کورونا وائرس: میں نے 100 دن بغیر سورج دیکھے کیسے گزارے

،تصویر کا ذریعہLars Barthel
- مصنف, سوامی ناتھن نٹراجن
- عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس
دنیا بھر میں کورونا وائرس کی وبا کے پیش نظر لوگوں کو گھروں میں رہنے کی تاکید کی جا رہی ہے۔ صحت کے مسائل کا شکار افراد کو 12 ہفتے تک گھر سے نہ نکلنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ بہت سے لوگوں کے لیے تین مہینے تک سورج کی روشنی سے محرومی ایک پریشان کن چیز ہے۔
لیکن ہر سال بہت سے سائنسدان مختلف تجربات کے لیے سخت سردی کے موسم میں قطب شمالی یعنی آرکٹک اور قطب جنوبی یعنی انٹارکٹکا کا رخ کرتے ہیں اور مہینوں سورج کی روشنی دیکھے بغیر گزارتے ہیں۔
وہ اس سب کا مقابلہ کیسے کرتے ہیں؟
وشنو نندن نے بی بی سی کو بتایا: ’ابتدائی کچھ دن میں سورج کو یاد کرتا تھا اور وہاں رہنا مشکل تھا لیکن جلد ہی میں نے خود کو اس کے مطابق ڈھال لیا اور تقریباً اس کا ’عادی‘ ہو گیا۔
سمندری برف کی جانچ کرنے والے سائنسدان وشنو نندن کینیڈا میں یونیورسٹی آف مینیٹوبا کے سینٹر آف ارتھ آبزرویشن میں بحیثیت پوسٹ ڈاکٹریٹ محقق کام کر رہے ہیں۔
وہ آرکٹک کی آب و ہوا پر ہونے والی اب تک کی سب سے بڑی ریسرچ کی مہم میں واحد انڈین تھے، جسے MOSAiC کے نام سے جانا جاتا ہے۔ دنیا بھر سے تقریباً 60 سائنسدان اس تحقیق کا حصہ تھے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہSteffen Graupner
’جسمانی گھڑی‘
آرکٹک خطے میں پہنچنے کے بعد اس مہم کے ارکان ماسکو کے وقت کے مطابق اپنی گھڑیاں سیٹ کرنے کے لیے آگے بڑھے لیکن یہ اتنا آسان نہیں تھا اور ان کے جسم نے فوراً بغاوت کر دی۔
نندن نے آرکٹک میں 127 دن گزارنے کے بعد واپس آنے پر بی بی سی کو بتایا: ’میری جسمانی گھڑی مستحکم نہیں تھی۔ کچھ دن میں ناشتے کے لیے نہیں اٹھا۔ کبھی میں بہت جلدی سو جاتا اور کبھی آدھی رات جاگتے گزر جاتی۔‘
اپنے سات برس کے کیریئر میں وشنو نندن آرکٹک اور انٹارکٹکا میں 15 مرتبہ جا چکے ہیں۔
وہ کہتے ہیں: ’آپ کے پاس طلوع آفتاب اور غروب آفتاب نہیں ہوتا۔ کچھ دن ایسے ہوتے تھے جب میں بہت تھکاوٹ کے ساتھ جاگتا تھا۔‘
’جب آپ باہر دیکھیں تو اندھیرا ہوتا ہے اور آپ کا جسم آپ کو جاگنے نہیں دیتا۔‘

،تصویر کا ذریعہJulienne Stroeve
نیند اور صحت
سورج کی روشنی وٹامن ڈی مہیا کرنے کے علاوہ آپ کے موڈ کو بھی بہتر کرتی ہے۔
دن اور رات کی کسی واضح حد بندی کے بغیر جسمانی توازن بدل جاتا ہے اور نیند میں عدم توازن سے آپ کو تھکاوٹ اور چڑچڑے پن کا احساس ہوتا ہے۔ اور اگر ایسا ہفتوں یا مہینوں جاری رہے تو اس کے صحت پر مضر اثرات ہو سکتے ہیں۔
اکتوبر سے مارچ تک سردیوں کے دوران قطب شمالی اندھیرے میں ڈوبا رہتا ہے۔
’اگرچہ میں لال بیگ کی طرح ہوں (جو زیادہ نہیں سوتے) لیکن نیند کی کمی نے مجھے تھکا دیا۔ بعض اوقات اگر مجھے دوپہر میں کام کرنا پڑتا تو میرے لیے ہمت باندھنا مشکل ہوتا تھا۔‘
باہر ’انتہائی سردی اور تیز ہوا‘ ہوتی اور درجہ حرارت منفی 55 ڈگری سینٹی گریڈ۔

،تصویر کا ذریعہSteffen Graupner
قطب شمالی کے تجربہ کار ہونے کی حیثیت سے نندن نے انتہائی تاریکی کے برعکس، گرمیوں میں قطبوں میں مستقل دن کی روشنی ملنے کا تجربہ بھی کیا۔
’جب آپ کو 24 گھنٹے سورج کی روشنی مل رہی ہو تو صبح کے وقت تو آپ کو بہت توانائی ملتی ہے لیکن شام میں آپ ہمت ہار جاتے ہیں۔ اگر آدھی رات کو میری آنکھ کھل جائے تو میں دوبارہ نہیں سو سکوں گا۔‘
انتہائی چوکنا رہنا پڑتا ہے
جدید ترین آلات سے لیس اور جہاز پر بنی پولرسٹرن تحقیقاتی لیبارٹری نے 23 فروری کو شمالی قطب میں 156 کلومیٹر کا سفر طے کر کے ریکارڈ توڑ دیا۔
نندن کہتے ہیں کہ اس سے قبل کسی بھی جہاز نے اتنی شدید شردی میں شمالی قطب میں اتنا لمبا سفر نہیں کیا۔
یہ سمندری برف قطبی ریچھوں کا گھر ہے۔
’ایک مرتبہ ہمیں ایک صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جب ایک ریچھ ہماری سائٹ پر آ گیا اور ہمارے سازوسامان سے کھیلنے لگا۔‘

،تصویر کا ذریعہUniversity of Bremen /Marcus Huntemann
محفوظ رہنے کے لیے ان کے پاس رائفل سے لیس پہرے دار تھے۔
وشنو نے بتایا کہ اس ماحول کی وجہ سے انھوں نے زیادہ چوکنا رہنا شروع کر دیا۔ وہ کہتے ہیں: ’جب 24 گھنٹے اندھیرا ہو تو آپ کو زیادہ خیال کرنا پڑتا ہے۔‘
اس ماحول نے انھیں اپنا روز مرہ کا معمول بنانے میں بھی مدد کی جو بالکل تبدیل نہیں ہوا۔ ناشتے کے بعد (جو اکثر بھوک نہ ہونے کی وجہ سے وہ چھوڑ دیتے تھے) ان کی ٹیم فیلڈ لیبارٹری میں اترتی جہاں آلات نصب کیے گئے تھے۔
وہ دوپہر کے کھانے کے لیے دوبارہ جہاز پر واپس آتے اور اس کے بعد مزید چار گھنٹے کام کرتے۔
فارغ وقت
جب آپ برف پر رہ رہے ہوتے ہیں تو آپ بہت زیادہ توانائی کھو دیتے ہیں کیونکہ آپ کا جسم کیلوریز جلا رہا ہوتا ہے۔ چار ماہ میں میرا 10 کلو وزن کم ہوا۔‘
بورڈ پر موجود کچن سے انھیں باقاعدگی سے کھانا ملتا تھا جبکہ ٹیم کے کچھ اراکین کو بھی کھانا تیار کرنے کے لیے مدعو کیا جاتا۔
وشنو نے سبزی بریانی اور پالک کا سالن تیار کیا اور اس کے علاوہ پوری ٹیم کے لیے تندوری چکن اور مچھلی بھی تیار کی۔

،تصویر کا ذریعہLukas Piotrowski
کام پر توجہ مرکوز رکھنے کے لیے تفریح بھی انتہائی اہم تھی۔ انھیں ایک ہفتے کی تین راتوں میں شراب پینے اور فارغ وقت میں ویڈیو گیمز کھیلنے کی اجازت بھی ہوتی تھی۔
اس ٹیم نے خاص تہوار جیسے کہ کرسمس اور نئے سال کے ساتھ ساتھ وشنو کی سالگرہ بھی منائی۔
’سخت شیڈول کی وجہ سے فروری کے اختتام تک بہت سے سائنسدان تھکنے لگے تھے۔‘
پول سے لاک ڈاؤن کی جانب
وشنو نندن نے قطب شمالی سے نکلتے ہوئے سورج کی پہلی شعاعیں دیکھیں۔ ’مجھے اندھیرے سے نفرت نہیں تھی۔ یہ ہم میں سے بیشتر لوگوں کے لیے زندگی کا ایک طریقہ تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہLukas Piotrowski
جب وہ واپس کینیڈا کے شہر کیلگری پہنچے تو انھیں دنیا لاک ڈاؤن میں ملی۔ کینیڈا میں داخل ہونے والے تمام افراد کی طرح انھیں بھی خود ساختہ تنہائی میں رہنے کے لیے کہا گیا۔
سخت ترین حالات میں زندگی نے انھیں بہت زیادہ مشکلات کے بغیر ان پابندیوں میں رہنے میں مدد کی۔
’جسمانی طور پر صحت مند رہنے کے لیے آپ کو جم جانے کی ضرورت نہیں۔ آپ گھر پر ورزش کر سکتے ہیں اور اس بارے میں آن لائن بہت سی اچھی ویڈیوز موجود ہیں۔‘
چند ممالک میں لوگوں کو لاک ڈاؤن کے دوران ورزش کے لیے دن میں ایک بار باہر جانے کی اجازت ہے۔ وشنو نندن کہتے ہیں کہ جو لوگ باہر نہیں جا سکتے انھیں خود کو مصروف رکھنا چاہیے۔
وہ تجویز دیتے ہیں: ’گھر میں کسی کام میں مصروف رہیں۔ یہ ہماری زندگیوں کا واحد وقت ہے جب ہم سب اتنے زیادہ مصروف نہیں تو اس فارغ وقت کا استعمال کریں۔‘
’یہ ایسا ہے جیسے میں دوبارہ مشکل زندگی میں واپس آ گیا ہوں۔ جیسے تقریباً دنیا ختم ہونے والی ہو۔‘
۔










