سویا ساس کا راز: ’آج دنیا جو کھا رہی ہے وہ سویا ساس ہے ہی نہیں‘

،تصویر کا ذریعہBBC Future
یاسو یاماموتو کے پاس ایک راز ہے یا یوں کہیں 68 راز ہیں۔ جاپان کے جزیرے شوڈوشیما پر ایک صبح سویا ساس بنانے والے خاندان کی پانچویں نسل سے تعلق رکھنے والے شخص نے اپنے لکڑی کے بنے گودام کا دروازہ کھولا جہاں دیودار کے بڑے بڑے 68 بیرل پڑے ہیں جن میں پھپوندی کی تہہ جمی ہوئی ہے۔
جیسے ہی وہ تاریکی میں سیڑھیاں چڑھتے ہیں یہاں کا راستہ، بیم اور چھت صدیوں سے موجود سیاہ بیکٹریا سے ڈھکے ہوئے ہیں۔ جس کی وجہ سے ان بیرلز میں موجود گاڑھا بھورا مادہ ابل رہا ہے۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے یہ پوری عمارت زندہ ہوگئی ہے۔
’یہ ہمارے سویا ساس کو ایک منفرد ذائقہ دیتا ہے۔‘ یاماموتو نے ایک لکڑی کے 150 برس پرانے بیرل کر طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ’آج جاپان میں ایک فیصد سے بھی کم سویا ساس اس طریقے سے بنتی ہے۔‘
70 سال پہلے پورے جاپان میں سویا ساس ایسے ہی بنتی تھی اور وہ اس ساس سے قطعی مختلف تھا جس ذائقے سے آج دنیا واقف ہے۔ جنگ عظیم دوئم کے بعد جاپانی حکومت کی جانب سے پیداوار کے انداز کو جدید طرز دیا گیا۔
لیکن اب بھی کچھ لوگ اسے پرانے روایتی انداز میں بناتے ہیں اور ان سب میں یاموموتو سب سے اہم ہیں۔ انھوں نے نہ صرف اس چیز کو اپنا مقصد بنایا کہ دنیا کو بتائیں کہ اصل سویا ساس کا ذائقہ کیسا ہے بلکہ وہ ان ملک گیر کوششوں کے بھی سربراہ ہیں جن کا مقصد 750 برس پرانی ترکیب کے اجزا کو معدوم ہونے سے پہلے بچانا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نیا رُخ
یونیسکو کے تسلیم شدہ واشوکو کوزین میں مصالحہ یا ذائقہ شامل کرنے کے لیے سویا ساس واحد سب سے اہم جز ہے۔ یہ ہر باورچی خانے میں ملتا ہے اور لگ بھگ ہر پکوان میں شامل ہونے کے ساتھ ساتھ جاپان سے لے کر ٹیکساس تک ہر کھانے کی میز پر نظر آتا ہے۔ یہ محض ایک ذائقے سے بڑھ کر ایک مخصوص کھٹاس ہے جو ذائقے کو ایک مختلف جہت دیتی ہے۔
اس سے بھی بڑھ کر یہ سنہ 1908 سے بطور کھٹاس پانچ بنیادی انسانی ذائقوں میں شامل ہے جن میں میٹھا، ترش، نمکین اور کڑوا شامل ہیں۔
جب یہ لکڑی کے بیرل میں پرانا اور خمیر زدہ ہوتا ہے تو سویا ساس اتنی ہی نفیس ہوتی چلی جاتی ہے جیسے کہ وائن لیکن آج دنیا اپنی سوشی کو انتہائی سستی وائن کے مترادف ساس میں ڈبو کر کھاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ 1940 کی دہائی میں اس کی بڑھتی ہوئی طلب کے بعد جاپانی حکومت نے کیوکی کہلانے والے روایتی لکڑی کے بیرل ترک کر کے سٹینلیس سٹیل کے برتن استعمال کرنے کی حوصلہ افزائی کی جس نے برسوں کے خمیر ہونے کے عمل کو تین ماہ پر محیط کر دیا۔

،تصویر کا ذریعہBBC Future
یاماموتو کے مطابق کیوکی صرف ایک برتن نہیں ہے بلکہ یہ سویا ساس بنانے کے لیے نہایت اہم ہے، اس کی لکڑی کے ذرّات ان لاکھوں جرثوموں کا گھر ہوتے ہیں۔ جو سویا ساس کے اس کھٹے ذائقے کو گہرا اور بھرپور بناتے ہیں۔ چونکہ یہ بیکٹیریا سٹیل کے برتن میں زندہ نہیں رہ پاتا اس لیے کئی کمپنیاں اپنے سویا ساس میں اضافی مادے ملاتی ہیں۔
اس لیے اگر آپ نے کبھی جاپان کے سویا ساس بنانے کے روایتی قدیم مقام کا دورہ نہیں کیا تو ممکن ہے آپ نے صرف ایک نمکین پتلا سویا ساس جیسا مرکب چکھا ہو۔
سویا سے بڑھ کر
گذشتہ 150 سال سے یاموموتو اور ان کے لاکھوں جرثومے ان کے خاندانی یاماراکو سویا ساس بنا رہے ہیں۔ جس میں سویا بین، گندم، نمک اور پانی کو چار سال کے عمل سے گزار کر خمیر کیا جاتا ہے۔ لیکن جاپان کے سویا ساس کشید کرنے والے زیادہ تر لوگوں نے لکڑی کے بیرل سے سٹیل کے ٹینکوں کی جانب رخ کر لیا ہے اور اس سے بھی بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ملک میں کیوکی ختم ہو گئے ہیں اور کوئی نہیں جانتا کہ انھیں کیسے بنایا جاتا ہے۔
گذشتہ سات سال کے دوران یاماموتو نے دوسرے علاقوں میں جا کر لوگوں کو یہ قدیم دستکاری سکھانے کی کوشش کی تاکہ اس کی بقا ممکن ہو سکے۔ لیکن جو چیز داؤ پر لگی ہے وہ سویا ساس سے زیادہ بڑی ہے۔ ایک صدی پہلے تک جاپان کی پانچ مرکزی خیمر مصالحے (سویا ساس، میسو، میرن، اور سیک‘) کیوکی میں بنتے تھے۔
آج جاپان بھر میں صرف 3000 کیوکی ہیں جن میں سویا ساس بنتی ہے جبکہ وہ اس سے کہیں کم ہیں جو دوسرے مصالحے بنانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ جب یہ روایتی خیمر بنانے کے چیمبر سٹیل کے حوض سے تبدیل ہوئے اس نے جاپان کے پکوانوں سے مستند ذائقہ ختم کر دیا۔
اگر یہ مکمل طور پر ناپید ہو گئے تو جاپان کی تہذیب اور غذا کی روح ہی ختم ہو جائے گی۔

،تصویر کا ذریعہBBC Future
یاموموتو کا کہنا تھا ’اب بمشکل اصل مصنوعات باقی بچی ہے۔ جب کیوکی بیرل بنانے کی صلاحیت ختم ہو گی تو اس کے مرکزی اجزا بھی غائب ہو جائیں گے۔ ضرورت ہے کہ اصل چیز کو بچایا جائے اور میں اسے اپنے بچوں، ان کے بچوں اور آنے والی نسلوں تک پہنچاؤں یہی میرا مشن ہے۔‘
دسترخوان کا 750 سال پرانا ناگزیر جز
سویا ساس دنیا کے قدیم ترین مصالحوں میں سے ایک ہے، یہ چین میں 2200 سال پہلے تخلیق کی گئی اور تیرھویں صدی کے وسط میں اسے بودھ بھکشوؤں نے جاپان میں متعارف کروایا۔ چین کے سویا ساس ’جیانگ‘ جو کہ مٹی کے برتنوں میں خیمر ہوتا ہے اس کے برعکس جاپان کا ’شویو‘ روایتی طور پر لکڑی کے بیرلز میں بنتا ہے جس کی وجہ سے یہ زیادہ ملائم اور ذائقے دار ہوتا ہے۔
سستا اور ہر کھانے میں شامل ہو جانے والا آسان مصالحہ ہونے کی وجہ سے جلد ہی شویو (سویا ساس) جاپان کے باورچی خانوں کا لازمی جز بن گیا۔ جاپان کے پکوانوں کی تشکیل میں اس کا کرادر بہت اہم ہے۔
ایک مشہور شیف اور ریستوان کے مالک ماساہارو موریموتو کا کہنا تھا ’کئی جاپانی پکوان ایسے ہیں جو موجود ہی نہ ہوتے اگر شویو نہ ہوتا۔ مثال کے طور پر سوشی اور ٹیمپورہ۔ یہ ایک لازمی جز ہے۔‘
یاماموتو کے مطابق جہاں شویو کو کھانوں کے قدرتی ذائقے میں اضافے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے وہیں کچھ مقامی پکوانوں کی جڑیں بھی اس امر سے جا ملتی ہیں کہ کس طرح شویو اور اس میں ذائقہ شامل کرنے والا بیکٹیریا جاپان میں پھلے پھولے۔
ٹوکیو کے گہرے تیز شویو سے نمکین یوناگی ایل اور یاکی اونیگری نام کے پکوان تخلیق ہوئے۔ کگاوا کے سنوکی اوڈن نوڈلز بھی شودوشیمسا کے کریمی شویو سے بنتے ہیں۔
کیوٹو اور اوساکا میں شویو قدرے ہلکا اور پتلا ہوتا ہے یہاں زیادہ توجہ سبزیوں اور مچھلی پر دی جاتی ہے۔ اور جنوبی جاپان کے مقامی پکوانوں میں شویو نسبتاً میٹھا ہوتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC Future
چھوٹے بینز
شوڈوشیما 400 سال سے زائد عرصے سے سویا بین کی پیداوار کا گڑھ رہا ہے۔ انیسویں صدی کے آغاز میں یہاں سویا ساس کی 400 کمپنیاں تھیں اور اب صرف 21 باقی بچی ہیں۔ شوڈوشیما شویو ایسوسی ایشن کے مطابق جاپان میں سویا ساس بنانے کے لیے استعمال ہونے والے باقی ماندہ 3000 میں سے 1000 کیوکی اس 30 ہزار نفوس والے جزیرے پر استعمال ہو رہے ہیں۔
یاماموتو جب بڑے ہو رہے تھے تو ان کے خاندان نے کبھی ریستوران میں کھانا نہیں کھایا تھا انھوں نے ایسا پہلی بار تب کیا جب ہائی سکول کے دوران وہ شوڈوشیما آئے، تب انھوں نے پہلی بار ایسا شویو چکھا جو ان کے والد نے چار سال لگا کر نہیں بنایا تھا۔
ان کا کہنا تھا ’میں نے سوچا یہ نمکین سویاساس کیا چیز ہے۔‘ جب انھوں نے گریجویٹ کر لیا تو یاماموتو کے والد نے انھیں بتایا کہ چار نسلوں کے بعد اب وہ خاندانی کاروبار آگے نہیں بڑھا سکتے۔ وقت بدل چکا تھا، مارکیٹ بدل چکی تھی اور ان کے پاس پیسے نہیں رہے تھے۔
صورت حال سے اداس یاماموتو کو جاپان کے علاقے اوساکا میں سویا ساس بیچنے والی کمپنی میں ملازمت مل گئی۔
ان کا کہنا تھا ’جب میں سپر مارکیٹ گیا تو میں نے مصنوعی ذائقوں سے بنی سویاساس کی ایک قطار دیکھی۔ میں نے سوچا میں ان میں سے کچھ بھی بیچنا نہیں چاہتا۔ اس لیے میں ملازمت چھوڑ کر واپس گھر آ گیا۔‘
دو سال بعد یاماموتو کے والد اچانک بیمار پڑ گئے اور خاندان کا کاروبار یاماموتو کے ہاتھ آ گیا۔

،تصویر کا ذریعہBBC Future
صبر آزما عمل
جنگ کے بعد صنعتی پیدوار بڑھانے کے لیے حکومت کی جانب سے لازمی قرار دیے جانے والے سٹیل کے برتنوں میں بنے سستے نمکین شویو کی پیداوار کے لیے بھی یاماموتو نے اپنے لکڑی کے کیوکی ہی استعمال کیے۔ یاماموتو نے کاروبار سنبھالنے کے بعد پہلا کام یہ کیا کہ تمام جدید طریقوں کو ترک کر کے اپنے خاندان کے چار سال پر محیط طریقہ کارکو دو گنا کر دیا۔
انھوں نے بھاپ لگی سویا بین کو بھنی ہوئی گندم کے ساتھ پانی اور نمک لگا کر نئے بنائے گئے کیوکی میں ڈالا۔ اس مرکب کا نام مورومی ہے، 24 ماہ کے عرصے میں بیرل کے جرثومے، گودام کا بیکٹیریا اور مورومی کا خیمرہ مل کر خمیر کا عمل کرتے ہیں۔ موسم بہار میں یہ کمرہ ترش مہک سے بھر جاتا ہے۔ گرمیوں میں خمیر اٹھنے کے بعد یہ مواد بلبلے بناتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
دو برس بعد یاموموتو نے اس مواد کو نئے کیوکی بیرل سے نکالا اور اس میں سے تمام تر رس نچوڑ لیا۔ حاصل ہونے والا یہ مواد خالص مائع اُمامی یا کٹھاس تھی۔ اسے بوتلوں میں بھرنے کے بجائے یاماموتو نے اسے مزید دو سال کے لیے پرانے کیوکی میں خمیر ہونے کے لیےرکھ دیا گیا۔ جب تک یاموموتو اپنے تیار کردہ سویا ساس کو بوتلوں میں بھرتے، اسی اثنا میں بڑی برانڈز نے سٹیل کے سولہ بڑے حوض تیار کر لیے تھے جو کہ ایک بڑی پیدوار ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC Future
جرثوموں کا جادو
اگرچہ یاماموتو اپنی کمپنی میں سویاساس کشید کرنے والے واحد شخص ہیں تاہم وہ اکیلے کام نہیں کر رہے۔ ان کی نظر سے دیکھیں تو ان کا کردار ان لاکھوں جرثوموں کا خیال رکھنا ہے جو اصل محنت کر رہے ہیں۔ وہ دن میں دو مرتبہ مچان پر جا کر تختوں کے درمیان تنگ جگہ پر چہل قدمی کرتے ہوئے مورومی کو سونگھتے اور مواد کو مکس کرتے ہیں، ’میں اس بیکٹریا سے اپنی روح کی گہرائیوں سے بات کرتا ہوں۔‘
یاماموتو کے مطابق یہ بیکٹریا ابال کھا کر جواب بھی دیتا ہے۔ ’میرا خیال ہے یہ بتاتے ہیں کہ وہ خوش ہیں۔ جب بیکٹریا خوش ہوتے ہیں تو وہ زیادہ محنت کرتے ہیں اور لاجواب سویا ساس بناتے ہیں۔‘
یاماموتو اپنے شویو کے بارے میں ایسے بات کرتے ہیں جیسے وہ ان کا محبوب ہو کئی طرح سے یہ ان کے خاندان کا ماضی ہے اور مستقبل بھی۔ شویو کو کشید کرنے کے علم کے ساتھ ساتھ یاماموتو کے آباؤ اجداد نے جو اہم کام کیا وہ تھا کشید کرنے کے لیے درکار اصل بیکٹریا کو منتقل کرنا۔ یاماموتو کے گودام کی تعمیر میں استمعال ہونے والے ستونوں میں وہ بیکٹریا موجود ہے جو ان کا خاندان 300 سال سے استعمال کر رہا ہے۔
ان کے ساتھ ساتھ 150 سال پرانی کیوکی کی مدد سے یاماموتوز نے نسلوں تک شویو کی دو لاجواب اقسام تیار کیں۔ ان میں سے ایک گاڑھا، ملائم اور ذائقے سے بھرپور ’تسورو` جبکہ دوسرا نسبتاً ہلکا ’کیکوزا‘ ہے۔
کیوکی کے نگران
آج جاپان میں 1400 سے زائد سویاساس بنانے والی کمپنیاں ہیں لیکن یاماروکو ایسے آخری ہیں جو کیوکی استعمال کر رہے ہیں۔ اگرچہ یہ انفرادیت یاموموتو کے خاندانی کاروبار کی بحال کرنے میں مددگار رہی تاہم ان کے نازک ماحول کو غیر یقینی مستقبل کا سامنا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کیوکی صرف 150 سال تک باقی رہ سکتے ہیں یاماموتو کے آباؤ اجداد کو یہ کبھی بنانے ہی نہیں پڑے جبکہ اِس وقت زیرِ استعمال بیرل جلد ہے ناقابلِ استعمال ہو جائیں گے۔
جنگ عظیم دوم سے قبل سینکڑوں کمپنیوں نے شویو، سیک، میرین اور دوسرے مصالحے بنانے کے لیے کیوکی بنائی۔ لیکن آج ایسی صرف ایک کمپنی فُوجی سیوکیشو ہے۔ جب یاماموتو نے 2009 میں ان سے رابطہ کیا تو انھیں بتایا گیا کہ کمپنی کو 70 سال سے کیونکہ کوئی آرڈر نہیں ملا اور وہ گذشتہ سات دہائیوں سے جاپان بھر میں پہلے سے موجود کیوکی کی مرمت کا کام کر رہی ہے۔
تین افراد پر مبنی اس کمپنی کے سب سے کم عمر رکن بھی 68 برس کے ہیں اور 2020 میں ریٹائر ہو رہے ہیں جبکہ ان کا کوئی جانشین بھی نہیں۔ یعنی اگر یاماموتو بیرل خریدتے ہیں تو اس کی مرمت کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔
اپنی کمپنی کا مستقبل دیکھتے ہوئے یاماموتو اور ان کے دو ترکھان 2012 میں فُوجی سیوکیشو کی ورک شاپ آئے اور یہ قدیمی فن خود سیکھا۔ تین دن کی ہدایات اور ایک سال کی مشق کے بعد انھوں نے 2013 میں پہلا بیرل بنایا۔

،تصویر کا ذریعہBBC Future
خفیہ خزانہ
4000 لیٹر کے اس دیو ہیکل بیرل کو بنانے کے لیے مشترکہ کوششیں درکار تھی۔ اس کے لیے 100 سال پرانے دیودار کے 40 تختوں کو گول کر کے انھیں عمودی انداز میں جوڑا گیا تاکہ ایک سلینڈر کی شکل بن جائے۔ ان تختوں کو جوڑنے کے لیے گوند کا استعمال کرنے سے منع کیا گیا بلکہ اس کے لیے بانس کی مدد لی گئی۔
ایک ہمسائے سے بات کرنے پر یاماموتو کو علم ہوا کے ان کے دادا نے دہائیوں قبل اسی کام کے لیے بانس اُگائے تھے۔ وہ جانتے تھے کے خاندان میں کسی کو ایک دن مزید بیرل بنانے کی ضرورت پڑے گی۔
ہر کیوکی کے لیے یاماموتو نے بانسوں کے کنج سے بہترین شاخ کا انتخاب کیا، کاٹنے کے بعد لچک دار پٹیوں کی صورت رسیوں کی شکل میں گوندھا گیا۔ پھر اسے بیریل کے گرد لپیٹ کر کس دیا گیا تاکہ تختوں کی درزوں سے مائع مواد رِسنے کا امکان نہ رہے۔ سنہ 2013 سے اب تک یاماموتو اور ان کے ساتھیوں نے 23 بیرل بنائے ہیں لیکن انھوں نے زیادہ تر اپنے پاس نہیں رکھے۔
کیوکی کے استعمال کو پھر سے زندہ کرنے کے لیے یاماموتو نے ملک بھر سے اس کے آرڈر لینا شروع کر دیے۔ ان کا کہنا تھا ’جب فُوجی سیوکیشو کے تینوں افراد ریٹائر ہو جائیں گے تو صرف میں رہ جاؤں گا جو یہ بنا سکتا ہوں۔‘

،تصویر کا ذریعہBBC Future
ایسا راز جو بتایا جانا چاہیے
یاماموتو جانتے ہیں کے اگر انھیں باعمل جانشین نہ ملا تو سویا ساس کے اجزا کا راز ان کے ساتھ ہی مر جائے گا۔ اس لیے ہر سال جنوری میں وہ کیوکی بنانے سے متعلق 10 روزہ ورکشاپ کا اہتمام کرتے ہیں۔
سنہ 2014 سے اب تک جاپان بھر سے 100 سے زائد شویو کشید کرنے والے، ترکھان اور دیگر خوردنی اشیا بنانے والے افراد ان کی ورکشاپ میں شرکت کرچکے ہیں۔ ہر سال ان کے شاگردوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
یہ گروہ ہر ورکشاپ میں عموماً نو بیرل بناتے ہیں جن میں سے چند یاماموتو رکھتے ہیں اور باقی دیگر کمپنیوں کو دے دیتے ہیں۔
شوڈوشیما کے ایک شویو کشید کرنے والے تکاہیرو کا کہنا تھا ’یاماموتو کو جاپان میں سویا ساس کی پیداوار کرنے والے لوگ بہت عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ وہ سویا ساس کے ہیرو ہیں۔‘
شاہی امتزاج
یاماموتو بتاتے ہیں ہے کہ کئی برس پہلے سویا ساس بنانے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ’کیکومین‘ کے ایک اہلکار نے اس ورکشاپ میں شرکت کی۔ اس شخص کا کہنا تھا کہ وہ خاص طور پر کیوکی کی مرمت کا کام سیکھنا چاہتا تھا مگر اسے وہاں اس کے مالکان نے نہیں بھیجا۔ وہاں سے جانے کے بعد اس شخص نے اپنے افسران کو بتایا کہ وہ یاماموتو سے یہ کام سیکھ کر آئے ہیں۔
اس کے بعد کیکومین کمپنی نے اپنی نوڈا فیکٹری میں کام کرنے والے مزید ملازمین کو کیوکی کی مرمت اور نئے بیرل بنانے کی تربیت حاصل کرنے کے لیے بھیجا۔ انھوں نے یاماموتو کو بھی اپنی نوڈا فیکٹری میں آنے کی دعوت دی تاکہ وہ آ کر انھیں مشورے دیں تاکہ وہ اپنے سویا ساس میں شاہی ذائقے کا امتزاج کر سکیں۔

،تصویر کا ذریعہBBC Future
مستقبل کی نسلیں
اب تک کیوکی کی تربیت لینے والے 100 افراد میں سے کوئی بھی کیوکی بنانے میں ماہر نہیں ہو پایا۔ یہ بھی ایک مستند سویا ساس کی طرح سست اور محنت طلب کام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی کشید کرنے والوں نے بہت پہلے ہی اس کام کو ترک کر دیا۔ اور لگتا ہے کہ یاماموتو اپنی زندگی میں روایتی سویاساس اور واشوکو پکوان کو بچانے کے لیے کافی کیوکی نہیں بنا پائیں گے اسی لیے وہ اس پر زور دیتے ہیں۔
جو بھی نیا کیوکی یاماموتو بناتے ہیں وہ اس کے دیودار کے تختوں کے اندر کی جانب اپنا اور اپنے تین بچوں کا نام لکھ دیتے ہیں۔یاماموتو کی بیٹی نے اب ان کے گودام میں جانا شروع کر دیا ہے تاکہ وہ اپنے والد کا بنایا شویو چکھ سکیں اور ان کا سب سے بڑا بیٹا جس کے بارے میں یاماموتو کو امید ہے کہ وہ ایک دن خاندانی کام سنبھالیں گے اب بہت شوق سے ان کے آگے آگے جا کر بانس کے کنج میں سے مناسب شاخیں تلاش کرتے ہیں۔
لیکن جب تک یاماموتو کی بنائی نئی کیوکی ان کے خاندان کے صدیوں پرانے بیکٹیریا سے بھریں گی تب تک شاید وہ جا چکے ہوں گے۔ اور جب تک یہ تختے الگ ہوں گے اور اس خاندان کے نام سامنے آئیں گے تب تک شاید ان کے بچے اور ان کے بھی بچے نہ رہیں۔
تاہم یاماموتو پر امید ہیں کہ مستقبل میں جو بھی انھیں دریافت کرے گا اسے اندازہ ہو گا کہ بہت پہلے میں نے یہ کام سیکھا تھا۔
’میرے آج اس سویا ساس کو استعمال کرنے کی وجہ یہ ہے کہ آج سے سینکڑوں برس پہلے کسی ایسے شخص نے اسے بنایا جسے میں جانتا تک نہیں۔‘









