اوباما کی آف شور کے علاقے میں تیل کی ڈرلنگ پر 'مستقل پابندی'

،تصویر کا ذریعہAP
امریکی صدر براک اوباما نے امریکہ کے زیرِ کنٹرول بحرِ منجمد شمالی (آرکٹک) اور بحرِ اوقیانوس (اٹلانٹک) کے شمالی علاقوں کے بیشتر حصے میں تیل کے لیے ڈرلنگ کرنے پر 'مستقل پابندی' عائد کر دی ہے۔
صدر اوباما نے اپنے زیر کنٹرول علاقوں کو حکومت کی جانب سے غیر معینہ مدت تک کے لیے کرائے پر دینے یا بیچنے پر بھی پابندی لگائی ہے۔
ان اقدام کو صدر اوباما کے جنوری میں عہدہ چھوڑنے سے قبل اس خطے کو محفوظ کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے اس فیصلے کو تبدیل کرنا مشکل ہوگا۔
ادھر امریکہ کے ہمسایہ ملک کینیڈا نے بھی ان اقدام کی حمایت کی ہے اور اپنے زیرِ کنٹرول علاقوں پر بھی ایسی پابندی عائد کی ہے۔ دونوں ممالک نے ان پابندیوں کا مشترکہ اعلان واشنگٹن میں کیا۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد 'مضبوط، اور قابل عمل آرکٹک معاشی اور ماحولیاتی نظام' کو قائم رکھنا ہے۔ انھوں نے پابندی کی وجوہات میں مقامی ثقافتی ضرورتوں، جنگلی حیاتیات کو لاحق تشاویش اور تیل کے چھلکنے سے خطے کو لاحق خطرات بتائے۔
اطلاعات کے مطابق کینیڈا کی حکومت اپنے فیصلے پر ہر پانچ سال بعد از سر نو غور کرے گي لیکن وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ صدر اوباما کا اعلان 'مستقل پابندی' کا اعلان ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
یہ فیصلہ سنہ 1953 کے اس قانون کی بنیاد پر کیا گيا ہے جس میں یہ کہا گيا ہے کہ صدر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ امریکہ کے آف شور علاقے کے وسائل کو لیز پر دینے پر مستقل پابندی عائد کر سکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال رہے کہ نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران کہا تھا کہ وہ امریکی تیل کے ذخائر کا فائدہ اٹھائیں گے جس پر ماحولیات کے کام کرنے والے گروپس نے خدشات کا اظہار کیا تھا۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس 'مستقل پابندی' کے فیصلے کو بدلنے کے لیے قانونی چارہ جوئی کرنی پڑے گی۔
آرکٹک اعلامیہ پر رد عمل ظاہر کنے ہوئے فرینڈز آف ارتھ تنظیم نے کہا کہ 'اب سے پہلے کسی بھی صدر نے کسی سابق صدر کے آف شور تیل اور گيس کے متعلق فیصلے کو نہیں بدلا ہے۔
'اگر ڈونلڈ ٹرمپ صدر اوباما کے فیصلے کو بدلنے کی کوشش کرتے ہیں تو انھیں عدالت میں گھسیٹا جائے گا۔'

،تصویر کا ذریعہAFP / GETTY IMAGES
تاہم امریکہ کے پیٹرولیم انسٹی ٹیوٹ کا کہنا ہے کہ 'مستقل پابندی' جیسی کوئي چیز نہیں ہوتی اور اسے امید ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اس فیصلے کو بہ آسانی تبدیل کر دے گي۔
ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے لیے جن اہلکار کو منتخب کیا ہے ان سے ماحولیات کے لیے مہم چلانے والے خطرہ محسوس کرتے ہیں۔ نو منتخب صدر نے ایگزون موبل کمپنی کے سربراہ ریکس ٹیلرسن کو انھوں نے اپنا وزیر خارجہ بنایا ہے جبکہ ان کے توانائی کے وزیر رک پیری نے ٹیکسس کے گورنر کے طور پر تیل کی صنعت میں کم سے کم ضابطوں پر زور دیا تھا۔
اور ماحولیاتی گروپس نے ان دونوں کی تعیناتی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔











