آسٹریا: کٹر دائیں بازو کے امیدوار کو شکست

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تخمینوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ آسٹریا کے صدارتی انتخابات میں کٹر دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے امیدوار نوربرٹ ہوفر کو شکست ہو گئی ہے۔
ان کی مہم کے سربراہ نے کہا ہے کہ ہوفر نے آزاد امیدوار الیگزینڈر وان ڈر بیلین کے حق میں شکست تسلیم کر لی ہے۔
آسٹریا کی صدارت زیادہ تررسمی نوعیت کی ہوتی ہے، تاہم ان انتخابات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یورپی یونین میں آئندہ انتخابات میں لوگ کس جانب جانب جھک رہے ہیں۔
ابتدائی اندازوں کے مطابق گرین پارٹی کے سابق سربراہ الیگزینڈر وان ڈر بیلین کو واضح اکثریت حاصل تھی۔
یہ انتخابات مئی میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں بےضابطگیوں کے الزامات کے بعد دوبارہ منعقد کیے گئے تھے۔
توقع ہے کہ یورپی یونین میں اسٹیبلشمنٹ کی جماعتیں ان نتائج کا خیرمقدم کریں گی۔
فرانس، جرمنی اور نیدرلینڈز میں اگلے برس انتخابات ہو رہے ہیں جن میں مرکزی دھارے سے ہٹی ہوئی جماعتیں اور امیگریشن کی مخالف جماعتیں زور پکڑ رہی ہیں۔
ہوفر نے آسٹریا میں پناہ گزینوں کی بڑی تعداد میں آمد کے بعد امیگریشن مخالف موقف اختیار کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ یورپی یونین سے نکلنے کے لیے آسٹریا میں بھی بریگزٹ کی طرز پر ریفرینڈم منعقد کروایا جانا چاہیے۔
تاہم انھوں نے اپنے موقف میں نرمی لاتے ہوئے تجویز دی تھی کہ یورپی یونین کو صرف ایک معاشی زون بنایا جانا چاہیے۔







