جنوبی کوریا میں لاکھوں مظاہرین سڑکوں پر، صدر سے مستعفی ہونے کامطالبہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جنوبی کوریا کی صدر پاک گن ہے کی جانب سے اپنی سہیلی کو سکیورٹی کلیئرنس نہ ہونے کے باوجود حکومتی دستاویزات دیکھنے کی اجازت دینے کے خلاف دارالحکومت سیول میں لاکھوں مظاہرین ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کو صدارتی محل جانے سے روکنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔
صدر پاک گن ہے نے اپنی سہیلی چوئی سون سل کو سکیورٹی کلیئرنس نہ ہونے کے باوجود سرکاری دستاویزات دیکھنے کی اجازت دی تھی۔
صدر پاک کا کہنا ہے کہ ان کو بہت دکھ ہے۔ یاد رہے کہ اس سکینڈل کی وجہ سے صدر پارک کی مقبولیت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔
مظاہرے کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اس مظاہرے میں دس لاکھ افراد شامل ہیں جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرین کی تعداد دو لاکھ 60 ہزار کے آس پاس ہے۔
صدر کی سہیلی چوئی سون سل دھوکہ دہی اور طاقت کے ناجائز استعمال کے الزامات میں زیر حراست ہیں۔ ان پر جنوبی کوریا کی کمپنیوں سے بھی بھاری رقم بٹورنے کے الزامات ہیں۔
ان کو پچھلے ہفتے گرفتار کیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی کے نامہ نگار سٹیفن ایونز کا کہنا ہے کہ اگرچہ مظاہرین پرامن ہیں لیکن نعرے بازی میں پچھلے ہفتے کے مقابلے میں شدت آئی ہے۔
مظاہروں کی توجہ کا مرکز صدر پاک گن ہے ہیں جن کا صدارتی محل کچھ ہی فاصلے پر واقع ہے۔ اور اگر وہ محل میں موجود ہیں تو ان تک نعرے بازی کی آواز ضرور جا رہی ہو گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
صدارتی محل جس کو اس کی نیلی چھت کے باعث بلیو ہاؤس کہا جاتا ہے کے ارد گرد 20 سے 30 ہزار پولیس اہلکار تعینات ہیں۔ بلیو ہاؤس کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں اور واٹر کینن بھی موجود ہے۔
نامہ نگار کا کہنا ہے کہ صدر کو اس وقت مجرمانہ مقدمات کا سامنا نہیں ہے لیکن ان کے قریبی افراد سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
صدر پاک نے اپنی سہیلی کو سرکاری دستاویزات تک رسائی دینے کی بات منظر عام پر آنے کے بعد معافی مانگی اور کہا کہ انھوں نے 'دوستی پر بہت اعتماد کیا اور اس بات پر دھیان ہی نہیں دیا کہ آس پاس کیا ہو رہا ہے'۔
انھوں نے کہا 'میری رات کی نیندیں حرام ہو گئی ہیں۔ میں جانتی ہوں کہ میں جو کچھ بھی کر لوں میں عوام کا اعتماد دوبارہ حاصل نہیں کر پاؤں گی اور اسی لیے مجھے شرم آتی ہے۔'
صدر پاک کا کہنا ہے کہ جس کسی نہ بھی جرم کیا اس کو سزا ملے گی اور وہ اپنے آپ کو تفتیش کے لیے پراسیکیوٹرز کے سامنے حاضر ہونے کو تیار ہیں۔








