بحرین میں تین شیعہ افراد کو سزائے موت دے دی گئی

بحرین

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنسرکاری نیوز ایجنسی ای این اے کے مطابق ان تینوں افراد کو اتوار کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گيا

بحرین میں حکام کے تین افراد کو ایک اماراتی اور دو بحرینی پولیس اہلکاروں کے قتل کے جرم میں سزائے موت دے دی گئی ہے۔

تینوں ملزمان کا شیعہ مسلک سے تعلق تھا اور ان پر یہ الزام تھا کہ انھوں نے مارچ سنہ 2014 میں ایک بم دھماکہ کیا تھا تاکہ اماراتی ممالک میں شورش کو بھڑکایا جا سکے۔

سرکاری نیوز ایجنسی ای این اے کے مطابق ان تینوں افراد کو اتوار کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گيا۔

جب ان کی سزائے موت سے متعلق خبر آئی تو سنیچر کے روز سینکڑوں افراد نے احتجاجی مظاہرے کیے۔

بحرین کی سنہ 2011 کی بغاوت کے بعد سے وہاں پہلی بار سزائے موت پر عمل درآمد کیا گیا ہے۔ بغاوت کی قیادت شیعہ فرقے کی جانب سے وسیع سیاسی حقوق کے لیے ہوئی تھی۔

خیال رہے کہ سنی حکومت کی جانب سے شیعہ ناقدین کے خلاف گذشتہ برسوں کے دوران کریک ڈاؤن میں اضافہ دیکھا گيا ہے جس میں ملک کے ممتاز ترین شیعہ عالم کی شہریت کو ختم کرنا بھی شامل ہے۔

عباس السمیع، سامی مشیمی اور علی السنجاسی کو بم دھماکے میں تین پولیس اہلکار کی جان لینے کے لیے قصور وار قرار دیا گيا تھا۔

ان لوگوں کو کو عدالت عالیہ کی جانب سے سزا کی توثیق کے ایک ہفتے بعد موت کی سزا پر عمل درآمد کیا گیا ہے۔

بحرین

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنسزا کی خبر ظاہر ہونے کے بعد سنیچر کو بحرین میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا

برطانیہ میں موجود انسانی حقوق گروپ ریپریو کے رضاکاروں نے سزائے موت کی مذمت کی ہے۔

بحرین انسٹی ٹیوٹ فار رائٹس اینڈ ڈیموکریسی کے سید احمد الوادعی نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا: 'یہ بحرین کی تاریخ کا ایک سیاہ دن ہے۔ بحرین کی حکومت کی جانب سے انتہائی مذموم جرم کا ارتکاب ہوا ہے، وہاں کے حاکموں کو شرم آنی چاہیے۔۔۔ یہ عمل بحرین اور علاقے کی سکیورٹی کے لیے خطرہ ہے۔'