچاتے ہیں۔ اس کا فائدہ بلیک پر گلاب اور پنیاں فروخت کرنے والے خود اٹھا رہے ہیں۔
دوسری جانب بحرین اور متحدہ عرب امارات میں ویلنٹائن ڈے کی تقریبات پر زیادہ ناک بھوں نہیں چڑھائی گئی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ویلنٹائن ڈے کی مخالفت صرف مسلم اکثریتی ممالک میں ہی نہیں ہے۔
جاپان میں ایک مارکسٹ گروپ نے ٹوکیو میں ایک بڑا بینر آویزاں کیا جس پر لکھا تھا 'ویلنٹائن ڈے کو پاش پاش کر دو!'
خواتین کے لیے بے کشش مردوں کا انقلابی اتحاد کے نام سے جانے والے اس گروپ کا کہنا ہے کہ محبت کے برسرِ عام اظہار سے ان کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس کے ارکان 'سرعام بوس وکنار دہشتگردی ہے' جیسے نعرے لگاتے ہوئے پائے گئے ہیں۔
گروپ کے تعلقات عامہ کے سربراہ، تاکایوکی اکیِموتو، کا کہنا ہے کہ: 'ہم محبت کو سرمایہ نہیں بننے دیں گے۔ ہم جو پُرکشش نہیں ہیں، یہ ہمیں کمتر ثابت کرنے کی سازش ہے۔'









