کیا ڈونلڈ ٹرمپ کی ہندوؤں سے قربت کام آئے گی؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ میں رپبلکن جماعت کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں نیوجرسی میں ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے حامیوں کی موسیقی سے سجی ایک رنگا رنگ ریلی میں شرکت کی جس میں بالی وڈ کے فنکار بھی شامل ہوئے۔ واشنگٹن سے سیما سروہی نے یہ جاننے کی کوششش کی ہے کہ اس سے انتخابی فرق کم ہوگا یا نہیں۔
نیو جرسی کے علاقے ایڈیسن میں ہونے والی اس تقریب میں 5000 افراد شریک ہوئے۔ اسے ایک فلاحی تقریب کا نام دیا گیا جس میں انڈیا اور بنگلہ دیش میں دہشت گردی سے متاثرہ افراد کی امداد کے لیے رقم جمع کی گئی۔
ٹرمپ نے پنجابی گلوکاروں اور بالی وڈ کی رقاصاؤں کے درمیان اس تقریب میں شرکت کی اور یہ ظاہر کیا کہ ان کے صدر منتخب ہونے کی صورت میں انڈیا اور امریکہ ’بہترین دوست‘ ہوں گے۔
ہمیشہ کی طرح وہ اس تقریب میں بھی بنا تیاری کے آئے اور اندازوں کے مطابق غلطیاں کیں۔
انھوں نے انڈیا کے لیے بطور ملک ’ہندو‘ کا لفظ استعمال کیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انھوں نے سنہ 2008 کے ممبئی حملوں اور سنہ2001 میں انڈین پارلیمان پر حملوں کا ذکر کرتے ہوئے دونوں کے مقامات بدل دیے۔
اس کے علاوہ انھوں نے انڈیا کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے تقریر بھی کی۔
لیکن اس تقریب میں آنے والوں کے لیے اس کی تفصیل کی اہمیت کم تھی کیونکہ وہ یہاں تفریحی تقریب کے لیے آئے تھے جبکہ ٹرمپ محض ایک سائیڈ شو تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گو کہ شرکا نے منتظمین کی جانب سے فراہم کردہ پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر ٹرمپ کے حمایت میں نعرے درج تھے جیسے کہ ’ہندو ٹرمپ کے ساتھ ہیں‘، ٹرمپ انڈیا کے لیے عظیم، لیکن ٹرمپ کی دیگر ریلیوں جیسا جوش و خروش یہاں نہیں تھا۔
ٹرمپ نے انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی کی تعریف کرتے ہوئے انھیں ترقی پسند ’عظیم آدمی‘ قرار دیا۔ جبکہ نریندر مودی کی بطور وزیرِ اعظم تقریر بھی سکرین پر چلائی گئی۔
لیکن ڈونلڈ ٹرمپ نے نہ تو دورانِ تقریب نہ ہی بعد ازاں انڈین میڈیا سے بات چیت میں پاکستان کا ذکر کیا۔
انھوں نے پاکستان سے متعلق سوال یہ کہتے ہوئے ٹال دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کے وقت وہ کوئی بات کر کے تنازع پیدا نہیں کرنا چاہتے۔

،تصویر کا ذریعہAP
اس ریلی کے منتظم شکاگو کے تاجر شلبھ کمار تھے۔ انھوں نے رپبلکن امیدوار کو ایسی تقریب میں شرکت کے لیے راضی کر لیا تھا جسے تجزیہ کار ایک اہم کام قرار دے رہے ہیں۔
لیکن انڈین امریکی ڈیموکریٹک پارٹی کے حامی ہیں۔
ڈیمو کریٹک پارٹی کا امیگریشن، سماجی مسائل اور انصاف کے حوالے سے موقف انڈین نژاد امریکیوں کو مائل کرتا ہے۔
حالیہ ہی میں نیشنل ایشیئن امریکن سروے کے نتائج کے مطابق 67 فیصد انڈین ٹرمپ کی حریف صدارتی امیدوار ہلیری کلنٹن کے حامی ہیں۔ امریکہ میں ایشیائی قوموں میں سب سے زیادہ تعداد انڈینز کی ہے۔
محض سات فیصد کا کہنا تھا کہ وہ ٹرمپ کو ووٹ دیں گے۔ امریکہ میں انڈین نہ صرف سب سے زیادہ کمانے والے بلکہ سب سے زیادہ تعلیم یافتہ گروہ ہیں۔
امریکہ میں حالیہ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق انڈین امریکیوں کی اوسط آمدن 100547 ڈالر ہے جبکہ امریکہ کی قومی اوسط آمدن 51939 ڈالر ہے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو یہ ریلی زبردستی مطابقت پیدا کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔








