ملائیشیا: ہاٹ ڈاگ کا نام تبدیل کریں ورنہ حلال اشیا کا لائسنس منسوخ

ہاٹ ڈاگ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنمذہبی امور کے محمکے کا کہنا ہے کہ اسلام میں کتوں کو نجس مانا جاتا ہے اور ایسے ناموں کو حلال کی تصدیق سے نہیں جوڑا جا سکتا

ملیشیا میں ہاٹ ڈاگ فروخت کرنے والے دکانداروں سے کہا گیا ہے کہ اگر وہ چاہتے ہیں کہ حلال غذائی اشیا کے لیے ان کا سرٹیفیکٹ منسوخ نہ کیا جائے تو وہ ہاٹ ڈاگ کا نام فوری طور پر تبدیل کر لیں۔

اسلامی امور سے متعلق ایک مذہبی محمکے 'ملیشیئن اسلامک ڈیویلپمنٹ ڈپارٹمنٹ' کا کہنا ہے کہ بہت سے مسلم سیاحوں کی شکایات کے بعد نام تبدیل کرنے کا یہ فیصلہ کیا گيا ہے۔

محمکے کے ڈائیریکٹر سراج الدین سہیمی نے کہا کہ اس نام سے پریشانی ہوتی ہے۔ 'اسلام میں کتوں کو نجس مانا جاتا ہے اور ایسے ناموں کو حلال کی تصدیق سے نہیں جوڑا جا سکتا۔'

مقامی میڈیا کے مطابق ملیشیا میں حلال غذائی اشیا کے اصول و ضوابط کے متعلق کہا گیا ہے کہ 'حلال کھانا یا کسی دیگر حلال چيز کا نام کسی حرام چیز یا اس کی مترادف مصنوعات جیسے ہیم، بیئر، رم اور دیگر ایسی چیزوں کے نام پر اس لیے نہیں رکھا جا سکتا کیونکہ اس سے کنفیوژن پیدا ہوتا ہے۔'

ملیشیا ایک مسلم اکثریتی آبادی والا ملک ہے جہاں معتدل اسلام پر عمل ہوتا آيا ہے۔ تاہم اب قدامت پسندی کا رجحان بھی بڑھنے لگا ہے۔

پیر کے روز پیرٹزل کی فروخت کے لیے مقبول دکان آنٹی اینی کو اس وقت تک حلال کا سرٹیفیکٹ دینے سے منع کر دیا گیا جب تک کہ وہ پیرٹزل ڈاگ کا نام تبدیل نہیں کر لیتے۔ مسٹر سہیمی کا کہنا تھا کہ اسے پیرٹزل ساسیج کہنا کہیں زیادہ مناسب اور درست ہے۔

پیرٹزل

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنپیرٹزل کی فروخت کے لیے مقبول دوکان آنٹی اینی کو اس وقت تک حلال کا سرٹیفیکٹ دینے سے منع کر دیا گیا جب تک کہ وہ پیرٹزل ڈاگ کا نام تبدیل نہیں کر لیتے

اس امریکی فرنچائز کے ایک نمائندے کا کہنا تھا کہ یہ ایک بہت معمولی سی بات ہے اور کمپنی کو اپنے مینیو میں نام تبدیل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

لیکن ملک کے وزیر ثقافت مزاری عزیز نے مذہبی امور کے محکمے کے اس فیصلے پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے اسے احمقانہ اور قدامت پرستانہ تعبیر کیا۔

انھوں نے خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس نام پر کسی کو اعتراض نہیں کرنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہاٹ ڈاگ تو ہاٹ ڈاگ ہی ہوتا ہے۔ مالے میں بھی اسے اسی نام سے جانا جاتا ہے اور یہ اسی نام سے برسوں سے یہاں ہے۔ میں خود ایک مسلمان ہوں لیکن مجھے تو اس سے کوئی تکلیف نہیں ہوتی ہے۔'

ان کا کہنا تھا: 'یہ لفظ انگریزی زبان کا ہے۔ مہربانی کر کے ہمیں قدامت پرست اور احمق لگنے سے محفوظ رکھیں۔'

اس فیصلے پر سوشل میڈیا پر بھی بحث شروع ہو گئی ہے اور ملیشیا میں لوگ اس پر طرح طرح کی رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔