ٹرمپ کا تائیوان سے رابطہ امریکی پالیسی سے انحراف

ڈونلڈ ٹرمپ، سائی اینگ وین

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنامریکہ کے نومنتخب صدر ٹرمپ نے تائیوان کی صدر سے براہ راست فون پر بات چیت کی ہے

امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی پالیسی سے انحراف کرتے ہوئے تائیوان کی صدر سائی اینگ وین سے براہ راست بات کی ہے۔

اس طرح انھوں نے سنہ 1979 میں طے امریکی پالیسی سے انحراف کیا ہے۔ اس پالیسی کے تحت امریکہ نے تائیوان سے رسمی تعلقات ختم کر دیے تھے۔

ٹرمپ کی مترجم ٹیم کے مطابق نو منتخـب صدر نے سائی اینگ وین سے امریکہ اور تائیوان کے درمیان 'قریبی اقتصادی، سیاسی اور دفاعی تعلقات' سے متعلق بات چیت کی ہے۔

ٹرمپ کے اس قدم سے چین ناراض ہو سکتا ہے کیونکہ وہ تائیوان کو علیحدگی پر مائل اپنا صوبہ تصور کرتا ہے۔

چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے مبینہ طور پر اس فون کال کو تائی وان کی جانب سے ایک چھوٹی کوشش کہتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔

نو منتخب امریکی صدر ٹرمپ نے ٹویٹ کیا ہے کہ سائی نے انھیں صدارتی انتخاب میں کامیابی پر مبارکباد دینے کے لیے فون کیا تھا۔

تائیوان کی صدر سائی اینگ وین

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنتائیوان کی صدر سائی اینگ وین نے فون پر امریکہ کے نومنتخب صدر کو ان کی کامیابی پر مبارکباد دی ہے

ان کی ٹیم نے بتایا کہ نو منتخب صدر ٹرمپ نے بھی سائی کو تائیوان میں جنوری میں ہونے والے انتخابات میں صدر بننے پر مبارک باد دی ہے۔

خیال رہے کہ کسی امریکی صدر یا نومنتخب صدر کے لیے تائیوان کی قیادت سے بات چیت کرنا انتہائي غیر معمولی عمل ہے۔

میڈیا میں تائیوان کے ساتھ بات چیت اور چین کے ناراض ہونے کے متعلق خبروں کے بعد ٹرمپ نے ٹویٹ کیا: 'عجیب بات ہے کہ امریکہ تائیوان کو اربوں ڈالر کا فوجی ساز و سامان فروخت کرتا ہے، لیکن مجھے وہاں سے دی جانے والی مبارکباد کی فون کال کو قبول نہیں کرنا چاہیے۔'

تاہم وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کی بات چیت امریکہ کی پالیسی میں 'کسی تبدیلی کا اشارہ نہیں' ہے۔

ٹرمپ کی ترجمان نے بتایا کہ وہ تائیوان کے متعلق امریکی پالیسی سے 'بخوبی واقف ہیں۔'

واشنگٹن نے بیجنگ کے 'ایک چین' کے تصور کی حمایت میں تائیوان سے سنہ 1979 میں تمام سفارتی تعلقات توڑ لیے تھے۔ اس تصور کے تحت تائیوان کو چین کا حصہ تسلیم کیا جاتا ہے۔