انڈیا میں ’پیسہ وصول‘ کا وہ تصور جو اجنبیوں کو بھی آپس میں جوڑ دیتا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, نین تارا دتہ
- عہدہ, بی بی سی ٹریول
ممبئی میں نئے اپارٹمنٹ میں اپنے پہلے ہفتے کے اختتام پر میں پھل اور سبزیوں کی مقامی منڈی میں گئی جہاں میں نے ایک ٹوکری سبزیوں اور مصالحوں سے بھری۔ اس کے بعد میں نے انڈوں کی ایک باسکٹ بھی اٹھا لی لیکن پیسے دیتے وقت میرے پاس کیش کم پڑ گیا، جس پر دکاندار نے کہا فکر نہ کریں انڈے لے جائیں اور ان کے پیسے اگلے ہفتے دے دیں۔ اُس کے اِس اعتبار نے مجھے حیران کر دیا۔ اس طرح ایک اجنبی کے ساتھ میرا رابطہ سا بن گیا اور اس کی اس ہمدردی اور بھروسے نے مجھے اس کا مستقل گاہک بنا دیا۔
انڈیا میں ایک ثقافتی تصور 'پیسہ وصول' کا ہے، جس کا مطلب ہے کہ کسی ایسی چیز پر پیسے خرچ کرنا اور اتنے کرنا کہ آپ اس کے نتیجے سے مطمئن ہوں۔ پیسہ وصول، مقامی طرز زندگی کی عکاسی کرتا ہے کہ ہمارے پاس موجود ہر چیز میں قدر تلاش کرنے اور تمام اشیا کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے کوشش کی جائے۔ جیسے کسی ہوٹل میں مفت ناشتے سے لطف اندوز ہونے کے اطمینان سے لے کر شیمپو میں پانی شامل کرنا تاکہ وہ زیادہ دیر تک چلے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم کسی چیز کی کتنی قیمت ادا کرتے ہیں بلکہ مقصد یہ ہے کہ اس سے ہم کتنا فائدہ اٹھاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
لیکن پیسہ وصول ایک اہم انسانی جزو بھی ہے۔ یونیورسٹی آف ٹورونٹو میں تاریخ کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر ریتو بِرلا کا کہنا ہے: 'یہ انڈین معاشرے میں ربط اور تعلقات کی عکاس ہے۔ چاہے وہ ایک کے ساتھ ایک مفت کی پیش کش کا فائدہ اٹھانا ہو یا کسی اور کا دیا ہوا تحفہ کسی دوسرے کو بطور تحفہ دینا ہو یا پھر ڈاکٹر سے مشاورت کے دوران پیسے وصولنے کے لیے اضافی سوالات کرنا ہو۔ یہ ایک ایسی ذہنیت ہے جو ناقابل یقین حد تک مختلف لوگوں کو آپس میں جوڑتی ہے۔‘
لہٰذا، جب دکاندار نے مجھے انڈوں کے پیسے بعد میں ادا کرنے کے لیے کہا تو مجھے پیسہ وصول کا احساس ہوا۔ اب جب اس نے مجھ پر احسان کیا ہے تو اسے میرے اعتماد کی قیمت ملی کہ اب میں اس کی وفادار گاہک بن جاؤں گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فراخدلی کے اس جذبے کو لفظ برکت یا کثرت سے جوڑا جاتا ہے جو پیسے کے متعلق فلسفے کو بیان کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ آسٹریلیا کی میلبرن یونیورسٹی میں سوشیالوجی کی اعزازی پروفیسر ڈاکٹر سپریہ سنگھ نے وضاحت کی کہ 'انڈیا میں پیسہ تعلقات کا ایک ذریعہ ہے۔ یہاں تک کہ اگر لوگوں کے پاس بہت زیادہ پیسہ ہے تو بھی وہ اسے احتیاط کے ساتھ خرچ کرتے ہیں اور بانٹتے ہیں۔'
ایک زمانے میں انڈیا دنیا کے امیر ترین ممالک میں شمار ہوتا تھا لیکن نوآبادیاتی نظام اور بدعنوانی نے ڈرامائی انداز میں اس کی معیشت کو کمزور کردیا۔ گذشتہ 50 سال کے دوران ملک کو مالی بحران کے ساتھ ساتھ نوٹ بندی جیسی پالیسیوں کا بھی سامنا رہا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
آج ایسے ملک میں جہاں 60 فیصد آبادی تقریباً تین ڈالر یومیہ میں زندگی گزار رہی ہے اس معاشی طور پر غیر یقینی صورتحال نے ایک ایسا کلچر پیدا کیا ہے جس میں لوگ انتہائی محتاط انداز میں اپنے پیسے خرچ کرتے ہیں۔
انڈیا کا روپیہ ایک طاقتور کرنسی ہوا کرتا تھا اور پرانی نسل کے لوگوں کا خیال ہے کہ چیزوں کی قیمتیں اتنی نہیں ہونی چاہییں جتنی آج کل ہیں۔ ممبئی میں ایک برانڈ سٹریٹیجسٹ نندنی شینائے کا کہنا ہے کہ اب بہت سے نوجوانوں نے یہ اصول بنا لیا ہے کہ انھیں اپنی خرچ ہونے والی رقم سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہیے۔
ایسے گنجان آباد ملک میں جہاں آپ بھیڑ میں گُم سکتے ہیں وہاں ذاتی تعلقات بھی ایک طرح کی کرنسی ہے۔
ممبئی میں ایک ٹریول کمپنی ’نو فٹ پرنٹس‘ کے شریک بانی ہرشوردھن تنور نے کہا 'لوگوں میں حکومت کے تیئں اعتماد کا واضح فقدان ہے لیکن اعتماد کا یہ فقدان آپ کو ارد گرد کے لوگوں کے ساتھ نظر نہیں آتا ہے۔'
سپر سٹورز کی موجودگی کے باوجود زیادہ تر لوگ ذاتی تعلقات کی بنا پر پھیری والوں اور مقامی دکانداروں سے سامان خریدنا پسند کرتے ہیں۔ شینائے کئی دہائیوں سے اسی نکڑ کی دکان پر جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے واضح طور پر سٹور کے مالک پر بھروسہ ہے جو مجھے اس وقت سے جانتا ہے جب میں پانچ سال کی تھی‘۔
ان کا کہنا ہے کہ انھیں معلوم ہے کہ ان کا دکاندار ان کے ساتھ دھوکہ نہیں کرے گا جبکہ بڑے سپر سٹور میں وہ ایک بھیڑ میں شامل ہوں گی یہاں تک کہ اگر شینائے کو ایک سپر مارکیٹ میں اعلیٰ معیار کی مصنوعات مل سکتی ہیں پھر بھی وہ اپنے مقامی دکاندار کے یہاں سے سامان خریدنے کے ذاتی تجربے کو ترجیح دیتی ہیں جو انھیں بتائے گا کہ کون سی چیز بہتر ہے اور کس سے پیسہ وصول ہوگا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ان کا کہنا تھا 'جب میں نیویارک سے انڈیا گئی تو میں نے گوگل پر ڈاکٹر کی تلاش کی جو میرے گھر والوں اور دوستوں کو عجیب لگا کیونکہ انڈیا میں آپ اپنے دوست و احباب کے بتائے ہوئے ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں۔‘
جب میں نے یہ کہانی تنور کے ساتھ شیئر کی تو انھوں نے اتفاق کیا۔ ان کا کہنا تھا 'آپ کسی ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں جس کی سفارش آپ کے گھر کے کسی فرد نے کی ہے اس لیے نہیں کہ آپ ڈاکٹر پر اعتماد کرتے ہیں بلکہ اس لیے کیونکہ آپ کو اس شخص پر اعتماد ہے جو آپ سے ڈاکٹر کی سفارش کر رہا ہے۔'
’پیسہ وصول‘ نے مجھے ان لوگوں کے ساتھ ایک نئی قسم کے انسانی تعلق سے بھی متعارف کرایا جن سے میں خریداری کرتی ہوں۔ کسی کاروبار سے نہیں بلکہ انسان سے بات کرنے میں فطری خوشی ہوتی ہے کیونکہ اس سے لگتا ہے کہ دنیا چھوٹی ہے۔ شہر میں صرف چند ہفتوں کے بعد ہی مجھے مقامی دکانداروں کے ساتھ مختصر گفتگو میں سکون کا ایک نیا احساس ملا۔
صرف تین ملاقاتوں کے بعد میرا درزی مجھ سے مذاق کرنے لگا۔ جب میں نے پوچھا کہ میرے کپڑے ٹھیک کرنے میں کتنا خرچ آئے گا تو اس نے کہا آپ کتنا دینا چاہتی ہو۔ جب میں نے نئے سبزی والے سے پورے ہفتے کی سبزی خریدی تو گھر آکر دیکھا تو سبزی والے نے میرے بیگ میں مفت کڑی پتا ڈالا ہوا تھا۔
یہ ایک غیر رسمی معیشت کی طرح ہے۔
تنور کا کہنا تھا کہ 'انڈیا میں کاروبار لین دین سے بالاتر ہے۔ یہ جتنا کسی چیز کے بارے میں ہے اتنا ہی انسان کے بارے میں بھی ہے۔ 'انڈیا میں لوگ دوسرے افراد میں بھی اتنی ہی سرمایہ کاری کرتے ہیں جتنی وہ مصنوعات یا خدمات میں کرتے ہیں۔'
تنور ایک مقامی خاتون سے مچھلی خریدنے کے لیے مقامی ماہی گیروں کے گاؤں جاتے ہیں۔ جب ان کے پاس اچھی مچھلی نہیں ہوتی تو وہ کسی اور سے خریدنے کا مشورہ دیتی ہیں۔ اس خاتون کی ایمانداری کا اثر اس کے کاروبار پر پڑتا ہے لیکن وہ جانتی ہے کہ اس کا ایک وفادار گاہک برقرار رہے گا۔
جب ان کے پاس پورے پیسے نہیں ہوتے تو وہ کہتی ہے، ’بعد میں دے دینا۔ پیسہ ہمارے لین دین کا حصہ کم سے کم ہے۔‘
ڈاکٹر رتو برلہ کا کہنا ہے کہ بازاروں اور دکانداروں یا پھیری والوں کے درمیان اس قسم کے غیر رسمی تبادلے سے پیسہ وصول کی عمدہ مثال ملتی ہے۔
'جب میں بازار سے گزرتی ہوں تو رنگ برنگی شالوں، ساڑھیوں اور چوڑیوں کو دیکھ کر ایک خوبصورت اور قیمتی تجربے کا احساس ہوتا ہے اور جب میں بھٹہ خریدتی ہوں تو اس دوران جب بھٹہ بھن رہا ہوتا ہے تو میں دکاندار سے باتیں بھی کرتی ہوں جو یاد رکھتا ہے کہ مجھے چٹپٹا بھٹہ پسند ہے۔ ڈاکٹر برلہ نے کہا 'اس سیاق و سباق میں اس تجربے کی انمول قیمت پر توجہ دینا ضروری ہے۔'
انڈیا جانے والے دیگر لوگ بھی مقامی ثقافت کا حصہ بن کر اور لوگوں سے زیادہ سے زیادہ بات چیت سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا کر پیسہ وصول کا تجربہ کرسکتے ہیں۔ چاہے وہ بازار جا رہے ہوں یا پبلک ٹرانسپورٹ لیں یا پھر اجنبیوں کے ساتھ کھل کر بات چیت کر رہے ہوں اس طرح آپ کو پیسہ وصول کے ساتھ ساتھ انڈیا کی حقیقی روح کا احساس بھی ہوگا۔










