ڈائنوسارز کیسے سیکس کیا کرتے تھے؟ ایک معمہ جو آج بھی حل طلب ہے

میوزیم

،تصویر کا ذریعہAlamy

میں جیکب ونتھر کے دفتر میں بیٹھی یہ سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی کہ کیا ڈائنوسارز کے عضو تناسل ہوا کرتے تھے یا نہیں۔

میں نے جھنجھلا کر ہکلاتے ہوئے کہا، ’تو کسی نہ کسی میں تو ۔۔۔‘ اسی دوران میرے میزبان نے میری بات اچکتے ہوئے بڑے حقیقت پسندانہ انداز میں کہا کہ ’دخول ہوتا ہی ہو گا۔‘

ہم برطانیہ کی یونیورسٹی آف برسٹل میں بیٹھے تھے جہاں جیکب ونتھر ارتقائی حیاتیات کے پروفیسر ہیں اور فوسل ریکارڈز کے ماہر ہیں۔

میں ان کے کمرے کا جائزہ لیتی رہی، یہ کچھ کچھ اُن سے نظریں بچانے کے لیے بھی تھا۔ آپ کے اندر کا بچہ کسی ماہرِ قدیم حیات کے کمرے کے جیسا تصور ذہن میں بناتا ہو گا، یہ بالکل ویسا ہی کمرہ تھا۔

کتابوں کی الماریوں میں کاغذات اور مقالوں کے ساتھ ساتھ کسی کھو چکی دنیا کے نوادرات بھی رکھے تھے۔ ان میں سب سے نمایاں جو نظر آئے وہ ایک قدیم کیڑا تھا جس کے نازک سے پروں کی رگیں صاف واضح تھیں، ایک ویمپائر سکوئیڈ کی باقیات جس کی سیاہی کی تھیلیاں اتنی بہترین حالت میں ہیں کہ ان میں اب بھی میلانن موجود ہے، اور عجیب و غریب پرانے کیچوے، جیسا کہ آج کل مرجان کی چٹانوں پر نظر آتے ہیں۔

ایک کونے میں ایک پرانی سا لکڑی کا صندوق ہے جس کی درازوں میں مجھے امید ہے کہ ہر طرح کے جانداروں کی باقیات ہوں گی۔

یہ جگہ کسی لائبریری اور میوزیم کا امتزاج معلوم ہوتی ہے۔

چند ہی فٹ دور ان سب سے نمایاں ’سیٹاکوسارس‘ نظر آتا ہے جس کے معنی ہیں طوطا نما چھپکلی۔ مانا جاتا ہے کہ یہ پیارا سا چھوٹی چونچ والا سبزی خور پرندہ موجودہ ایشیا کے جنگلات میں 13 کروڑ 30 لاکھ سال سے لے کر 13 کروڑ 20 لاکھ سال کے درمیان پایا جاتا ہو گا۔

میں جس نمونے کو دیکھ رہی تھی یہ مشہورِ زمانہ ہے، اپنی جلد کے لیے نہیں جو اب بھی اتنی محفوظ ہے کہ آپ اس کے جسم پر موجود دھاری دار نقوش دیکھ سکتے ہیں، اور نہ ہی اپنی دم کے لیے جس پر کافی عجیب سے نوکیلے پر نظر آتے ہیں۔ نہیں، یہ ڈائنوسار اس لیے مشہور ہے کیونکہ اس کا نچلا حصہ بعد میں آنے والی نسلوں کے مطالعے کے لیے محفوظ رہ گیا ہے۔

مگر ہم اس پر بعد میں بات کریں گے۔

فوسل

،تصویر کا ذریعہWikimedia Commons/ Ghedoghedo

میں نے اپنی توجہ دوبارہ اپنی گفتگو پر مرکوز کر دی۔ ونتھر مجھے چین کی ایک مشہور فوسل سائٹ سے ہونے والی ایک دریافت کے بارے میں بتانے لگے۔ یہ سائٹ صوبہ لیاؤننگ میں ییجیان فارمیشن کہلاتی ہے جہاں دو ٹائرینوسارس ایک قدیم جھیل میں ایک دوسرے کے ساتھ پائے گئے ہیں۔ اگر آپ ونتھر سے پوچھیں گے تو وہ کہیں گے کہ یہ مشکوک حد تک قریب ہیں۔ درحقیقت وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا یہ سیکس کر رہے تھے؟

جدید سائنسی تکنیکوں کی مدد سے سائنسدان نہایت تیزی سے ڈائنوسارز کی زندگیوں کے بارے میں چھوٹی چھوٹی تفصیلات معلوم کر رہے ہیں، ایسی تفصیلات جو کچھ دہائیوں قبل تک ناقابلِ تصور تھیں۔

مالیکیولر سطح پر ہونے والی تحقیق نے سات کروڑ 60 لاکھ سال قبل کے تھیروپوڈز میں خون کے سرخ خلیوں اور کولاجن کی شناخت ہوئی ہے۔

تھیروپوڈز وہ حیاتیاتی گروپ ہے جس نے زمین کو اس کے سب سے بڑے خشکی کے جاندار دیے ہیں۔ اس سے ایسی کیمیائی علامات ملی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ٹرائیسیراٹاپس اور سٹیگوسارس ٹھنڈے خون والے جاندار تھے جو کہ ڈائنوسارز کے لیے غیر معمولی بات ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی معلوم ہوا کہ کانٹے دار اور بکتر بند سبزی خور نوڈوسار ادرکی رنگ کا تھا۔

سائنسدانوں نے یہ بھی دریافت کیا ہے کہ کمر پر ’بادبان‘ سا رکھنے والا سپائنوسارس ممکنہ طور پر اپنے چھ انچ لمبے دانتوں اور مگرمچھ جیسے جبڑوں کو گہرے پانیوں میں شکار کے لیے استعمال کرتا ہو گا۔

یہ بھی ثبوت ملے ہیں کہ اگوانوڈونز شاید انتہائی ذہین ہوتے ہوں گے اور یہ کہ ٹیروسارز (اصل میں انھیں پروں کے حامل ریپٹائل یا رینگنے والے جانور کہنا چاہیے) اپنا شکار تلاش کرنے کے لیے پیدل بھی چل لیتے تھے۔

مگر اس حوالے سے اب بھی تحقیق کی کمی ہے کہ ڈائنوسارز جنسی ملاپ کیسے کیا کرتے تھے۔ آج کے دن تک سائنسدان ڈائنوسارز میں نر اور مادہ کی درست تفریق نہیں کر پاتے، یہ بتانا تو دور کی بات ہے کہ وہ ملاپ کیسے کرتے یا ان کے جنسی اعضا کیسے تھے۔

اس بنیادی علم کے بغیر ان کی کافی حیاتیات اور اُن کے رویے اب بھی مکمل طور پر پراسرار ہیں۔ صرف ایک بات واضح ہے، کہ وہ سیکس کرتے تو ضرور ہوں گے۔

ڈائنوسار

،تصویر کا ذریعہAlamy

آئیں دوبارہ ٹائرینوسار کے فوسلز کی بات کریں۔ ونتھر بتاتے ہیں کہ ان کی عجیب سی پوزیشن کے بارے میں ایک اشارہ ایک اور سابق جھیل سے ملتا ہے۔ اس کا نام میسیل پِٹ ہے اور یہ جرمنی میں ہے۔

یہ جگہ اپنے انتہائی محفوظ حیاتیات اور نباتات کے فوسلز کی وجہ سے مشہور ہے۔ یہاں سے اب تک لومڑی کی جسامت کے گھوڑے، بے حد بڑی چیونٹیاں، قدیم بندر اور کھانے سے بھرے معدوں والے کئی جانور دریافت ہوئے ہیں۔ ایک چھپکلی ایسی دریافت ہوئی ہے جس کے پیٹ میں ایک کیڑا ہے اور وہ چھپکلی خود ایک سانپ کے اندر ہے۔

اس کے علاوہ میٹھے پانی کے کچھوے بھی بڑی تعداد میں دریافت ہوئے ہیں جن میں سے نو جوڑے تو ایسے ہیں جو جنسی ملاپ کرتے ہوئے ہی ہلاک ہو گئے۔ کچھ کی تو دمیں بھی اب تک ایک دوسرے کو چھو رہی ہیں۔

اور یہ سب جیکب ونتھر کے نظریے کے لیے کافی اہم ہے۔

میسیل پِٹ اتنا بھرپور اور تاریخی قبرستان ایک زہریلے راز کی وجہ سے ہے۔

اب سے تقریباً پانچ کروڑ 70 لاکھ سال قبل سے تین کروڑ 60 لاکھ سال پہلے ایئوسین دور میں اس جگہ میں ایک پانی سے بھرا آتش فشانی گڑھا ہوتا ہو گا جس کے کنارے نہایت اونچے ہوں گے اور اس کے ساتھ ہرے بھرے جنگلات۔ کوئی نہیں جانتا کہ ان جانداروں کی موت کیسے ہوئی مگر ایک تصور یہ ہے کہ یہ جگہ اپنی تشکیل کے بعد ارضیاتی طور پر فعال رہی ہو گی اور ہر کچھ عرصے بعد یہاں سے دم گھونٹ دینے والے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے بادل خارج ہوا کرتے ہوں گے۔

یہ ممکن ہے کہ بدقسمت کچھوے ایسے ہی ایک واقعے کی زد میں آ کر ڈوب گئے ہوں اور اُن کا جنسی ملاپ اگلے لاکھوں برسوں کے لیے محفوظ ہو گیا ہو۔

مگر جنسی ملاپ کے دوران مرنے والے یہ کچھوے ان سیکس پوزیشنز میں نہیں ہیں جن میں ان کی موت ہوئی، یعنی ایک کے اوپر دوسرا نہیں ہے بلکہ یہ ایک دوسرے سے متضاد رُخ پر ہیں جیسے انھوں نے اچانک اپنا ذہن بدل لیا ہو۔

میری حیرانی دیکھتے ہوئے ونتھر اپنی کرسی میں پیچھے دھنس جاتے ہیں اور پھر ایسے بات کرتے ہیں جیسے ان کے لیے زمانہ قبل از تاریخ کا سیکس ایک عام سا موضوع ہو۔ وہ بتاتے ہیں کہ جب کچھوے مرے تو وہ ایک دوسرے سے دور ہوئے ہوں گے مگر ان کے جنسی اعضا ایک دوسرے سے منسلک رہے۔ وہ اس پورے دور میں مرد پارٹنر کے تولیدی عضو سے ایک دوسرے سے جڑے رہے۔

اور یہی بات ہمیں دوبارہ فوسل بن چکے ٹائرینوسارز کے جوڑے کی طرف لے آتی ہے جن میں ان کچھووں سے حیران کُن مماثلت ہے۔ ونتھر کہتے ہیں کہ ’یہ ایک دوسرے سے متضاد رُخ پر ہیں اور ان کی دمیں ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ اس وقت یہی کر رہے تھے۔‘

دیگر مثالوں کی عدم موجودگی میں ونتھر یہ تسلیم کرتے ہیں کہ یہ نظریہ اب بھی کافی حد تک اندازوں پر مبنی ہے اور اب تک یہ کسی تحقیق کے طور پر شائع نہیں ہوا ہے۔ تاہم اگر یہ جانور واقعی قدیم سیکس کرتے ہوئے پکڑے گئے تھے تو اس سے ہمیں ایک مخصوص نرم عضو کے بارے میں کچھ پتا چلتا ہے جسے اب تک کوئی فوسل صورت میں ڈھونڈ نہیں پایا ہے۔ جی بالکل، یہ ممکن ہے کہ ٹائرینوسارز بشمول ٹی ریکسز کے عضو تناسل ہوا کرتے تھے۔

مگر ڈائنوسارز کی سیکس سے متعلق حقائق کا ایک اور ذریعہ ایسا بھی ہے جو اتنا مبہم نہیں۔ یہ اپنی پشت کی وجہ سے دنیا کی توجہ کھینچ لینے والا فوسل سیٹاکوسارس ہے۔

ونتھر مجھے اپنی اس خصوصی ملکیت کے پاس لے گئے اور اس کے ’پیچھے کی کہانی‘ سنانے لگے۔

سیٹاکوسارس

،تصویر کا ذریعہZaria Gorvett

کریٹیشیئس دور کے اوائل کی بات ہے۔ شمال مشرقی چین میں جیہول بیوٹا میں یہ ایک خوبصورت اور چمکیلا دن ہے اور چھوٹی سیٹاکوسارس گھنے جنگل میں اپنے گھر سے نکل کر اس علاقے میں موجود کئی جھیلوں میں سے ایک پر پانی پینے جاتی ہے۔ وہ سر سے لے کر دم تک تقریباً تین فٹ لمبی ہے اور تقریباً مکمل بالغ ہے مگر اب بھی ناتجربہ کار ہے۔

یہ سیٹاکوسارس دو پیروں پر پانی کے کنارے تک پہنچ جاتی ہے۔ بڑے ہونے پر اس نے دو دیگر پیروں سے چلنا چھوڑ دیا تھا۔ مگر پھر سانحہ پیش آتا ہے۔ جب وہ آگے جھک کر اپنی طوطا نما چونچ سے پانی پینے لگتی ہے تو اس کا پیر پھسلتا ہے اور وہ پانی میں گر کر ڈوب جاتی ہے۔ وہ ڈوب کر جھیل کی تہہ میں اپنی پشت کے بل جا گرتی ہے اور حادثاتی طور پر اس کے جنسی عضو آنے والی نسلوں کی حیرانی کے لیے محفوظ ہو جاتے ہیں۔

قابلِ فہم ہے کہ ونتھر چاہتے تھے کہ میں اس کی پشت کا جائزہ لوں۔ وہ اس کی دم کے عین نیچے جلد کے ایک سیاہ اور گول حصے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ یہ رہے: ڈائنوسار کے مخصوص اعضا، ابتدائی کریٹیشیئس دور سے اب تک محفوظ حالت میں۔ یہ اتنے پرانے ہیں کہ ایک عام انسان اتنے عرصے میں 16 لاکھ زندگیاں گزار لے۔

ونتھر کے دفتر میں موجود سیٹاکوسارس اصلی فوسل نہیں ہے، یہ دراصل اس جانور کا چھوٹا سا ماڈل ہے جو اس کی اصل زندگی کے قریب ترین ہے۔ یہ ونتھر نے خود ہی بنوانے کے لیے کہا تھا اور یہ انتہائی احتیاط سے بنایا گیا عمدہ فن پارہ ہے۔ اس پر موجود مارکنگز بھی درست ہیں اور اصلی فوسل کی جلد پر موجود نشانات کو بالکل ویسے ہی تراشا گیا ہے۔

تو اس ڈائنورسار کی پشت سے ہمیں کیا معلوم ہوتا ہے؟

پہلی بات تو یہ ہے کہ ان ڈائنوسارز کے قریبی رشتہ داروں یعنی پرندوں اور کروکوڈائلز کی طرح ان میں بھی ’کلواکا‘ نامی عضو موجود ہوتا ہے۔ یہ عضو زمین پر موجود میملز یا دودھ پلانے والے جانوروں کے علاوہ تمام ورٹیربریٹس یعنی ریڑھ کی ہڈی والے جانوروں میں پایا جاتا ہے۔

اس عضو میں ایک سوراخ موجود ہوتا ہے جسے یہ جانور پاخانہ، پیشاب، سیکس اور بچوں کی پیدائش کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ کوئی غیر متوقع بات نہیں تھی لیکن یہ ایک نئی دریافت ضرور ہے، کسی نے بھی اب تک اس بات کی تصدیق نہیں کی تھی کہ ڈائنوسارز کا جسمانی ڈھانچہ ان کے کزنز سے مماثلت رکھتا ہے۔

ونتھر کہتے ہیں کہ ’اگر آپ یہاں نیچے نظر دوڑائیں (سیٹاکوسارس کی دم کے نیچے موجود کلواکا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) تو آپ کو بہت سارے پگمینٹ دکھائی دیں گے۔ وہ اس کی تفصیل بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ میلانین ہے اور یہ اس فوسل کے حیران کن حد تک محفوظ رہنے کا کچھ حد تک ذمہ دار بھی ہے۔

عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ میلانن وہ گہرے رنگ کا مادہ ہے جو ہماری جلد کے رنگ کا تعین کرتا ہے لیکن عام دنیا میں اس کے متعدد فوائد ہیں جس میں اس کا سکوئڈ نامی مچھلی کی جانب سے پیدا کی جانے والی سیاہی میں اس کا بطور پگمنٹ کردار بہت اہم ہے اور یہ ہماری آنکھوں کے پیچھے ایک حفاظتی پرت بھی بنا کر رکھتی ہے۔

ڈائنوسار

،تصویر کا ذریعہGetty Images

یہ ایمفبیئنز (خشکی اور تری دونوں پر رہنے والے جانور) اور ریپٹائلز (رینگنے والے جانوروں) میں ایک انتہائی کارآمد اینٹی مائیکروبیئل کی حیثیت سے بھی کام کرتا ہے۔ تاہم یہ متعدد ایسی جگہوں پر بھی پایا جاتا ہے جہاں اس کی افادیت بہت زیادہ ہوتی ہے۔

ونتھر کا کہنا تھا کہ ’مثال کے طور پر کیڑے مکوڑوں میں میلانن انفیکشنز کے خلاف مدافعتی نظام کی حیثیت سے بھی کام کرتا ہے۔ اگر مثال کے طور پر آپ ایک پروانے میں سوئی سے سوراخ کرتے ہیں (ایسا اصل میں ہرگز نہ کیجیے گا) تو اس کے اردگرد کے حصے سے میلانن باہر نکلے گا۔‘

یہ بھی پڑھیے

یہی وجہ ہے کہ اکثر جانور بشمول انسانوں میں میلانن کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اس لیے ان کے مخصوص اعضا کے گرد ان کی جلد کا رنگ گہرا ہوتا ہے۔ یہ بات ڈائنوسارز کے حوالے سے بھی اتنی ہی سچ ہے جتنی انسانوں میں ہے۔ اپنے ایک دور پرے کے رشتے دار کو اپنے سامنے پڑا دیکھ کر جو اس وقت ایک مخصوص انداز میں منجمد ہے اور شاید ابھی اپنی پاؤں کی انگلیوں پر چلتے ہوئے میرے پاس سے گزر جائے، یہ ایک انتہائی ذاتی مماثلت کے بارے میں جاننے کا عجیب تجربہ ہے۔

تاہم اس حوالے سے مزید دلچسپ انکشافات بھی ہوئے ہیں اور یہاں مجھے یہ معلوم ہوا کہ میری اب تک کی بے چینی صرف ایک ابتدائیہ ہی تھا۔ میں ابھی سوچوں میں ہی مگن تھا کہ ونتھر نے انتہائی ولولے کے ساتھ مجھے سیٹاکوسارس کی پشت کے بارے میں انتہائی باریک بینی کے ساتھ ایک ایک تفصیل بتانا شروع کر دی۔

ونتھر بتاتے ہیں کہ کلواکا کی ڈھانچے کے بارے میں اب ہم بہت کچھ جان گئے ہیں اور اب ہم یہ دکھانے کے قابل ہو گئے ہیں کہ اس کے دو ہونٹوں کی طرح کے حصے ہیں جو باہر کی جانب ابھرے ہوئے تھے۔ انھوں نے یہ کہتے ہوئے اپنی انگلیوں سے ’وی‘ کا نشان بنایا۔ ’اور اس کا باہر کا حصہ پگمنٹس سے بھرا ہوا ہے۔ لیکن اس میں دلچسپ بات یہ ہے کہ کیونکہ یہ سوراخ کے قریب نہیں ہیں، جو عام طور پر ہونی چاہیے اگر مائکروبیئل انفیکشن ہو جائے۔ اس لیے یہاں پگمنٹس کی موجودگی کا مقصد پشت کی تشہیر کرنا تھا۔‘

ونتھر کہتے ہیں کہ ’اگر یہ سچ ہے تو ایسی نظیر پہلے نہیں ملتی یعنی ممکنہ جنسی ساتھی کے سامنے اپنی پشت کی تشہیر کرنا جیسے لنگور کرتے ہیں، ایسا جدید دور کے پرندوں میں انتہائی غیر معمولی ہے اور ان پرندوں کے آباؤ اجد انھی ڈائنوسارز کو مانا جاتا ہے۔ ونتھر بتاتے ہیں کہ ڈائنوسارز کی رنگوں کی پہچان میں خاصے ماہر تھے اس لیے یہ ظاہری اشارے کرنے کی کوشش کرتے تھے۔‘

ڈائنوسار

،تصویر کا ذریعہ Wikimedia Commons/ ケラトプスユウタ

یہ بات دودھ پلانے والے جانوروں سے مختلف ہے جو صرف دو رنگ دیکھ سکتے ہیں اور پرندوں سے بھی جو انسانوں کی طرح الٹراوائلٹ روشنی کے علاوہ تین رنگ دیکھ سکتے ہیں۔

تاہم کلواکا کو دکھا کر اشارہ کرنا اس لیے سود مند نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ پروں سے ڈھکی ہوئی ہوتی ہے۔ اسی طرح مگرمچھ اس حوالے سے خوشبو پر انحصار کرتے ہیں۔

ونتھر کا ماننا ہے کہ پرندوں کی طرح ڈائنوسارز کی رنگوں کو پہچاننے کی صلاحیت بہترین ہوتی ہے ایسے میں جن میں پروں کی کمی ہو گی انھوں نے اس موقع سے ضرور فائدہ اٹھایا ہو گا، جیسے ونتھر بتاتے ہیں کہ ’اپنی کلواکا کی تشہیر کیوں نہ کی جائے۔‘

بدقسمتی سے یہ بتانا ممکن نہیں ہے کہ یہ سیٹاکوسارس نر ہے یا مادہ یا ان کے جنسی اعضا کی تفصیلات بارے میں ہم کچھ بھی یقین سے نہیں کہہ سکتے کیونکہ اس کے یہ اعضا اندر ہی چھپے ہوئے ہیں۔ اس کے بعد ڈائنوسارز کے پاس سیکس کرنے کی دو حکمتِ عملیاں رہ جاتی ہی یعنی دو ڈائنوسارز کی کلواکاز کو ایک دوسرے جوڑنا اور نر کا مادہ میں نطفے کا اخراج کر دینا۔ یہ پرندوں میں ایک بہت عام حکمتِ عملی ہے۔ اس کے علاوہ دوسری حکمتِ عملی جسے کے بارے میں ہم بھی جانتے ہیں اور وہ عضو تناسل کا استعمال ہے، جیسے مگر مچھ سیکس کرتے ہیں۔

اس حوالے سے مزید شواہد موجود نہیں ہیں اور ہمارے پاس ڈائنوسارز کی کلواکاز کے فوسل بھی نہیں ہیں اس لیے اس بارے میں اب بھی حتمی طور پر کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا ہے۔

لیکن شاید یہ تمام تفصیلات ڈائنوسارز کے مخصوص اعضا کے بارے میں ہمیں بہت کچھ بتا دیتی ہیں۔ ان کی افزائش نسل کے دیگر مراحل اور پہلوؤں کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں، کیا ان کے کوئی سیکس سے متعلق مخصوص رسومات ہوتی تھیں، جیسے لڑائیاں یا ناچنا؟ کیا نر اور مادہ میں کوئی ظاہری فرق ہوتا تھا؟ اور ہم یہ کیسے بتا سکتے ہیں کہ ان کے جسم میں موجود کون سے ایسے عضو ہوتے تھے جو وہ اپنے جنسی ساتھی کو متوجہ کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے؟

جب آپ ان سوالات کے بارے میں سوچتے ہیں تو آپ کو اندازہ ہوتا ہے کہ ان کئی سو برسوں پہلے معدومیت کا شکار ہونے والے جانوروں کے سکیس کرنے سے متعلق رویوں کے بارے میں جاننا اتنا ہی ناممکن ہے جتنا ان کی پشت کو ڈھونڈنا، لیکن راب نیل کوئینز میری، یونیورسٹی آف لندن میں ایک اکالوجسٹ ہیں اور مجھے اس بات کی یقین دہانی کرواتے ہیں کہ اس حوالے سے فوسل ریکارڈ میں کچھ سراغ ملتے ہیں۔

نیل کہتے ہیں کہ ’ایک بات جو ڈائنوسارز کے بارے میں سچ ہے وہ یہ کہ آپ کو ان کے حوالے سے بہت عجیب و غریب چیزیں ملیں گی، کچھ لوگ انھیں ’بے ڈھنگے ڈھانچے‘ بھی کہتے ہیں۔ یہ ان سے جڑی کشش کی ایک وجہ بھی ہے، سپائنوسارز کی ابھری ہوئی ریڑھ کی ہڈی ہو، ٹرائسراٹوپس کے گردن کے گرد بنے ڈھانچے اور سینگ، ہیڈراسارز کا سر پر بنا کریسٹ۔۔۔ یہ وہ تمام ایسی خصوصیات ہیں جو ممکنہ طور پر جنسی کشش کا باعث بن سکتے ہیں۔

صدیوں سے سائنسدان ان ڈھانچوں کی افادیت کے بارے میں بحث کر رہے ہیں، جن میں سے ایک یہ مفروضہ بھی پیش کیا جاتا ہے کہ ہیڈراسارز پانی میں بھی رہتے ہیں اور اپنے کریسٹ کو وہ پانی میں سانس لینے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ ان میں سے کچھ تو ایسے مفروضے بھی تھے جو کسی بھی صورت درست تصور نہیں کیے جا سکتے۔

جب سنہ 1900 میں ٹی ریکس کی دریافت ہوئی تھی تو کہا گیا تھا کہ اس کے ہاتھ اس نسل کے اعتبار سے بہت چھوٹے ہیں اور شاید کسی اور ڈھانچے کے ہیں اس لیے یہ ٹی ریکس نہیں ہو سکتے۔

ڈائنوسار

،تصویر کا ذریعہAlamy

تاہم نیل تفصیل بتاتے ہیں کہ ماضی میں ڈائنوسارز پر تحقیق کرنے والے سائنسدانوں کو اس بات میں ہچکچاہٹ محسوس ہوتی تھی کہ وہ ان ڈھانچوں کی تعریف سیکس کے لیے کشش پیدا کرنے والے اعضا کے طور پر کریں۔ وہ اس حوالے سے اندازہ تو لگا سکتے تھے لیکن ان کے پاس اسے ثابت کرنے کا کوئی سائنسی طریقہ نہیں تھا۔

اس حوالے سے لندن کے نیچرل ہسٹری میوزیم کی سینیئر محقق سوسانا میڈمینٹ کہتی ہیں کہ ’سٹیگوسارس کی پشت پر موجود تختہ نما پلیٹس ایک مثال ہیں۔ یا ہم ہیڈروسارز کے سروں پر ٹیوب کی شکل کے کریسٹ دیکھتے ہیں۔۔۔ ہمیں نہیں معلوم ان کا مقصد کیا ہے۔‘

اب جدید سائنسی دور کی آمد کے بعد اس بارے میں خیالات بدل رہے ہیں۔ سنہ 2012 میں نیل نے فیصلہ کیا کہ وہ اس مسئلہ کا باریک بینی سے جائزہ لیں گے۔ وہ اس بات میں دلچسپی رکھتے تھے کہ معدوم ہو جانے والے جانوروں پر تحقیق کرتے ہوئے ایسے زندہ جانوروں سے مماثلت رکھتے ہوئے سیکس کرنے کے پہلوؤں پر تحقیق کریں جن کے بارے میں ابہام موجود ہے۔

ان میں چہرے پر موجود سینگ اور ٹرائسراٹاپس اور ان کے رشتہ داروں کے گلے کے گرد موجود ڈھانچے شامل ہیں۔ سیٹاکوسارس کے چہرے کی دونوں جانب بھی نوکیلے ڈھانچے موجود ہیں، گاور دونوں آنکھوں کے اوپر بھی نشانات ہیں، ڈپلوڈوکس کی لمبی گردنیں اور ان میں سے اکثر کے پر بھی دلچسپی کا باعث ہیں۔

اس حوالے سے تاحال بھی کوئی ایسا مستند ثبوت نہیں ہے کہ یہ ڈھانچے استعمال کس لیے ہوتے تھے۔ تاہم نیل نے بین الاقوامی سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے فوری طور پر یہ بھانپ لیا کہ زمین پر موجود جانوروں میں اس بارے میں شواہد ملتے ہیں اگر آپ کو معلوم ہو کہ آپ نے کہا دیکھنا ہے۔

ایک سیکشوئل ڈائمورفزم کہلاتا ہے یعنی نر اور مادہ کا بظاہر مختلف نظر آنا۔ یہ بات تو خاصی کم دیکھنے کو ملتی ہے کہ نر اور مادہ کے رہنے کے طریقے اور بقا کی حکمتِ عملی بھی بالکل مختلف ہو، اس لیے جب وہ ظاہری طور پر مختلف ہوتے ہیں تو ایسا اس لیے ہوتا ہے تاکہ نر مادہ کو براہِ راست اپنی جانب راغب کر لے۔ (جیسے نر مور کے رنگے برنگے پر) یا ایک دوسرے سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھنا جیسے (بھینسوں کے سینگ)۔

بدقسمتی سے ڈائنوسارز کو سمجھنے کے لیے یہ مخصوص سراغ کارآمد نہیں ہے، کیونکہ سائنسدان تاحال ڈائنوسارز میں نر اور مادہ میں فرق نہیں جانتے اور اگر وہ مختلف فوسلز میں موجود فرق پہچان بھی لیتے ہیں تب بھی انھیں یہ معلوم نہیں ہو گا کہ یہ مختلف جنس کے ہیں یا نسل کے۔

یہاں ہمیں ایک نئی علامت دکھائی دیتی ہے۔ جب ایک مذکورہ ڈھانچہ بالغ ڈائنوسارز میں دکھائی دے اور ان کے بچوں میں نہیں تو یہ عمومی طور پر سیکس کے لیے ہی ہوتا ہے۔ جیسے نر شیروں کی گردن پر بال، جن سے ان کا سیکس کے تیار ہونے کا اشارہ ملتا ہے۔ تاہم یہ اشارہ یا علامت بھی خاصی پیچیدہ ہے۔

سنہ 1942 میں سائنسدانوں نے امریکہ میں مونٹانا میں ایک سر دریافت کیا۔ یہ ظاہری طور پر ایک وحشی جانور کا ہی سر لگتا تھا لیکن ٹی ریکس سے موازنہ کیا جائے تو یہ خاصا چھوٹا اور کمزور پایا گیا۔

سائنسدانوں کی ٹیم اس نتیجے پر پہنچی کہ ایک نئی نسل سے ہے، اور پھر کئی دہائیوں کی بحث کے بعد، اس نسل کا نام Nanotyrannus نینوٹائرانس رکھا گیا۔ آنے والے سالوں میں کئی اور ایسی مثالوں کی نشاندہی بھی کی گئی۔

پھر سنہ 2020 میں ایک ٹیم نے قریب سے جائزہ لیا۔ انھوں نے چھوٹی عمر کے ٹائریناسارز کی ہڈیوں کا مشاہدہ کیا اور انھیں یہ معلوم ہوا کہ یہ کوئی دوسری نسل نہیں بلکہ ٹی ریکسز ہی تھے جو اپنے لڑکپن کے زمانے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ اب تو یہ بھی سمجھا جا رہا ہے کہ یہ جانور اپنے سے بڑی عمر کے جانوروں کے مقابلے میں خاصے مختلف نظر آتے ہوں گے، اور یہ اس طرح رہتے تھے جیسے ان سے کوئی تعلق ہی نہ ہو، اور ہر کوئی اپنے کام سے کام رکھتا تھا۔

ٹی ریکسز وہ واحد ڈائنوسارز نہیں ہیں جنھیں عمر بڑھنے کے ساتھ غیر معمولی تبدیلیوں کا سامنا کرنا پڑا ہو۔

میڈمینٹ کہتی ہیں کہ ’ٹوروسارز اور ٹرائسریپٹرز کے بارے میں اب بھی خاصی بحث جاری ہے۔ دونوں ڈائنوسارز بالکل ایک جیسے دکھتے ہیں لیکن ٹوروسارز کے سر بہت بڑے ہوتے ہیں اور ان کی گردن میں بڑے بڑے سراخ نمایاں ہوتے ہیں۔ جبکہ ٹرائسریپٹرز خاصے چھوٹے ہوتے ہیں، اور ان کی گردن کے گرد موجود ڈھانچوں میں سوراخ نہیں ہوتے۔

میڈمینٹ کہتی ہیں کہ ’یہ دو ڈائنوسارز شمالی امریکہ میں رہتے تھے اور ان کی موجودگی کریٹیسیئس کے عین آخر میں ہوا کرتی تھی۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ ٹوروسارس پرانے وقتوں کے ٹرائیسراٹاپس ہیں اور کچھ کے خیال میں یہ دنوں مختلف نسلوں میں سے ہیں۔ لوگوں نے اس پر بھی بحث کی ہے کہ یہ تمام ہی مختلف نسلوں سے تعلق رکھنے والے ڈائنوسارز ہیں لیکن حقیقت میں یہ شاید صرف جسمانی طور پر چھوٹے ہیں یعنی اونٹوجینیٹک سٹیج پر ہیں۔ لیکن کوئی بھی اس بات سے اتفاق کرنے کو تیار نہیں۔‘

اس لیے سیکس سے متعلق پہلوؤں کے بارے میں جاننے کے لیے یہ حکمتِ عملی بھی ہر دفعہ کارآمد ثابت نہیں ہو گی۔ تاہم خوش قسمتی سے اس کا ایک اور طریقہ بھی ہے اور وہ اس بات کا ماڈل بنانا ہے کہ یہ ڈھانچہ اور کس چیز کے لیے کارآمد ثابت ہو سکتا ہے۔

نیل کہتے ہیں کہ ’ہم یہ کر سکتے ہیں کہ ہم یہ کہیں کہ یہ ڈھانچے اس مقصد کے لیے ان میں موجود ہے، اور یہ ڈھانچہ فلاں مقصد کے لیے نہیں ہو سکتا ہے۔‘

اس کی ایک مثال ٹرائسراٹوپس کی گردن کے گرد بنے فرل ہیں۔ گذشتہ کئی سالوں کے دوران سائنسدان اس ڈھانچے کی افادیت جاننے میں ناکام رہے ہیں۔ کچھ کے مطابق یہ اسے اپنے سر کی حفاظت میں مدد دیتا تھا، کچھ کہتے ہیں یہ اس کے جسم کے درجہ حرارت کو مناسب رکھتا تھا یا شاید یہ اسے طاقت بخشتا ہے تاکہ یہ زیادہ زور سے اپنے سینگوں کا وار کر سکے۔

ڈائنوسار

،تصویر کا ذریعہGetty Images

حال ہی میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ شاید اس ڈھانچے کو اپنے گروہ میں شناخت کے لیے استعمال کرتے تھے۔ نیل اور ان کے ساتھیوں نے اس بات پر مزید تحقیق کی اور یہ جانا کہ یہ مفروضہ بھی شاید غلط ہی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ مختلف ٹرائسراٹوپس کی انواع میں اس میں تبدیلی نہ ہونے کے برابر ہے۔

اس مفروضے کو نظرانداز کرنے کے بعد اس بات کا امکان بڑھ گیا ہے کہ وہ اس کا استعمال کرتے ہوئے اپنی جانب راغب کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں یا دوسرے نر ٹرائسسراٹوپس سے لڑنے کے لیے تاکہ ان کی بجائے خود سیکس کر سکیں۔

اس بات کے شواہد بھی موجود ہیں۔ سنہ 2009 کی ایک تحقیق میں ٹرائسراٹوپس کے سروں پر ہونے والے زخموں کا جائزہ لیا گیا اور یہ معلوم ہوا کہ یہ دراصل ان کی اپنے ساتھیوں کے ساتھ لڑائی کے نتیجے میں بنے ہیں۔ گویا تحقیق کرنے والوں کو ممکنہ طور پر سیکس سے متعلق لڑائیوں کے نشانات مل گئے۔

تاہم سیکس سے منسلک دیگر رویوں اور پہلوں پر بھی نظر ڈالتے ہیں۔ کیا نر ٹی ریسکز اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں کو باندھ کر مادہ کو راغب کرتے تھے، جیسے پری ہسٹارک پلینٹ کے پروڈیوسرز کا گمان ہے؟ کیا یہ ممکن ہے کہ پیکیسیفالوسارز سیکس کرتے ہوئے سر مار کر لڑائی کیا کرتے تھے؟

نیل کا ماننا ہے کہ ایسا ہی ہوتا ہو گا۔ وہ ڈائنوسارز اور پرندوں کے درمیان مماثلت کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس سے ہمیں اس بارے میں شواہد ملتے ہیں کیونکہ پرندے ڈائنوسارز کے جدید دور کے کزن تصور کیے جاتے ہیں۔ اڑنے والے ڈائنوسراز کے بارے میں یہ بات سچ بھی ہے جیسے ویلوسیراپٹرز جو خونریز جانور تھے۔

نیل کا ماننا ہے کہ شاید ہمیں کبھی بھی ڈائنوسارز کے سیکس کرنے سے متعلق تفصیلات معلوم نہ ہو سکیں اور اگر آپ ایسا کرنے کی کوشش کریں بھی تو شاید آپ زیادہ دور تلک نہ جا سکیں کیونکہ پرندوں کی نفسیات بہت زیادہ مختلف ہوتی ہے۔

کسے معلوم کے آنے والی دہائیوں میں ہمیں اس بارے میں تمام تفصیلات مل جائیں جو ہمیں بتائیں کہ وہ کیسے سیکس کیا کرتے تھے اور ان کے مخصوص اعضا کیسے ہوا کرتے تھے۔