’روس پر عائد پابندیاں ختم نہ کریں‘، اوباما کی ٹرمپ کو تنبیہ

اوباما

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشناس پریس کانفرنس کو براک اوباما کی کی جانب سے ایک علامتی اقدام کی حیثیت سے دیکھا جا رہا تھا

امریکی صدر براک اوباما نے نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تنبیہ کی ہے کہ روس پر لگائی جانے والی پابندیاں اس وقت تک نہ اٹھائیں جب تک روسی صدر ولادی میر پوتن یوکرین کی سالمیت کی خلاف ورزی کرنا بند نہیں کرتے۔

صدر براک اوباما اپنے دورِ صدارت کی آخری پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔

براک اوباما نے کہا کہ روسی صدر کے فیصلوں سے امریکہ اور روس کے تعلقات میں مخالفانہ کیفیت ہو گئی ہے جو کہ سرد جنگ کے دور کی یاد دلاتی ہے۔

انھوں نے اپنے صحافیوں کو جوابات دیتے ہوئے اپنے اس فیصلے کا بھی دفاع کیا جس میں انھوں نے خفیہ امریکی دستاویزات وکی لیکس کےحوالے کرنے والی سابق فوجی اہلکار چیلسی میننگ کی سزا ختم کردی تھی۔

انھوں نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ وہ اپنی صدارت ختم ہونے کے بعد بھی بنیادی اقداروں کا دفاع کرتے رہیں گے۔

براک اوباما نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ مشرق وسطیٰ کے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے اچانک لیے گیے فیصلے خطے کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

واضع رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ وہ اسرائیل میں واقع امریکی سفارت خانے کو یروشلم میں منتقل کر دیں گے۔

اس پریس کانفرنس کو براک اوباما کی کی جانب سے ایک علامتی اقدام کی حیثیت سے دیکھا جا رہا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم کی جانب سے کہا گیا ہے کہ صدارت کے بعد وہائٹ ہاؤس میں روزانہ ہونے والی پریس کانفرنس کو عمارت کے ویسٹ ونگ حصے سے نکال کر کہیں اور منعقد کیا جائے گا۔

پوتن

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبراک اوباما نے کہا کہ روسی صدر کے فیصلوں سے امریکہ اور روس کے تعلقات میں مخالفانہ کیفیت ہو گئی ہے جو کہ سرد جنگ کے دور کی یاد دلاتی ہے

لیکن براک اوباما نے صحافیوں کو براہ راست پیغام دیا کہ: ’آپ سب کا اس عمارت میں ہونے سے ہم سب کے کام کرنے کے معیار بہتر ہوا ہے۔‘

صدر اوباما نے یہ بھی بتایا کہ انھوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی انتخاب میں فتح حاصل کرنے کے بعد کئی بار گفتگو کی ہے اور انھیں مشورہ دیا ہے کہ ’صدارت ایک مشکل کام ہے اور اس کو وہ اکیلے نہیں کر سکتے۔‘

آٹھ سال صدارت کرنے کے بعد صدر اوباما نے کہا کہ وہ صدارت چھوڑنے کے بعد پس منظر میں جانا پسند کریں گے۔ ’میں کچھ عرصے چپ رہنا چاہوں گا تاکہ اپنی آواز بار بار نہ سن سکوں۔‘

صدر اوباما امریکہ کے مستقبل کے بارے میں پر امید تھے اور انھوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ آنے والے وقت میں ملک سیدھے راستے پر گامزن رہے گا۔