ٹرمپ اور اوباما میں ملاقات، چند ’ناخوشگوار‘ لمحات

اوباما اور ٹرمپ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

وائٹ ہاؤس میں جب نومنتخب صدر ٹرمپ کی صدر اوباما سے ملاقات ہوئی تو دونوں میں عداوت بھی بعض موقعوں پر چھپائی نہیں جا سکی۔

نومنتخب صدر نے انتحابی مہم کے دوران صدر اوباما کو تاریخ کا بدترین صدر قرار دیا تھا جبکہ صدر اوباما نے کہا تھا کہ ٹرمپ صدر منتخب ہونے کے اہل ہی نہیں ہیں۔

ارب پتی کاروباری شخصیت اور اب نومنتخب صدر نے صدر اوباما کی امریکہ میں پیدائش پر سوالات اٹھائے تھے اور صدر اوباما نے اسے کھلے عام مضحکہ خیز قرار دیا تھا۔

اب دونوں کی وائٹ ہاؤس میں تقریباً ڈیڑھ گھنٹے ملاقات ہوئی اور جب وہ میڈیا کے سامنے آئے تو دونوں نے ماضی کی تلخی کو پیچھے چھوڑنے کی کوشش کی۔

دونوں نے اتحاد اور اقتدار کی پرامن طریقے سے منتقلی کے حوالے سے گرمجوشی سے بات چیت کی۔

لیکن وہاں موجود کیمرے ایک اور کہانی بیان کرتے ہیں۔

اوباما اور ٹرمپ

،تصویر کا ذریعہReuters

اگر خلا میں بہت زیادہ گھورا جائے، تو یہ سب ختم جائے گا۔

اوباما اور ٹرمپ

،تصویر کا ذریعہReuters

لگتا ہے کہ ٹرمپ بھی دماغی طور پر بھٹک گئے ہیں۔ شاید 2011 میں اوباما کی جائے پیدائش کے بارے میں لطیفوں پر ہونے والی شرمندگی۔

اوباما اور ٹرمپ

،تصویر کا ذریعہEPA

اچھا تو یہ ہے مصافحہ، لیکن یہ کیا؟ اوباما کا سپاٹ چہرہ اور ٹرمپ کی زیر لب مسکراہٹ۔

اوباما اور ٹرمپ

،تصویر کا ذریعہAFP

جب بے آرامی حد سے بڑھ گئی تو۔ ٹرمپ نے طے کیا کہ وہ اب نہیں دیکھیں گے، بس نہیں دیکھیں گے۔

اوباما اور ٹرمپ

،تصویر کا ذریعہReuters

اب مزید مصافحہ نہیں ہو گا، ٹرمپ کو اس سے بہت سکون ملا ہو گا اور اب بس سر کو ہلاتے ہوئے تھوڑی بہت مسکراہٹ۔

مشیل اوباما

،تصویر کا ذریعہWhite house

لیکن مشیل اوباما اور میلانیا ٹرمپ کے درمیان علیحدہ ہونے والی ملاقات میں ایسا کچھ نہیں تھا۔

اوباما اور ٹرمپ

،تصویر کا ذریعہReuters

خیر وائٹ ہاؤس سے ٹرمپ کے روانہ ہونے کے چند منٹ کے بعد اوباما نے لیبرون جیمز کی میزبانی کی، اور اُن کی روایتی مسکراہٹ لوٹ آئی۔