فلوریڈا: مسجد میں بنے پولنگ سٹیشن کی منسوخی پر تنازع

- مصنف, ارم عباسی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، فلوریڈا
امریکہ کے صدارتی انتخاب میں اہم ریاست فلوریڈا میں انتظامیہ کی جانب سے پام بیچ کاؤنٹی میں واقع مسجد میں پولنگ سٹیشن بنانے کا فیصلہ واپس لیے جانے کے خلاف مسلم برادری کا احتجاج جاری ہے۔
انتظامیہ نے یہ فیصلہ غیر مسلم برداری کی جانب سے شکایات کے بعد کیا تھا تاہم مذہبی ہم آہنگی کے لیے مختلف مذاہب کے رہنماؤں کے اتحاد 'انٹر فیتھ کلرجی کوئلیشن' نے بھی انتظامیہ کے اس فیصلے کی مذمت کی ہے۔
اس مذمت کے باوجود انتظامیہ نے فیصلہ واپس لینے سے انکار کر دیا ہے اور اس معاملے نے پام بیچ کاؤنٹی کے رہائشیوں کو کسی حد تک تقسیم بھی کر دیا ہے۔
فلوریڈا کی پام بیچ کاوئنٹی میں اسلامک سینٹر کی تعمیر سنہ 2000 میں ہوئی اور اسے مسجد کے علاوہ بطور سکول اور دیگر مذہبی رسومات کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
پام بیچ کاؤنٹی کی الیکشن انتظامیہ نے چند ماہ پہلے مسجد کی انتظامیہ کو ایک نوٹیفیکیشن جاری کیا تھا جس میں مسجد کو پولنگ سٹیشن بنانے کی درخواست کی گئی تھی۔
اسلامک سینٹر کے بانی اور فلوریڈا اٹلانٹک یونیورسٹی کے پروفیسر باسم الحلابی نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا 'سرکاری عملہ مسجد میں آیا اور طے پایا کہ اسلامک سینٹر کی ریسیپشن میں پولنگ بوتھ بنائے جائیں گے۔' ۔

ان کا مزید کہنا تھا 'ہم بہت خوش ہوئے اور فوراً ووٹرز کے لیے کھانے پینے اور مشروبات کے انتظام کی منصوبہ بندی شروع کر دی لیکن پھر بعض غیر مسلم ووٹرز نے انتظامیہ کو کال کر کے شکایت کی کہ وہ مسجد کے اندر جانےسے خوف ذدہ ہیں اور بعض نے تو ووٹنگ روکنے کی دھمکیاں بھی دیں جس کے بعد انتظامیہ نے فیصلہ واپس لے لیا۔'
انھوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ 'اگر مسلمان چرچ میں جا کر ووٹ ڈال سکتے ہیں تو یہودی یا عیسائی مسجد میں آکر ووٹ کیوں نہیں ڈال سکتے؟'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فلوریڈا میں مذہبی ہم آہنگی پر کام کرنی تنظیم انٹر فیتھ کلرجی کوئلیشن کے صدر ربی ڈیوڈ سٹین ہارٹ الیکشن انتظامیہ کے فیصلے کی مذمت کرتے ہیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا 'یہ اسلام کے خلاف تعصب اور خوف کی وہی آوازیں ہیں جو ہم اس انتخاب میں سن رہے ہیں اور کمیونٹی کے مذہبی سربراہ ہونے کے ناطے ہمارا فرض ہے کہ ہم مذہبی ہم آہنگی کی بات کرنے والی آوازوں کو دبنے نہ دیں۔ تاکہ نفرت کی ہار ہو۔'
اس سوال پر کہ اس معاملے میں جیت تو نفرت کی ہی ہوئی ہے؟ انھوں نے کہا 'ہاں مگر یہ ان کی عارضی جیت ہے ، دائمی جیت ہماری ہی ہوگی۔'
فلوریڈا میں بسنے والے پاکستانی نژاد امریکی بھی اس فیصلے سے نالاں ہیں۔

سعدیہ رحمان نے کہا 'میں امریکہ میں پلی بڑھی ہوں۔ میرے والدین کا پاکستان سے تعلق ہونا یا ہمارا مسلمان ہونا ہماری امریکی شناخت کی قدر کو کم نہیں کرتا۔ مجھے دکھ ہے کہ تعصب کی جیت ہوئی ہے۔'
ایک اور رہائشی عینی حیات کا کہنا تھا 'چند مخصوص گروہ ہیں جو مسجد، مسلمان یا حجاب نہیں دیکھنا چاہتے۔ جب میں پاکستان جاتی ہوں تو وہ مجھے میرا گھر نہیں لگتا کیونکہ میں نے وہاں کبھی زیادہ وقت نہیں گزرا۔ وہاں میرے رشتہ دار میرے اردو لہجے کا مذاق اڑاتے ہیں لیکن جب امریکہ میں بھی لوگ امتیازی سلوک کرتے ہیں تو مجھے لگتا ہے جیسے میرا اس زمین پر کوئی گھر ہے ہی نہیں۔'
مبصرین کا کہنا ہے کہ 2016 کے امریکی صدارتی انتخاب نے مذہب کے نام پر تفریق یا تعصب کو بظاہر تقویت دی ہے جس سے امریکی معاشرے کے تقسیم ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔









