کورونا وائرس: عالمی وبا سے دنیا کا ساتواں براعظم انٹارکٹکا کیسے متاثر ہوا؟

انٹارکٹکا

،تصویر کا ذریعہBella Falk

انٹارکٹکا میں پہنچنا ایسا ہے جیسے پریوں کے منجمند دیس میں اترنا۔ یہ حیرت انگیز خوبصورتی کا ایک مقام ہے، جہاں گرجا گھروں سے بھی بڑے سائز کے آئس برگ تیرتے ہیں اور جوان پینگوئن گرمیوں کے آسمان سے بھی نیلے برفانی تودوں کے پس منظر کے ساتھ چہچہاتے ہیں۔

تھوڑی حیرانگی کی بات ہے لیکن گذشتہ دو دہائیوں میں انٹارکٹکا کی سیاحت کی انڈسٹری میں فروغ دیکھا گیا ہے۔ نوے کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں سات ہزار سے بھی کم لوگوں نے اس براعظم کا دورہ کیا۔ گذشتہ برس یہ اعدادوشمار 74 ہزار تک پہنچ گئے اور امید کی جا رہی ہے کہ یہ تعداد بڑھ رہی ہے۔

زیادہ تر لوگ یہاں پہنچنے کے لیے جنوبی امریکہ یا جنوبی افریقہ سے اڑان بھرتے ہیں اور پھر ایک مہم جو جہاز پر سوار ہو کر ڈریک پیسیج کے ہنگامہ خیز سمندروں کو پار کرتے ہوئے جزیرہ نما انٹارکٹکا کے شمالی کونے میں پہنچتے ہیں۔

یہاں وہ یا تو وہیل مچھلیوں اور آئس برگ کے درمیان سفر کرتے ہیں یا 10 افراد کے ذریعے ساحل پر منتقل کر دیے جاتے ہیں۔

اپنی زندگی کا یہ یادگار سفر کرنا اب ماضی کے مقابلے کافی آسان اور سستا ہے۔ یا کم از کم کورونا کی وبا سے پہلے تک تو ایسا ہی تھا۔

یہ بھی پڑھیے

انٹارکٹکا

،تصویر کا ذریعہBella Falk

انٹارکٹکا میں کورونا وائرس

یہ بحران سیاحتی سیزن کے اختتام پر پیدا ہوا جب کروز کمپنیاں جنوبی موسم سرما میں اپنے کام کو ختم کر رہی تھیں۔ گیٹ وے کی بندرگاہوں پر لاک ڈاؤن کی وجہ سے اپنے گھروں کو لوٹنے والوں کا رش ​​تھا۔

آخری کچھ جہازوں نے ایسے ملک کی تلاش کے لیے جدوجہد کی جو ان کا استقبال کر سکیں۔ ایک آسٹریلیائی جہاز یوروگوائے کے ساحل پر پھنس گیا جس میں 128 کووڈ مثبت مسافر سوار تھے جبکہ ایک ڈچ کمپنی کو اپنے تین جہاز 14 ہزار کلومیٹر واپس ہالینڈ بھیجنا پڑے کیونکہ وہ جنوبی امریکہ میں لنگر انداز نہیں ہو سکتے تھے۔

انٹارکٹکا

،تصویر کا ذریعہBELLA FALK

اس کے بعد سے اس براعظم میں خاموشی ہے۔ خوش قسمتی سے یہ وبا اس وقت آئی جب خطہ سیاحوں کے لیے بند ہوتا ہے۔ لیکن یہ وائرس جانے کا نام نہیں لے رہا اور ویکسین بننے میں ابھی بہت وقت ہے تو ایسے میں انٹارکٹکا میں سیاحت کا مستقل کافی غیر واضح نظر آ رہا ہے۔

انٹارکٹکا

،تصویر کا ذریعہBELLA FALK

سائنس کو دھچکا

سیاحت ہی واحد شعبہ نہیں، جو کورونا کی وبا سے متاثر ہوا ہے۔ انٹارکٹکا میں ایک اہم سرگرمی سائنسی تحقیق بھی ہے اور اس وبا نے انٹارکٹکا میں موجود تحقیق کے مراکز کو بھی متاثر کیا ہے۔

برٹش انٹارکٹک سروے، جو وہاں پانچ اڈے چلاتا ہے، کے کیون ہیوز کہتے ہیں کہ ’ہمارے پہلی ترجیح سائنس کو جاری رکھنا ہے۔ جن چیزوں پر ہماری تحقیق اس وقت جاری ہے ان میں آب و ہوا میں تبدیلی کا اثر، اوزون کی تہہ کی مانیٹرنگ، پینگوئنز کی آبادی، موسمیات اور بالائی ماحول کی سائنس شامل ہیں۔ ہمارے پاس لمبے عرصے کے ڈیٹا سیٹس ہیں اور ہم ایک سال کا بھی وقفہ نہیں چاہتے۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اگلے سال سائنس پہ کم کام ہو گا۔‘

شاید سب سے بڑی ممکنہ تشویش یہ ہے کہ انٹارکٹک ٹریٹی کونسل کی سالانہ دس دن کی مشاورتی میٹنگ منسوخ کی جا چکی ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں انٹارکٹک ٹریٹی کے رکن ممالک ملتے ہیں اور آنے والے سال کے لیے ماحولیاتی تحفظ کی ترجیحات کا فیصلہ کرتے ہیں۔ اس کے بغیر شاید اہم فیصلے نہ ہو سکیں، جس کا علاقے پر کثیر المدتی تباہ کن اثر پڑ سکتا ہے۔

انٹارکٹکا

،تصویر کا ذریعہBELLA FALK

2020 میں انٹارٹکا کا سفر

سب کے لبوں پر جو بڑا سوال ہے وہ یہ ہے کہ: کیا انٹارکٹا میں نومبر سے فروری تک کے آنے والے سیزن میں کوئی سیاحت ہو گی؟

جبکہ یورپ کے کچھ ممالک بڑی احتیاط کے ساتھ اپنے دروازے کھول رہے ہیں، انٹارکٹا میں صورتِ حال بہت زیادہ غیر یقینی ہے۔ انٹرنیشنل ایسوسی ایشن آف انٹارکٹا ٹور آپریٹرز (آئی اے اے ٹی او) کے 50 اراکین میں سے کئی ایک نے پہلے ہی کہا ہے کہ وہ یا تو اس سال اپنے آپریشنز منسوخ کر دیں گے یا پھر ان میں کمی لائیں گے۔ باقی ابھی تک اپنے منصوبوں کو حتمی شکل دینے کا انتظار کر رہے ہیں، سیاحتی سیزن عموماً دسمبر اور جنوری میں عروج پر پہنچتا ہے، اس لیے ابھی بھی موقع ہے کہ شاید وہ ان بکنگز میں سے کچھ کو مکمل کر سکیں جو پہلے ہی کی جا چکی ہیں۔

آئی اے اے ٹی او کو توقع ہے کہ اگر اس سال سیزن ہو بھی گیا، تو وہ کافی حد تک محدود ہو گا۔ اگرچہ مسافروں کے لیے یہ رکاوٹ ضرور ہو گی کہ انھیں ٹریول انشورنس ملتی ہے کہ نہیں۔ تیزی سے متواتر بدلتی ہوئی صورتِ حال، اور کورونا وائرس کو کوور نہ کرنے والی کئی پالیسیوں کی موجودگی میں انٹارکٹکا کے لیے مناسب کوور تلاش کرنا ایک چیلنج ہو گا۔

انٹارکٹکا

،تصویر کا ذریعہBELLA FALK

انٹارکٹکا تک پہنچنا

کیا آپریٹرز سیاحتی دورے کروا سکیں گے اس کا دارومدار ارجنٹینا کے شہر اوشوایا جیسی گیٹ وے پورٹس پر ہے کہ کیا وہ دوبارہ کھلیں گی کہ نہیں۔ ٹرپ کو شروع کرنے کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے اگر مسافر روانگی کے پوائنٹ پر ہی نہ پہنچ سکیں۔

اگر وہ ایسا کر بھی لیتے ہیں تو بھی کوارنٹین کا خاردار مسئلہ پھر بھی موجود ہے۔ آئی اے اے ٹی او کی ڈائریکٹر آف اینوائرنمینٹ اینڈ سائنس کوآرڈینیشن امانڈا لینز کہتی ہیں کہ ’انٹارکٹکا پر جانے کے لیے پہلے ہی بہت وقت درکار ہوتا ہے اور یہ بہت مہنگا بھی ہے۔ اور اگر آپ جنوبی امریکہ میں اترنے اور اپنے بحری جہاز پر چڑھنے سے پہلے 14 دن کا کوارنٹین بھی اس میں شامل کر لیں تو مجھے نہیں لگتا کہ بہت سے لوگ ایسا کرنے کے لیے تیار ہوں گے۔‘

یہ صرف مہمانوں کے متعلق نہیں، بلکہ عملے اور سپلائی کے متعلق بھی ہے۔ اگر بندرگاہ پر جہاز کو وہ نہیں ملتا جس کی ان کو ضرورت ہے اور وہ اس بات کو یقینی نہیں بنا سکتے کہ جہاز پر سبھی کووڈ سے پاک ہیں، تو تفریحی سفر شروع ہی نہیں ہو سکیں گے۔

انٹارکٹکا

،تصویر کا ذریعہBELLA FALK

جہاز پر سماجی دوری

اگر آپریشن جاری رہتے ہیں، تو بھی آن بورڈ پروٹوکولز کی بھی جانچ پڑتال کی ضرورت ہے، کیونکہ جب سینکڑوں مسافر اور عملے کے اراکین قریب قریب رہ رہے ہوں تو سیفٹی کے اقدامات زیادہ اہم ہو جاتے ہیں۔

نورو وائرس کی بیماری کے پھیلاؤ سے نمٹنے کے لیے کروز جہاز پہلے ہی پوری طرح لیس ہیں لیکن کورونا وائرس نے خوف کو اگلی سطح تک ہی پہنچا دیا ہوا ہے۔

نئے سیفٹی کے اقدامات پر ابھی بھی اتفاقِ رائے ہونا ہے، لیکن بہت امکان ہے کہ اس میں لوگوں کو رکھنے کی گنجائش کو کم کیا جائے، زیادہ ہاتھ صاف کرنا، زیادہ سماجی دوری اور کھانے کے اوقات میں نظر ثانی شدہ طریقۂ کار بھی شامل ہوں۔

سبھی کمپنیوں کے لیے سب سے بڑی تشویش یہ ہے کہ اگر ان کے پاس سے کوئی کیس نکل آیا تو کیا ہو گا۔ اگرچہ کروز جہازوں میں ایک ڈاکٹر اور محدود طبی سہولیات ہوتی ہیں، لیکن وہ اس طرح کی ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں ہوتیں جن سے جانوں کو خطرہ ہو۔ اس طرح کی صورتِ حال میں یا تو مریض کو کسی اور جہاز میں منتقل کر دیا جاتا ہے جو واپس جا رہا ہے یا پھر انھیں ہوائی جہاز کے ذریعے وہاں سے نکالا جاتا ہے۔ لیکن ان میں سے کوئی حل اس وقت کام نہیں آتا جب جہاز میں لائیو کووڈ کیس ہو۔

انٹارکٹکا

،تصویر کا ذریعہBELLA FALK

قدرت کو بھی تھوڑا وقت مل گیا

اگرچہ انٹارکٹکا کی سیاحت کی صنعت کے لیے کووڈ۔19 شاید ایک اہم تشویش ہو، لیکن علاقے کے لیے یہ ایک اچھی خبر ہے۔

ہزاروں سیاحوں کے نہ آنے سے غیر مقامی سپیشیز کے یہاں متعارف ہونے کا خدشہ کم ہو جاتا ہے، اسی طرح جانوروں کے رہنے کی جگہوں کے روندے جانے اور جراثیم سے پاک جگہوں کے آلودہ ہونے کا خطرہ بھی کم ہو جاتا ہے۔

جب جہاز ہی نہیں چلیں گے تو کاربن کا اخراج بھی کم ہو جائے گا۔ برٹش انٹارکٹک سروے کے ایک تخمینے کے مطابق ایک عام یورپی فرد کے انٹارکٹک کروز کے سفر پر عموماً اتنا ہی اخراج ہوتا ہے جتنا وہ عام حالات میں تقریباً ڈیڑھ سال میں کرتا ہے۔

لیکن ہیوز نہیں سمجھتے کہ اتنے تھوڑے کے لیے ہونے والے وقفے سے کوئی زیادہ فرق پڑے گا۔ انھوں نے کہا کہ ’اگرچہ یہ زبردست ہے کہ رہائش کی جگہوں کو ذرا سکون ملے گا لیکن سیاحت زیادہ تر اچھی طرح سے منظم اور قوائد و ضوابط ہوتی ہے جس سے ماحول کو نقصان کم پہنچتا ہے۔ سو اسے ایک سال یا اس سے ذرا زیادہ بند کرنے سے شاید نمایاں فرق نہ پڑے۔

انٹارکٹکا

،تصویر کا ذریعہBELLA FALK

سٹریس فری یا پرسکون پینگوئن

برٹش انٹارکٹک سروے سیاحت کے انٹارکٹک کے جانوروں پر ہونے والے اثرات پر تحقیق کر رہا ہے، وہ پینگوئن کے رہنے کی جگہ (کالونیوں) میں کیمروں کے ساتھ ان کے افزائش کے نمونوں کا بھی مطالعہ کرتے ہیں۔ ابھی تک نتائج ملے جلے آئے ہیں۔

مشہور سیاحتی جگہ پورٹ لوکرو کے جینٹو پینگوئن پر کی جانے والی ایک تحقیق سے پتہ چلا کہ افزائش کے قابل جوڑوں کی تعداد گذشتہ 21 سال میں 25 فیصد کمی آئی ہے۔ جبکہ قریبی کولونیاں جہاں لوگ کم جاتے ہیں وہاں ایسا کوئی فرق نہیں پڑا۔ اس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ سیاحت اور پینگوئن میں کمی کا کوئی تعلق ہے۔

لیکن گوانو پینگوئن کے سٹریس ہارمونز پر کی جانے والی ایک اور تحقیق میں ایسی کوئی شہادت نہیں ملی جس میں پینگوئنز کے سیاحتی مقامات کی جگہوں کے قریب رہنے والوں اور وہاں سے دور رہنے والوں کے سٹریس ہارمونز پر کوئی اثر نظر آیا ہو۔ ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ وہاں جانور لوگوں کے قریب رہنے کے عادی ہو گئے ہیں۔

اگلا افزائش کا موسم نومبر کے آس پاس شروع ہوگا ، لہذا ماہرین اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ آیا اس سال سیاحوں کی کمی سے پینگوئن کی افزائش پر کوئی نمایاں اثر پڑے گا۔

انٹارکٹکا

،تصویر کا ذریعہBELLA FALK

ایک بدلتی ہوئی آب و ہوا

جو مسئلہ انٹارکٹک کی سیاحت پر وبائی مرض سے کہیں زیادہ اثر ڈالے گا وہ آب و ہوا کی تبدیلی ہے۔

انٹارکٹیکا میں آنے والے 95 فیصد سے زیادہ سیاح انٹارکٹک جزیرہ نما کا سفر کرتے ہیں۔ یہ وہ انتہائی شمالی جگہ ہے جو جنوبی امریکہ تک جاتی ہے۔ یہ وہ علاقہ ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔

1950 کی دہائی سے جزیرہ نما کے ارد گرد ہوا کے درجہ حرارت میں 3 ڈگری سینٹی گریڈ کا اضافہ ہوا ہے، جس سے یہ سیارے کے تیزی سے گرم ہونے والے مقامات میں سے ایک بن گیا ہے۔ فروری 2020 میں، اس علاقے میں سب سے گرم دن کو ریکارڈ کیا گیا، جب وہاں ڈرا دینے والا 18.3 سینٹی گریڈ درجہ حرارت تھا۔

1955 کے بعد سے جزیرہ نما کے مغرب کے ارد گرد پانی میں 1 ڈگری سینٹی گریڈ تک حرارت بڑھنے کے ساتھ ہی سمندر کا درجہ حرارت بھی بڑھ رہا ہے۔

اس کے نتیجے میں، برف کی تہیں ٹوٹ رہی ہیں، گلیشیر پیچھے ہٹ رہے ہیں، سمندری برف کم ہو رہی ہے اور برف سے پاک ادوار لمبے ہوتے جارہے ہیں۔ ان ساری چیزوں کا سیاحت پر ڈرامائی اثر پڑے گا۔

انٹارکٹکا

،تصویر کا ذریعہBELLA FALK

انٹارکٹک کھلتا ہے

ٹور آپریٹرز اور ملاقاتیوں کے لیے ان تبدیلیوں کو کسی اچھی خبر کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ جیسے ہی برف پگھلتی ہی، نئی سائٹیں سامنے آتی ہیں اور براعظم کے کچھ حصے زیادہ قابل رسائی ہو جاتے ہیں۔

نئے علاقے دستیاب ہونے کے ساتھ راستے اور منزلیں تبدیل ہو جائیں گی اور جانور نسل کشی کے لیے نئے میدانوں کی تلاش میں نقل مکانی کر جائیں۔ سفر بھی زیادہ سستے ہوتے جائیں گے کیونکہ سفر زیادہ آسان اور مقبول ہو جائے گا۔

خطے کی گرمی نے اس کی کچھ جنگلی حیات پر بھی مثبت اثر ڈالا ہے۔ وہیل کی کچھ سپیشیز کی تعداد میں، جن میں ہمپ بیکس اور سدھرن رائٹ وہیلز شامل ہیں، بہتری آرہی ہے، جبکہ جینٹو پینگوئن کی آبادی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

لیکن دوسروں کے لیے، یہ ایک الگ کہانی ہے۔ ایڈیلی اور چنسٹریپ پینگوئن کی تعداد کم ہورہی ہے، اور سائنس دان خاص طور پر ایمپرر پینگوئنوں کے بارے میں فکر مند ہیں کیونکہ وہ افزائش نسل کے لیے سمندر کی برف پر انحصار کرتے ہیں۔ جب برف کم ہوتی ہے تو انھیں مناسب افزائش گاہ تک پہنچنے کے لیے مزید جنوب کی طرف سفر کرنا پڑتا ہے، اور آخر کار ان کے پاس جانے کے لیے کوئی جگہ نہیں رہ جائے گی۔

انٹارکٹکا

،تصویر کا ذریعہBELLA FALK

متحرک ہونے کا وقت

اس وبائی بیماری کا ایک اثر جس نے سائنسدانوں کو پر امید بھی بنایا وہ یہ تھا کہ کس طرح بحران کے عالم میں دنیا کتنی جلدی متحرک ہو گئی۔

ہیوز کہتے ہیں کہ ’کوویڈ ایک بہت بڑا سبق ہے کہ جب واقعی ہمیں ضرورت ہو تو ہم کتنی جلدی تبدیلیاں لاسکتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے، اس وقت آب و ہوا کی تبدیلی واقعی لوگوں نظروں سے بہت دور ہے۔ حقیقی فرق لانے کے لیے حکومتوں کو بڑے پیمانے پر پالیسیوں میں تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے۔ کووڈ نے ثابت کیا ہے کہ ہم یہ تبدیلیاں لا سکتے ہیں۔ لیکن اگر ہمیں آب و ہوا کے بحران میں حقیقی تبدیلی لانی ہے تو ہمیں زیادہ دلیری کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔‘

اگر یہ وبائی مرض انٹارکٹک کے تحفظ کو مستحکم کرنے اور تحقیق کو بڑھانے کے لیے حکومتوں کو اکٹھا کر سکتا ہے تو یہ امید کی ایک کرن ہو گی۔

انٹارکٹکا

،تصویر کا ذریعہBELLA FALK

مستقبل کی جانب

پچھلے کچھ سالوں سے انٹارکٹک سیاحت عروج پر جا رہی ہے، لیکن ماہرین کو امید ہے کہ وبائی مرض ٹور آپریٹرز کو ایک قدم پیچھے ہٹنے اور اس پر دوبارہ غور کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔

یو کے فارن، کامن ویلتھ اینڈ ڈویلپمنٹ آفس کے پولر ریجنز کے سربراہ جین رمبل او بی ای کہتے ہیں کہ ’زبردستی کے وقفے سے ہمیں اس گفتگو کے لیے جگہ ملی ہے کہ ہم انٹارکٹک سیاحت کا مستقبل کس طرح کا چاہتے ہیں۔ سیاحوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافے سے بیابان کا تجربہ حاصل کرنے میں فرق پڑے گا۔ ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہم کس طرح کا مستقبل دیکھنا چاہتے ہیں۔ بات چیت میں اس چیز پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا سیاحوں کی تعداد میں کمی لانی چاہیے یا سیاحتی سرگرمیوں میں۔ ہمیں ایسا کرنے کا ایک بہترین موقع ملا ہے کہ سانس لیں اور حساب لگائیں کہ 10-20 سالوں میں اس سب کو کیسا دیکھنا چاہتے ہیں۔‘

لیکن کوئی بھی انٹارکٹک سیاحت کو مکمل طور پر نہیں بند کرنا چاہتا۔

لینز کہتی ہیں کہ ’ہمارا خیال ہے کہ سیاحت کا مثبت اثر پڑ سکتا ہے، کیونکہ (انٹارکٹیکا) آنے والے لوگ واقعی اس سے محبت کرنا اور اس کی قدر کرنا سیکھتے ہیں اور اس سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ باقی دنیا کے لیے اس کو محفوظ رکھنا کیوں ضروری ہے۔‘