بالوں کو مضبوط بنانے سے چیونٹیوں سے جان چھڑانے تک۔۔۔ سستے ٹوٹکے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عائشہ امتیاز
- عہدہ, صحافی
جب میرے جڑواں بیٹوں کی ولادت ہوئی تو بطور تکیہ اُن کے سروں کے نیچے سٹیل کے برتنوں کے ڈھکن، چاولوں سے بھری چھوٹی چھوٹی تھیلیاں اور چائے کی پرچیں رکھی جاتی تھیں۔ اس سب کا مقصد صرف ایک تھا یعنی ان کے سروں کو مکمل طور پر گول بنانا۔
یہ پاکستانی معاشرے میں رائج روایتی ٹوٹکوں میں سے ایک تھا۔ اپنی زچگی اور اس کے بعد مجھے بہت سے ایسے ٹوٹکوں کا علم ہوا۔
ٹوٹکے ان گھریلو طریقوں کو کہا جاتا ہے جو کہ روزمرہ کے مختلف مسائل، پیچیدگیوں یا عام بیماریوں کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں، اور بعض اوقات یہ ٹوٹکے حیران کن طور پر مؤثر بھی ثابت ہوتے ہیں۔
برصغیر میں لوگ ہمیشہ سے اپنے بزرگوں کے آزمودہ نسخوں کو روز مرہ کے مسائل حل کرنے کے لیے استعمال کرتے آئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
آنکھ کے پپوٹوں پر نکلنے والے دانوں کے علاج کے لیے لہسن کے استعمال، چیونٹیوں سے جان چھڑانے کے لیے نمک اور ہلدی چھڑکنا، چھپکلیوں کو بھگانے کے لیے گھر کی مختلف جگہوں پر انڈوں کے خول رکھنا اور ڈینگی بخار سے بچنے کے لیے لونگ کو لیموں میں لگانا۔ یہ بہت سے رائج ٹوٹکوں میں سے صرف چند ایک ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیموں، ہلدی اور ادرک ایسی تین قدرتی نعمتیں ہیں جو بہت سی بیماریوں میں اکثیر ثابت ہوتی ہیں، جبکہ گھی پینے سے زچگی آسان ہوتی ہے اور ہینگ کے استعمال سے جسم سے گیس خارج ہوتی ہے۔
برصغیر میں سفر کرنے والوں میں سے بہت سے لوگوں کو ان افراد کو بسوں اور ٹرینوں میں دیکھا ہو گا جو عام بیماریوں کے علاج کے لیے مقامی طور پر بنائی گئی ادویات فروخت کرتے ہیں یا سماجی تقریبات میں اکثر بزرگ اپنی زندگی کے ایسے آزمودہ طریقے لوگوں کو بتاتے ہوئے ملیں گے۔
پاکستان میں آپ صرف اپنی بیماری کی بات کریں یا اس کی کوئی علامت لوگوں کو نظر آنے کی دیر ہے کہ آپ کو بہت سے ٹوٹکے استعمال کرنے کے مشورے ملنے شروع ہو جائیں گے۔
خاص کر خوبصورت بننے کے ٹوٹکے تو بہت مقبول عام ہیں اور اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں بیوٹی سیلون جانا صرف شادی شدہ خواتین کا حق سمجھا جاتا رہا ہے، اور اس کے نتیجے میں بہت سی کنواری خواتین کو دیسی طریقوں اور قدرتی اجزا کا ہی سہارا لینا پڑتا ہے۔
چہروں پر، خصوصاً سن بلوغت کو پہنچنے پر، نکلنے والے دانوں اور مہاسوں کے علاج کے لیے باسی روٹی اور نیم کا چورا استعمال کیا جاتا ہے تاکہ ان دانوں سے نکلنے والی رطوبت کو کم کیا جائے اور جلد کے مسام کھل سکیں۔
کھانا پکانے سے لے کر بناؤ سنگھار تک عام استعمال میں آنے والے اجزا سے بہترین نتائج حاصل کیے جاتے ہیں۔
اردو میں رائج لفظ ٹوٹکا سنسکرت زبان سے لیا گیا ہے۔ کراچی کے سکولوں میں گذشتہ 28 برس سے اُردو زبان کی درس و تدریس کرنے والی سیدہ نوشین علی کا کہنا ہے کہ ٹوٹکے کا مطلب ہے ’کسی بھی بری نظر یا منفی چیز کا علاج۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انھوں نے کہا کہ ٹوٹکے کا ایک مترادف لفظ ’ٹونا‘ بھی ہے اور دونوں لفظ مل کر کالے جادو سے منسلک ہیں۔
جب جنوبی ایشیا کے لوگ بتدریج جادو منتر سے دور ہوتے چلے گئے تو عصرِ حاضر کی ویڈیو میں یہ لفظ جڑی بوٹیوں سے بنائے جانے والے اُن گھریلو نسخوں کے لیے استعمال ہونے لگا جو کہ حیران کُن حد تک کارگر ثابت ہوتے ہیں۔
ٹوٹکے پاکستانیوں کو اپنے ماضی کی یاد بھی دلاتے ہیں۔ یہ ٹوٹکے گھروں میں بزرگ خواتین نانیوں یا دادیوں کو یاد ہوتے تھے جنھوں نے پاکستان اور انڈیا کی تقسیم، جنگ، یا دونوں ادوار دیکھے تھے۔
ٹوٹکے بتا کر دراصل وہ اپنے تجربے اور اپنی دانائی کا ثبوت دے رہی ہوتی تھیں۔ سیاسی انتشار کے ماحول میں یا قحط کے دوران ٹوٹکے متبادل کے طور پر نہیں بلکہ دوائیوں کی جگہ استعمال ہوتے تھے۔
80 سالہ سمندر پار بسنے والے پاکستانی رحمان نواب جان صدیقی نے اپنا بچپن آزادی سے پہلے انڈیا میں اپنی نانی کے ساتھ گزارا تھا۔ انھوں نے اپنی نانی کو جلد پر پھپھوندی کے انفیکشن کے لیے لہسن اور بھڑ کے کاٹے پر پیاز کا رس لگاتے دیکھا تھا۔
رحمان نواب جان صدیقی کی نانی کوئی تربیت یافتہ معالج یا طبیب نہیں تھیں اور گو کہ ان کا گھر کرسچیئن میڈیکل کالج سے چند منٹ کی دوری پر تھا، لیکن اس علاقے میں رہنے والے زراعت پیشہ لوگ ہسپتال جانے کے بجائے ان کے ٹوٹکے اور گھریلو نسخے استعمال کرنے کو ترجیح دیتے تھے۔
صدیقی اور ان کی نانی ہمیشہ ایک مرتبان زہریلے بچھوؤں سے بھر کر رکھتے تھے جس میں تِلوں کا تیل بھی ڈلا رہتا تھا تاکہ اس سے بچھو کے کاٹے کا علاج کیا جا سکے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس کے علاوہ یہ دونوں مل کر باغ میں بے شمار جڑی بوٹیاں اگاتے تھے جن میں ایلوویرا کی مختلف مقامی اقسام شامل تھیں جو کہ دھوپ کی تمازت سے جلد کے بچاؤ کا ایک قدرتی ذریعہ ہے۔ کسی پودے کی جڑ، کسی کا گودا تو کسی کے پتوں کا قہوہ علاج میں استعمال ہو رہا ہوتا۔
بہت سے لوگوں کے لیے ٹوٹکے مختلف بیماریوں کے لیے جدید ادویات کے مقابلے میں سستا طریقہ علاج تھا۔
یہ علاج ان اجزا پر مبنی ہے جو قدرت کی جانب سے دیے گئے ہیں، قدرتی طور پر زمین سے نکلتے ہیں اور ان لوگوں نے ہی انھیں فروغ دیا ہے جو اس زمین میں بسنے والے ہیں۔ رحمان نواب جان صدیقی کا کہنا تھا کہ وہ ابھی تک اپنے بچپن کے ٹوٹکوں پر یقین رکھتے ہیں۔
زبیدہ طارق جنھیں پاکستان میں زبیدہ آپا کے نام سے لوگ جانتے ہیں، انھوں نے 1990 کی دہائی سے ٹوٹکوں کا استعمال مرکزی دھارے میں متعارف کروانے میں اہم کردار ادا کیا۔
ساڑھے چھ ہزار کوکنگ شوز پر مبنی اپنے شاندار کریئر میں جو 50 سال کی عمر میں شروع ہوا تھا، وہ ٹی وی پروگرام کے دوران لوگوں کے فون پر کیے گئے سوالات کے جواب میں ٹوٹکے تجویز کیا کرتیں۔
اپنے آخری انٹرویو میں زبیدہ آپا نے ٹوٹکوں کے بارے میں کہا تھا کہ جہاں خاندان مل کر رہتے ہیں وہاں ٹوٹکے استعمال ہوتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ انھوں نے جس ماحول میں پرورش پائی وہاں انھوں نے دیکھا کہ گرم شہد، اجوائن اور ادرک کھانسی کے علاج کے لیے استعمال کی جاتی تھی، اور سر کے درد میں کنپٹیوں پر لیموں لگاتے تھے۔

،تصویر کا ذریعہAysha Imtiaz
تب لوگ دوائیوں کے نام نہیں جانتے تھے۔ اکثر لوگوں کو اب بھی دوائیوں کے بارے میں کچھ معلوم نہیں۔ اگر انھیں معلوم ہو بھی تب بھی وہ صدیوں سے استعمال کیے جانے والے طریقوں کو ہی ترجیح دیتے ہیں اور ایلوپیتھی کی دوائیوں سے گریز کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
نیوی کے کپتان ساجد محمود (تمغہ امتیاز، ملٹری) نے یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی دادی نے حادثاتی طور پر کلہاڑے سے ان کی انگلی کٹ جانے پر تیزی سے بہتے ہوئے خون کو روکنے کے لیے اس پر ہلدی لگا دی تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ہلدی لگاتے ہی زخم سے خون بہنا بند ہو گیا۔ آج کل اگر ایسا ہو جاتا تو آسانی سے تین سے پانچ ٹانکے لگائے بغیر کام نہ چلتا۔‘
جب اُن سے پوچھا گیا کہ بعد میں ڈاکٹر نے کیا کہا، یا ہسپتال جانے پر کیا ہوا، تو انھوں نے حیرانگی سے کہا، ’ہسپتال کیوں جاتے؟‘
ڈاکٹر بلقیس شیخ ہومیوپیتھی کی رجسٹرڈ ڈاکٹر، متبادل دواؤں کی سند یافتہ ماہر اور پاکستانی ہربل ڈاکٹر ہیں۔ وہ دواؤں اور ٹوٹکوں کے درمیان خلیج کو پاٹنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
پاکستان کے شمالی علاقے چترال کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر شیخ کی علاج کے قدرتی طریقوں کی طرف رغبت ڈاکٹر پہنچ سے دور ہونے کی وجہ سے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر آپ کی ہڈی ٹوٹ جائے اور ڈاکٹر تک پہنچنے کے لیے آپ کو بارہ گھنٹے سفر کرنا پڑے تو آپ اپنے باورچی خانے اور درخت کی لکڑیوں سے علاج کرنے کا سوچیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ’ہماری خواتین باورچی خانے کی ڈاکٹر ہوتی ہیں اور ٹوٹکے ان کے خون میں شامل ہوتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ان کے یوٹیوب چینل کے دس لاکھ سے زیادہ سبسکرائبرز ہیں جہاں وہ سر کے بالوں کو مضبوط اور گھنے کرنے کے لیے کافی کے استعمال کے علاوہ انسان کے جسم میں ہارمون کے عدم توازن کو درست کرنے کے حل بھی بتاتی ہیں۔
دانتوں کو سفید کرنے کے ان کے تین منٹ میں تیار ہونے والے منجن میں لونگ کا پاؤڈر جو ان کے بقول جراثیم کش ہوتا ہے، لہسن اس لیے شامل کیا جاتا ہے تاکہ مسوڑہوں سے خون نکلنے کی شکایت کا ازالہ ہو سکے اور نمک ڈالا جاتا ہے تاکہ دانتوں کو صاف اور سانس کی بدبو کو ختم کیا جا سکے۔
یہ اجزا سب کے جانے پہچانے ہیں اب طریقہ مختلف ہو رہا ہے۔ اب یہ صرف نانی کی دانائی پر مشتمل ٹوٹکے نہیں بلکہ اجزاء کے بارے میں ڈاکٹر شیخ تحقیقی مقالے، جریدے اور دیگر لٹریچر کا مطالعہ کرتی ہیں تاکہ تمام اجزا کو تحقیق کی مدد سے ثابت کیا جا سکے۔
انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پرانی روایات کے پیچھے سائنسی توجیہات کو پیش کرنا نئی نسل کے نوجوانوں کو بہت پسند آتا ہے کیونکہ وہ ہر چیز کے بارے میں گوگل پر جا کر تصدیق کرنے کے عادی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ان کی ٹیم کے مطابق ان کے بہت سے فالوورز عمر کی دوسری دہائی میں ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ لوگ اب روایتی طریقوں کی طرف مائل ہو ہے ہیں۔
ڈاکٹر شیخ کہتی ہیں کہ ’ہم پودوں کی طرح ہیں، اگر ہم اپنی جڑوں سے دور ہو جائیں گے تو ہم مرجھا جائیں گے۔‘
حالیہ برسوں میں واٹس ایپ اور یوٹیوب نے ٹوٹکوں کو آئن لائن مہیا کر دیا ہے جس سے لوگوں کی ان تک رسائی بڑھ رہی ہے۔
پاک ٹوٹکے یوٹیوب چینل پر مختلف ٹی وی شوز سے لی گئی ویڈیوز اپ لوڈ کی جاتی ہیں جن میں چکن پاستا بنانے سے لے کر نوجوان نظر آنے تک کے نسخے شامل ہوتے ہیں۔ کچھ کو تو 60 لاکھ مرتبہ دیکھا جا چکا ہے۔ اگر آپ غور سے سنیں تو آپ کو روزمرّہ کی گفتگو، ٹی وی پروگرامز اور خاندان کے واٹس ایپ گروپوں میں ہر جگہ ٹوٹکے نظر آئیں گے۔‘
اتنی وسیع تعداد میں صارفین کو مدنظر رکھتے ہوئے اب بہت سے نسخے لیبارٹریوں اور فارمیسیوں میں بڑے پیمانے پر تیار کر کے فروخت کیے جا رہے ہیں۔
ٹوٹکوں اور دیسی نسخوں کو اب کس طرح تجارتی بنیادوں پر تیار کیا جا رہا ہے، اس بارے میں تفصیلات معلوم کرنے کے لیے میں نے فاطمہ منیر احمد سے رابطہ کیا جو پاکستان کی ہربل دوائیاں تیار کرنے والی سب سے مشہور کمپنی ہمدرد لیبارٹریز کی مینجنگ ڈائریکٹر اور سی ای او ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
فاطمہ احمد کے پڑ دادا حکیم حافظ عبدالمجید جو ایک یونانی طبیب اور حکیم تھے، انھوں نے سنہ 1906 میں دہلی میں اپنا پہلا مطب کھولا تھا۔ پاکستان بننے کے بعد ان کے بیٹے حکیم محمد سعید (فاطمہ کے والد) اور حکیم عبدالحمید نے ہمدرد پاکستان اور ہمدرد انڈیا کی بنیاد ڈالی۔
انھوں نے بتایا کہ ’ہمارے تمام نسخے حکیم سعید اور حکیم عبدالمجید کے تیار کردہ ہیں۔‘
پانچ ہزار سال پرانے آیورویدک طریقہ علاج کی طرح طب یونانی بھی زندگی کی سائنس کا علم ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے طبِ یونانی کی جڑیں یونانی اور فارسی ماہرین سے جا ملتی ہیں جن میں بقراط اور ابنِ سینا تک شامل ہیں۔ اس کی بنیاد جسم کے چار بنیادی مادوں کے درمیان توازن قائم رکھنا ہے۔
جب طبِ یونانی طریقہ علاج چینی طب اور آیورویدک اصولوں سے ملتا ہے تو اسے مشرقی ادویات کا نام دیا جاتا ہے اور یہ جنوب مشرقی ایشیا کے ملکوں میں خاصہ مقبول ہے۔
فاطمہ احمد نے بتایا کہ مشرقی طریقہ علاج میں جو ادویات آیوروید اور طب یونانی کی مرکب ہیں، ان میں انسان کے پورے جسم میں توازن کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ بچپن میں انھیں ہر ہفتے کیسٹر آئل دیا جاتا تاکہ معدہ صاف اور تیزابیت سے پاک رہے اور اتوار کو انھیں دہی دیا جاتا تھا جس سے معدہ اپنا کام صحت مند طریقہ سے کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’پورا جسم ایک مربوط نظام سے منسلک ہے۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ آپ کا معدہ ایک دن کام کرے اور آپ کا ذہن دوسرے دن کام کرے۔‘ انھوں نے کہا کہ انسانی جسم کے مختلف حصوں میں ربط برقرار رکھنا ہی طب یونانی اور مشرقی طریقہ علاج کا بنیادی اصول ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایلوپیتھی کی ادویات تجویز کرنے کے بجائے جو کہ صرف بیماری کی علامات کا علاج کرتی ہیں، مشرقی طریقہ علاج میں اکثر بیماری کے اسباب اور اس کی جڑ تک پہنچنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ منہ پر نکلنے والے دانوں جسے ایکنی بھی کہا جاتا ہے اس کے علاج کے لیے کیمیائی اجزا سے بنائی گئی کریمیں منہ پر تھونپنے کے بجائے یونانی اور مشرقی طریقہ علاج میں خون کو صاف کرنے پر زور دیا جاتا ہے اور جس میں نیم اور چوب چینی کا استعمال کیا جاتا ہے۔
احمد کے والدین اور دادا دادی اور نانا نانی یہ مرکبات سل بٹے پر روزانہ تیار کرتے ہوں گے مگر موجودہ دور کی نسل بغیر محنت کیے جلد اور آسانی سے یہ چیز حاصل کرنا چاہتی ہے۔
ہمدرد کا مشہور زمانہ اور مقبول ترین صافی شربت جس میں نیم اور چوبِ چینی شامل ہوتے ہیں وہ پاکستان میں بہت استعمال کیا جاتا ہے۔ بہت سے پاکستانی نوجوان بلوغت کی عمر میں پہنچے پر صافی کی بوتلیں کی بوتلیں پی جاتے ہیں اور یہ ان کی جلد کو صاف اور صحت مند رکھنے کا راز ہوتا ہے۔
مدینۃ الحکمہ، سائنس اور ثقافتی تعلیم کا مرکز جو کراچی کے مضافات میں قائم ہے اس کی بنیاد حکیم سعید نے رکھی تھی۔ وہ برصغیر کا واحد تعلیمی ادارہ ہے جس نے مشرقی طریقہ علاج میں پانچ سال کی ڈاکٹریٹ ڈگری کروانا شروع کی۔
اس تحقیقاتی تعلیمی ادارے کا اہم ترین شعبہ یونانی طب کے ڈاکٹروں اور ماہرین پیدا کرتا ہے اور ساڑھے تین سو ایکڑ پر پھیلا تحقیقاتی شعبہ ہے جہاں ٹوٹکوں پر تحقیقات کی جاتی ہے اور ان کے پیچھے پوشیدہ سائنس کو تلاش کیا جاتا ہے۔ اکثر اس تحقیق سے فرضی چیزوں کی نفی ہوتی ہے اور اس سے عوام میں پائی جانے والی غلط فہمیوں اور توہمات کو دور کیا جاتا ہے۔
ان کا چند ایک تحقیقاتی کام انتہائی جدید ہے جس میں پیوند کاری یا مخلوط بارآوری کے طریقہ اور انسانی جین کی انجینئرنگ ہے اور بعض تحقیقاتی کام بالکل عام نوعیت کا ہے جیسا کہ یہ معلوم کرنا کہ لیموں کو پانی میں نچوڑنے سے اس کے اہم قدرتی اجزا ضائع ہوجاتے ہیں اور بہتر یہ ہے کہ اسے پانی میں ڈال دیا جائے اور نچوڑا نہیں جائے۔
پروفیسر ڈاکٹر غزالہ ایچ رضوانی جنہیں 'مسٹریس آف ہربز' کہا جاتا ہے وہ مدینۃ الحکمہ میں تحقیق کے شعبے کی سربراہ ہیں اور وہ منصفہ ہیں 'نیچروکلینکل اپروچ آف کروموپارمیسی' نامی کتاب کی۔
وہ باورچی خانے کے اجزا اور ٹوٹکوں سے علاج کی بہت قائل ہیں۔
جنوب مشرقی ایشیا میں دانتوں کی تکلیف میں لونگ کا استعمال بہت قدیم ہے کیونکہ اس میں شامل کیمیائی اجزا میں ایسی تاثیر پائی جاتی ہے کہ وہ جلد کو سن کر دیتی ہے۔ اجوائن اور دار چینی کی چائے ان کے مطابق اپھارہ سے نجات دلاتی ہے اور نظام ہضم بہتر کرتی ہے۔
بہت سے ٹوٹکے اب مغرب میں بھی فیشن کے طور مقبول ہوتے جا رہے ہیں۔ بہت سے اور لوگ بھی ان کی تقلید کریں گے۔ برصغیر میں صدیوں سے استعمال ہونے والے ان ٹوٹکوں کی وجہ سے علاج عام لوگوں کی پہنچ میں رہا اور یہ ٹوٹکے آج بھی علاج کا سب سے سستا ذریعہ ہیں۔










