بنگلہ دیش کی ’راکٹ‘ کشتیاں: پانی میں نصف ڈوبے شہر کو دیکھنے کا دریچہ

،تصویر کا ذریعہMike MacEachera
- مصنف, مائیک میک ایچران
- عہدہ, بی بی سی ٹریول
یہ غروب آفتاب کے بعد کا منظر تھا جب پہلا خطرہ نظر آیا۔ بنگلہ دیش کے دریائے بوڑھی گنگا کے سیاہ پانی میں اپنی دھات کی بنی عینک سے دیکھتے ہوئے، کیپٹن لُطف الرحمن نے چیخ کر کہا کہ ’سٹار بورڈ رائٹ! بھائی، بوائلر روم کے پمپ چلاؤ!‘
مکمل طور پر کسی روشنی کے بغیر رواں دواں کشتیاں نے صرف ایک بلند آواز کے ہارن کی مدد سے سامنے سے آنے والی ایک کشتی سے ٹکرانے سے خو کو بچا لیا۔
پانی میں تباہی کو ذہن میں رکھتے ہوئے، ٹارپیڈو کے سائز کی طرح مستحکم بہاؤ کے ساتھ، کثیر المنزلہ کشتی، جس میں بہت سارا کباڑ بھرا ہوا تھا، ڈھیلے ربڑ کی بنی ہوئی تھی۔ یہ ڈھاکہ اور خلیج بنگال کے درمیان سفر کرنے والی ایک کمزور مال بردار کشتی تھی۔
اگر یہ ٹکراتی تو ایک بڑی تباہی ہوسکتی تھی۔ پھر بھی یہ کوئی خوش قسمتی نہیں تھی۔ دہائیوں سے ہر رات پی ایس آسٹرِچ نامی کشتی یا چھوٹا جہاز، جو کہ ایک تاریخی بنگلہ دیشی پیڈل وہیل سٹیمر ہے، اس بے ہنگم ماحول سے کسی حادثے کے بغیر نکلنے میں کامیاب ہو گیا، گویا کہ یہ ایک جنگی جہاز کی طرح ایک حقیقی جنگی کھیل سے صحیح سلامت نکلنے میں کامیاب ہوگیا ہو۔

،تصویر کا ذریعہMike MacEacheran
اس طرح کی ہوشیاری دنیا کے سب سے زیادہ گنجان آباد ملک میں کشتیوں کے سفری نظام کو محفوظ طور پر چلانے میں بہت مدد دیتی ہے۔
بنگلہ دیش میں 8000 کلومیٹر کے دریا اور آبی گزرگاہیں ہیں جن میں مال بردار کشتی رانی کی جا سکتی ہے اور یہ ایک ایسا منظر پیش کرتی ہیں جس کا مقابلہ انگریز رومانوی پینٹر جے ایم ڈبلیو ٹرنر کے شاہکاروں سے کیا جا سکتا ہے۔
بنگلہ دیش کے ڈیلٹا بہت بڑے اور پیچیدہ نوعیت کے ہیں۔۔۔ ان میں صرف ایسی کشتیوں پر ہی سفر کیا جا سکتا ہے اور یہ لطف الرحمان جیسے سمندری جہازوں کے سخت نظم و ضبط کے تریت یافتہ ملاحوں کی بدولت ہے کہ پی ایس آسٹرچ کبھی ڈوبا نہیں یا تباہ نہیں ہوا۔
یہ ناٹیکل انجینئرنگ اور اندھے عقیدے کا ایک حیرت انگیز کارنامہ ہے کہ سٹیمر ڈھاکہ سے 20 گھنٹے کا مشکلات سے بھرا سفر مکمل کرلیتا ہے، جو کہ دنیا کے سب سے بڑے مینگروو جنگل سندربن کے کنارے پانی میں مورال گنج شہر تک چلتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAllen Brown/Alamy
پی ایس آسٹرِچ کو بنگلہ دیش کی تاریخ میں سے اب تک قابلِ استعمال کشتیوں میں شمار کیا جا سکتا ہے، اس میں اس خطے کی تاریخ موجود ہے۔
یہ ملک کے صرف چار پیڈل وہیل سٹیمرز میں سے ایک ہے۔ انھیں ’راکٹ‘ کا نام دیا گیا ہے کیونکہ وہ کبھی پانی پر تیز ترین کشتیاں تھیں۔ دیگر پیڈل وہیل سٹیمرز۔۔۔ پی ایس محسود، پی ایس لِپ چند اور پی ایس ٹرن - اب بھی زیرِ استعمال ہیں لیکن یہ آسٹرِچ ہے جو سب سے پہلے ڈھاکہ کے صدر گھاٹ بوٹ ٹرمینل کی پُرہجوم گودیوں میں اپنی دیو مالائی کہانیوں والی شکل کے ساتھ چلا آتا ہے۔
جہاز نما کشتی، پانی میں اس حد تک ڈوبی نظر آتی ہے کہ بس اب ڈوبی کہ جب ڈوبی اور اس کا نہ ڈوبنا ایک معجزے سے کم نہیں لگتا۔
یہ دو تہوں والا خستہ حال ڈھانچہ، جو اپنی طویل زندگی کی وجہ سے بُری حالت تک پہنچ چکا تھا، سنہ 1929 میں خلیج بنگال میں مسافر فیری کے طور پر استعمال ہونے سے پہلے سکاٹ لینڈ کے کلیڈ بینک کے ڈاک یارڈ میں تعمیر کیا گیا تھا۔ جیسے بنگال میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے نوآبادیاتی دور کی باقیات لگتا ہو۔

،تصویر کا ذریعہMarcia Chambers/Alamy
اس وقت سکاٹش شپ یارڈ کے مزدوروں کو شاید ہی اس بات کا علم ہو کہ یہ کشتی یا جہاز 85 سال بعد بھی بنگلہ دیش میں نقل و حمل کا اہم ذریعہ ہے۔
اگرچہ اس کے بڑے بڑے پیڈل ویلز کو سنہ 1996 میں ڈیزل انجن کے ذریعے چلایا جانا شروع کردیا گیا تھا اور اس کی (زنگ آلود ٹین شیٹس کی) چھتوں کو تبدیل کر دیا گیا تاہم یہ اپنی شکل و صورت میں اب بھی ایک قدیم شہ نظر آتا ہے۔
لطف الرحمان نے کہا کہ ’ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کسی قدیم شہ میں سفر کیا جا رہا ہے۔ پانی پر نئی، تیز کشتیاں ہیں لیکن ان پر زندگی ایک جیسی نہیں۔ اس پر سفر کسی بھی دوسرے سفر سے ایک مختلف تجربہ ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہMike MacEacheran
جب سامان سے بھری ہوئی ہو - تھری پیس سوٹس اور واشنگ مشینوں سے لے کر اناج کی بوریاں اور بیکار سائیکلوں تک - تو اس وقت یہ جہاز پانی پر تیرتے ہوئے گاؤں جیسا نظر آتا ہے، جس کا ذکر ہم اپنی افسانوی کہانیوں یا ڈراموں میں ہی میں سنتے ہیں۔
اس پر 700 مسافروں کی گنجائش ہے لیکن عید جیسی اسلامی تعطیلات کے دوران یہ تعداد تین ہزار تک بڑھ سکتی ہے۔
راکٹ کہلانے والی ان کشتیوں کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ بنگلہ دیش ایک ایسی معیشت ہے جس میں پانی پر سفر کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔۔۔ اور اسے تیز، اور زیادہ جدید کشتیوں کی ضرورت ہے۔
ہمسایہ ممالک انڈیا اور چین کے ساتھ بڑھتا ہوا مقابلہ ہے، جو اپنے چمکدار سفید، کئی گنا بڑی کشتیوں اور جہازوں سے مسافروں کو نئے آپریٹرز کی طرف راغب کر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہTarzan9280/iStock
یہ جدید گہری کشتیاں ڈھاکہ سے چٹاگانگ، چاند پور، برسل، ہلراحت اور مورال گنج کے ڈیلٹا شہروں کا سفر راکٹ کہلانے والی کشتیوں کی نسبت نصف وقت میں مکمل کر سکتی ہیں، ان کا بہتر شیڈول ہوتا ہے اور کرائے بھی کافی کم ہوتے ہیں۔
اس طرح کے فوائد کی وجہ سے جدید کشتیاں ملک کی ترقی میں بھی ایک اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ اگر ان کا موازنہ کیا جائے تو راکٹس اب فرسودہ اور متروک کشتیاں نظر آتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہMike MacEacheran
لیکن ان پرانی کشتیوں کا تاریخ کی باقیات ہونا ہی شاید ان کو آج بھی برقرار اور جاری رکھنے کی ایک وجہ ہوسکتا ہے۔
جدید دنیا میں راکٹ کہلانے والی کشتیاں ہر عمر کے بنگلہ دیشیوں کے لیے یادوں کی دولت سے بھری ہوئی ہیں۔ بوڑھے لوگ دوسری عالمی جنگ کے زمانے سے ان پر سفر کرتے آرہے ہیں جبکہ نئی نسل کے لوگ ان کشتیوں پر کھڑے ہو کر تاریخ کی رومانویت اور ایڈوینچر کے مزے سے لطف اندوز ہو تے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہMike MacEacheran
ٹائٹینک پر سفر جیسا لطف
ڈھاکہ کے ایک اخبار کے صحافی چندن سُتسِل نے کہا کہ ’میں اپنے والد، جو کہ ایک ڈاکٹر ہیں، کے ساتھ ڈھاکہ میں کشتی پر سوار ہو کر جاتا تھا۔۔۔ یہ وہ چیز ہے جسے میں کبھی نہیں بھولوں گا۔ میرے جیسے لوگ تاریخ کی قدر کرتے ہیں۔
’ایسا محسوس ہوتا ہے جیسا کہ ہم ٹائٹینک پر سفر کر رہے ہوں۔‘
حکام راکٹس کی سلامتی اور محفوظ سفر کے ریکارڈ کی بھی نشاندہی کرتے ہیں۔ بوڑھی گنگا، پدما اور میگھنا دریاؤں کے سہ طرفہ سنگم سے متصل ایک شہر چاندپور، جو کثیر المنزلہ جہازوں اور فیریز جیسی کشتیوں کے بڑے حادثوں کی وجہ سے مشہور ہے، وہاں اب تک راکٹوں کو ان کے محفوظ سفر کی وجہ سے برقرار رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہAmanda Ahn/Alamy
یہ وہ چیز ہے جس پر پی ایس آسٹرِچ کے سبھی مسافر متفق ہیں۔
محکمہ جنگلات کے ملازم رجب احمد خان نے کہا کہ وہ برسل سے ہلراحت تک جا رہے ہیں۔
’راکٹ زیادہ قابل اعتماد ہیں، ان کا اس دوران کبھی کوئی حادثہ نہیں ہوا۔ یہ انگریزوں نے بنایا جبکہ زیادہ جدید کشتیوں میں بہت سارے مسائل ہیں۔ اس کے لیے کسی چیز کا کبھی بھی کوئی مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہMike MacEacheran
عام فہم توقعات کے برخلاف، راکٹس کے مستقبل کا دار و مدار اس کی رفتار کی زیادتی اور کمی پر منحصر ہو سکتا ہے۔
تیز رفتار کشتیاں صرف بڑی گودیوں میں آسکتی ہیں اور اگر راکٹس کو بند کردیا جائے تو درجنوں چھوٹی کمیونٹیز سفری سہولتوں سے محروم ہو جائیں گی۔
یہ پھلوں کے درختوں اور پانی سے بھرے چاول کے دھانوں سے گھرے ہوئے مٹی کے جھونپڑوں والے دیہات پی ایس آسٹرِچ کی سروس کے بغیر سفر کی سہولت سے محروم ہو جائیں گے کیونکہ یہ راکٹس چھوٹی کشیوں کی بنی ہوئی گودیوں پر رک کر، اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ چھوٹے دیہاتوں کے لوگ بھی پانی میں سفر کرسکیں۔

،تصویر کا ذریعہMike MacEacheran
ایک رکشہ ڈرائیور، محمود مہدی جو اپنے بوڑھے والد کے ساتھ راکٹ پر ایک گاؤں سے دوسرے تک کا سفر کر رہا تھا، نے کہا کہ یہ ایک بہت پرانی سہولت ہے۔
’ہم دریا سے صرف دو کلومیٹر نیچے جا رہے ہیں لیکن راکٹ کے بغیر یہ سفر ممکن نہیں ہو گا۔‘
اور غیر ملکی مسافروں کے لیے، یہ سفر نصف ڈوبی ہوئی دنیا میں ایک ایسی رومانوی کھڑکی ہے، جہاں سے وہ ماضی کو دیکھ سکتے ہیں۔
یہ ایک ایسا سفر ہے جس کا موازنہ کسی اور رومانوی تجربے سے نہیں کیا جا سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہChristine Osborne/Alamy
پانی کے موجودہ بہاؤ کی وجہ سے، یہ بہت حد تک ممکن ہے کہ ان تمام آبی گزرگاہوں پر جو سندربن کے عظیم مینگروو کے جنگلوں تک جاتی ہیں، جو کہ رائل بنگال ٹائیگر کی آخری پناہ گاہ ہے، کا سفر کیا جا سکے۔
اس کے علاوہ ان کشتیوں پر سفر کے دوران ماضی میں سیلاب زدہ دریاؤں اور ڈوبے ہوئے دھان کے کھیتوں کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
اگر بنگلہ دیش میں بقا کے لیے دریا پر تیرتے رہنا ہے تو پی ایس آسٹرِچ جیسا پیڈل وہیل سٹیمر مستقبل میں زندہ رہ سکتا ہے اور یہ دیر تک ان پانیوں پر سفر جاری رکھ سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہMike MacEacheran











