انڈیا میں موجود وہ خزانہ جو ابھی تک دنیا کی نظروں سے اوجھل ہے

،تصویر کا ذریعہAlamy
- مصنف, کمالا تھیاگاراجن
- عہدہ, بی بی سی فیوچر
سنہ 2000 میں مغربی انڈیا کے شہر ناگپور میں سینٹرل میوزیم کے دورے کے دوران پیلیئنٹولوجسٹ (قدیم حیاتیات کے ماہر) جیفری اے ولسن ایک فوسل کو دیکھ کر دنگ رہ گئے۔ اس طرح کا فوسل انھوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اس فوسل کو ان کے ایک ساتھی نے سنہ 1984 میں انڈیا کے مغربی ساحل پر واقع گجرات کے ایک گاؤں ڈھولی ڈنگری سے دریافت کیا تھا۔
امریکہ کی مشیگن یونیورسٹی کے ڈیپارٹمنٹ آف جیولوجیکل سائنسز کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ولسن کہتے ہیں کہ یہ پہلی مرتبہ ہوا تھا کہ کسی ڈائنوسار کے بچے کی ہڈیاں اور انڈے کسی ایک فوسل میں ملے تھے۔
لیکن ان کو مزید حیرت زدہ کرنے کے لیے وہاں کچھ اور بھی تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’اس نمونے میں، جن ہڈیوں کا میں معائنہ کر رہا تھا ان میں ایک خاص تعلق کے ساتھ دو چھوٹے ریڑھ کی ہڈی کے جوڑ تھے، ایسی چیز جو صرف سانپوں میں ہوتی تھی۔‘
اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ انھوں نے اس کو غلط نہیں سمجھا، ولسن نے ریڑھ کی ہڈی پر اسی نمونے (پیٹرن) کی تلاش کی۔ اور انھیں وہ مل بھی گیا۔ ’یہ ایسا تھا جیسے میرے سر میں روشنی کا بلب جل گیا ہو۔ کیا اس فوسل میں کوئی قبل از تاریخ کا سانپ بھی ہو سکتا ہے؟‘
انڈیا میں ایسی کوئی سہولت نہیں تھی جو مطلوبہ فوسل کی اچھی طرح صفائی کر سکے۔ ولسن کو نمونے کو امریکہ منتقل کرنے کی اجازت لینے کے لیے جیولوجیکل سروے آف انڈیا (جی ایس آئی) سے منظوری حاصل کرنے میں چار سال لگے جو ملک بھر میں ارضیاتی سروے کی نگرانی کرتا ہے۔
جب وقت آیا تو ولسن نے سارے نمونے ایک ڈبے میں بند کیے اور اسے اپنے بیگ پیک میں ڈالا اور ساتھ لے کر امریکہ چلے گئے۔ وہاں پہنچنے کے بعد ان نرم اور نازک ہڈیوں کے گرد پتھریلے میٹرکس کو ہٹانے میں پورا ایک سال لگا۔
اس کے بعد آنے والے سالوں میں سائنس دانوں، ماہرین حیاتیات اور سانپوں کے ماہرین اس فوسل پر تحقیق کرتے رہے۔
سنہ 2013 میں انڈین ماہر حیاتیات دھننجے موہبے اور جی ایس آئی کے دیگر ماہرین کے ساتھ ولسن نے ایک مقالہ لکھا جس میں انھوں نے فوسل کی دریافت کے اس ناقابل یقین حد تک ایکشن سے بھرے ہوئے لمحے کو بیان کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے نہ صرف قبل از تاریخ سانپ کی موجودگی کی تصدیق کی بلکہ یہ بھی دریافت کیا کہ اس کے جبڑے اس طرح کھلے ہوئے تھے جیسے وہ بے بی ڈائنوسار کو کھانے لگا ہو، جو کہ ابھی ابھی انڈے سے نکلا تھا۔ بچہ ڈائنوسار کے انڈوں کے پاس ہی تھا، جو کہ اس وقت تک پوری طرح اپنی اصلی حالت میں تھے۔
اس منصوبے کا مطالعہ کرنے والے ماہر ارضیات نے اندازہ لگایا کہ جانور شاید مٹی کے تودے تلے دب گئے تھے۔ یہ ایک ایسا واقعہ تھا جو بغیر کسی انتباہ کے تیزی سے شروع ہوا اور ڈائنوسار کے بچے کے شکار کے اس لمحے کو وقت کے ساتھ قید کر لیا۔

،تصویر کا ذریعہAlamy
انڈیا کے فوسل کا ورثہ جسے فراموش کر دیا گیا
اور اسی طرح ساناجہ انڈیکس پہلی مرتبہ دنیا کے سامنے آیا۔ یہ الفاظ سنسکرت کے ہیں جن کا مطلب ہے ’سندھ سے قدیم کھلا ہوا منھ‘۔
سائنس دانوں کو معلوم ہوا کہ کس طرح قبل از تاریخ کے سانپوں میں اپنے جبڑوں کو اتنا چوڑا کھولنے کی صلاحیت نہیں تھی کہ وہ بڑے شکار کو نگل سکیں، یہ صلاحیت آج کل کے کچھ سانپوں نے ارتقا کے عمل کے ذریعے حاصل کی ہے۔
سنہ 2013 میں اسی جگہ پر اسی طرح کا ایک اور نمونہ بھی دریافت ہوا تھا اور ٹیم اب ایک اور مقالہ تیار کر رہی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح ساناجہ انڈیکس کی اناٹومی جدید چھپکلیوں سے مشابہت رکھتی ہے۔
ماہرین حیاتیات کہتے ہیں کہ اس طرح فوسلز قدیم ماضی کے رازوں سے پردہ اٹھا سکتے ہیں جو ہمیں ویسے پتہ نہیں چل سکتے، لیکن حالیہ برسوں میں سامنے آنے والے اہم سائنسی نتائج کے باوجود، انڈیا کے بے پناہ فوسل کے ذخائر کا پتہ چلانے کے لیے مناسب فنڈنگ یا منظم مطالعہ نہیں ہے۔
واشنگٹن ڈی سی میں سمتھسونین انسٹیٹیوشن کے شعبہ پیلیو بائیولوجی میں ریسرچ ایسوسی ایٹ اڈویٹ ایم جوکار کہتے ہیں: ’میرے خیال میں انڈیا کے فوسل کا ورثہ بڑی حد تک استعمال نہیں کیا گیا ہے اور اسے فراموش کر دیا گیا ہے۔ انڈیا نے تاریخ میں ملنے والی قدیم ترین وہیل، کچھ بڑے گینڈے اور ہاتھی دیے ہیں، ڈائنوسار کے انڈوں کے وسیع میدان، اور ڈائنوسار کے دور سے پہلے کے عجیب سینگھوں والے رینگنے والے جانور۔ لیکن ابھی بھی بہت سارا خلا ہے جسے پُر کرنے کی ضرورت ہے۔‘
اور یہ اس لیے ہے کہ انڈیا کے بڑے حصوں کو پیشہ ور ماہرینِ حیاتیات کے ذریعہ منظم طریقے سے کھودا نہیں گیا ہے۔
ارتقائی پہیلیاں
اس کے باوجود گذشتہ برسوں کے دوران انڈیا میں قدیم دریافتوں نے سائنسدانوں کے پرانے نظریات کو ختم کرنے کے لیے اہم معلومات مہیا کی ہیں اور نئے انداز سے روشنی ڈالی ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ زندگی کس طرح ارتقا پذیر ہوئی ہے۔
ان میں سے بہت سی دریافتوں کے پیچھے اشوک ساہنی کا ہاتھ ہے، جو ایک سرکردہ ماہر حیاتیات ہیں اور جن کے دادا، والد اور چچا سبھی اس شعبے سے منسلک تھے۔
ساہنی اکثر اپنی مہمات کے لیے اپنے ہی فنڈز کا استعمال کرتے ہیں۔ ان کے فوسلز کے ذاتی ذخیرے سے پنجاب یونیورسٹی کے نیچرل ہسٹری میوزیم کی شیلفیں بھری ہوئی ہیں۔
سنہ 1982 میں وسطی انڈیا کے شہر جبل پور کی جھلسا دینے والی گرمی میں ایک ڈائنوسار سائٹ پر، ساہنی کو فوسلز کی تلاش میں زمین کے ہر ایک انچ کو کریدنا یاد ہے۔
جب وہ اپنے جوتوں کے تسمے باندھنے کے لیے جھکے تو ان کے بالکل سامنے چار یا پانچ کروی یا گول چیزیں پڑی تھیں، جن کی لمبائی 16 سے 20 سینٹی میٹر تھی۔ ’یہ بہت بری حالت میں تھیں، اور تقریباً ایک جیسی گول شکل کی تھیں۔ میں دنگ رہ گیا۔ کیا یہ ڈائنوسار کے انڈے ہو سکتے ہیں؟‘

،تصویر کا ذریعہAlamy
انڈیا میں ڈائنوسار کے انڈوں کی دریافت
یقیناً وہ ٹائٹانوسارس انڈیکس کے انڈے تھے، جو کریٹاسیئس دور کا ایک بڑا سبزی خور ڈائنوسار تھا۔ یہ پہلا موقع تھا جب انڈیا میں ڈائنوسار کے انڈوں کا گروہ دریافت ہوا تھا۔ آج تقریباً 40 سال بعد اب پورے ملک میں ڈائنوسار کے گھونسلوں کی مقامات ملتے ہیں۔
20 سال کی انتھک محنت کے بعد ساہنی نے انڈیا کے گوشت خور ڈائنوسار، راجاسورس نارماڈینسس، کی تازہ ترین نسل کی ہڈیوں کی شناخت اور انھیں جوڑنے کے بعد عالمی شہرت حاصل کی ہے۔ اس ڈائنوسار کے بارے میں خیال ہے کہ اس کی لمبائی 30 فٹ تھی۔
لیکن سائنس کو حقیقت میں زیادہ فائدہ ساہنی کی کم دلکش، کم معروف دریافتوں سے ہوا ہے۔
سنہ 2010 میں وہ انڈین، جرمن اور امریکی سائنسدانوں کی ایک ٹیم کا حصہ تھے جس نے ایمبر میں بہت اچھی طرح محفوظ کیڑے دریافت کیے جن کی عمروں کا اندازہ پانچ کروڑ سال سے زیادہ لگایا گیا تھا۔
یہ دریافت گجرات کے شہر سورت سے 30 کلومیٹر دور شمال مشرق میں ایک لگنائٹ کان سے ہوئی تھی، اور اس سے اخذ کیا جا سکتا ہے کہ یہ خطہ دنیا کے قدیم ترین ڈیسیڈیئس جنگلات کا گھر ہو سکتا ہے جن میں درختوں کے پتے سالانہ جھڑتے ہیں۔ ساہنی کہتے ہیں کہ ’شائع شدہ نتائج نے اس تصور کو چیلنج کیا ہے کہ انڈیا کبھی بھی ایک الگ تھلگ براعظم تھا۔‘
انڈیا اور پاکستان میں پائی جانے والی ابتدائی وہیل مچھلیاں
ایک اور اہم ارتقائی عمل زمین پر رہنے والے ہرن جیسے ممالیہ جانوروں سے وہیلز کا بننا ہے۔ اور تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ دنیا کی تمام قدیم وہیل مچھلیاں انڈیا اور پاکستان کی سمندری زمینوں کی تہوں پر ہی پیدا ہوئی تھیں۔
جوکار کہتے ہیں کہ ’ہمیں پتہ ہے کہ کچھ کے علاقے اور انڈیا اور پاکستان کے شمالی حصوں میں پائی جانے والی یہ ابتدائی وہیل مچھلیاں کیسی دکھائی دیتی ہیں، لیکن ہم اس بارے میں زیادہ نہیں جانتے کہ ان کے پیش رو کیسے تھے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’ماضی کے ان ٹکڑوں کا مطالعہ کرنے سے ہمیں یہ سمجھنے میں بھی مدد ملتی ہے کہ ہم مستقبل کو کس طرح دیکھتے ہیں اور ہمیں اس ماحولیاتی نقصان کی سطح کا اندازہ لگانے میں بھی مدد ملتی ہے جو ہم کر رہے ہیں۔
مثال کے طور پر، زیادہ تر ماہرین حیاتیات اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ ہماری سپیشیز کا پوری دنیا میں بڑے ممالیہ جانوروں کے ناپید ہونے میں اہم کردار تھا۔ جوکار کہتے ہیں کہ ہم اس بات کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کتنے ماحولیاتی افعال، جیسے بیجوں کو پھیلانا، یا غذائی اجزا کی نقل و حمل، ان (جانوروں کی) معدومیت کے ساتھ ختم ہو چکے ہوں گے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ نئے فوسل ریکارڈز ہمیں یہ سمجھنے میں بھی مدد کر سکتے ہیں کہ انسانوں کے زمین کے لینڈ سکیپ کو تبدیل کرنے سے پہلے زندہ انواع کہاں رہتی تھیں، اور ہم ان معلومات کو مستقبل کے تحفظ یا زمین کے انتظام کے منصوبوں میں شامل کر سکتے ہیں۔
’ہم جانتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے سپیشیز اپنے پسندیدہ ماحول میں منتقل ہوتی ہیں۔ ہم ان معلومات کے استعمال سے پتہ کر سکتے ہیں کہ ماضی میں جانور اور پودے کہاں رہتے تھے اور پیشن گوئی کر سکتے ہیں کہ مستقبل میں موسمیاتی تبدیلی کے منظرناموں میں وہ کہاں جا سکتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہAlamy
نو آبادیاتی ’ورثہ‘
جرمنی کی یونیورسٹی آف ہائیڈلبرگ کے سینٹر فار ٹرانس کلچرل سٹڈیز کی جدید انڈیا پر تحقیق کرنے والی امیلیا بونیے کہتی ہیں کہ شمالی امریکہ جیسے بعض مقامات کو فوسل ہاٹ سپاٹ کے طور پر جانا جاتا ہے کیونکہ وہاں سے اکثر جو ڈائنوسار دریافت ہوئے ہیں ان کی دنیا بھر کے عجائب گھروں کی نمائشوں، ادبی کاموں، فلموں اور حال ہی میں انٹرنیٹ کے ذریعے بڑے پیمانے پر تشہیر کی جاتی ہے۔
’اس کے برعکس، دنیا کے دیگر حصوں میں وہ مقامات جہاں فوسل پائے جاتے ہیں اپنی سائنسی اہمیت کے باوجود، ہمیشہ ان کا ذکر اس طرح نہیں ہوتا۔‘
وہ کہتی ہیں کہ انڈیا کے معاملے میں نظر انداز کیے جانے کی دو اہم وجوہات ہیں۔
بونیے کے مطابق اس میں سے ایک نو آبادیاتی ماضی ہے۔
یہ بھی پڑھیئے
مثال کے طور پر، یہ عام رواج تھا کہ اہم دریافتوں کو واپس یورپ یا شمالی امریکہ بھیج دیا جائے، جہاں ان کا مطالعہ کیا جاتا اور مقامی لوگوں کے بجائے مغربی سائنس کو فائدہ ہوتا۔ ایک حالیہ تحقیق سے پتا چلا ہے کہ گذشتہ 30 سالوں میں بھی، تقریباً 97 فیصد فوسلز کی دریافتوں کو بھی ایک بڑے ڈیٹا بیس میں بنیادی طور پر اعلیٰ یا اعلیٰ متوسط آمدنی والے ممالک میں مقیم مصنفین نے شامل کیا ہے۔
بونیے کے مطابق اس کی دوسری وجوہات نو آبادیاتی ریاست کی اپنے فوسل کے ورثے کی قدر پہچاننے میں ناکامی، عوام میں ان سائنسی مضامین کے مطالعے کی عدم مطابقت اور ساتھ ہی ان کی ترقی کی حمایت کرنے میں ناکامی ہے۔
بونیے کہتی ہیں کہ ’دیکھا جائے تو یہ ایک ستم ظریفی ہے کیونکہ انڈیا کے شہر لکھنؤ میں تحقیق کا ایک ادارہ بیربل ساہنی انسٹیٹیوٹ آف پیلیو سائنسز موجود ہے، جو کافی منفرد ہے۔‘
سنہ 1946 میں اس کے قیام کے وقت یہ دنیا کے ایسے دو اداروں میں سے ایک تھا جو خاص طور پر پیلیوباٹنی کے مطالعے کے لیے وقف تھے، اسی طرح کا دوسرا ادارہ پینسلوینیا سٹیٹ یونیورسٹی کا پیلینولوجیکل لیبارٹریز ہے۔‘
ہم جانتے ہیں کہ لفظ ڈائنوسار کے وضع ہونے سے پہلے بھی سنہ 1824 میں برطانیہ میں قدیم ترین فوسلز ریکارڈ کیے گئے تھے۔ میگالوسارس آکسفورڈ شائر میں پایا گیا تھا اور یہ تقریباً 174 سے 164 ملین سال پہلے درمیانے جوراسک دور کا تھا۔ تاہم، ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ انڈیا میں ڈائنوسار کی پہلی ہڈیوں کی دریافت اس کے کچھ عرصے بعد ہی ہوئی تھی۔
سنہ 1828 میں صرف چار سال بعد ہی ڈبلیو ایچ سلیمین نے وسطی انڈیا کے شہر جبل پور میں دو فوسلز تلاش کیے جنھیں بعد میں ٹائٹانوسارس انڈیکس (ٹائٹینک انڈین چھپکلی) کہا گیا۔ وہ بہت سے ہاتھوں سے گزرتے ہوئے ایک برطانوی شخص کے پاس پہنچے جس نے انھیں ہزاروں دوسرے فوسلز کے ساتھ ڈبوں میں بند کر کے بحری جہازوں پر لاد کر انگلینڈ بھیج دیا۔

،تصویر کا ذریعہAlamy
ولسن کہتے ہیں کہ سنہ 1900 کی دہائی کے اوائل میں برطانوی ماہرین ارضیات انڈیا سے بھرپور طریقے سے اشیا اکٹھی کر رہے تھے۔ ’اس لیے اگر آج آپ کو انڈین ڈائنوساروں کے مکمل مجموعے دیکھنا ہیں، تو آپ کو لندن یا نیویارک جانا پڑے گا۔‘
اس سب کا اثر ہوا ہے، خاص طور پر انڈیا کے بچوں کی اس نسل پر جسے اپنے مقامی ڈائنوسار کے بارے میں بہت کم پتہ ہے۔ ولسن نے جب انڈیا میں کام کرنا شروع کیا تو انھیں اس کا بہت احساس ہوا۔
انھوں نے انڈیا کے عجائب گھروں کے باہر پڑے ٹائرینوسارس ریکس اور ٹرائسریٹوپس کے ماڈل دیکھے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’میں ہمیشہ سوچتا ہوں کہ یہ یہاں کیا کر رہے ہیں؟ اس کے بجائے، ان کے پاس راجا سارس، جینوسارس، رہیولیسارس ہونا چاہیے۔ انڈیا کے بچوں کو انڈیا کے ڈائنوسارز کے متعلق پتہ ہونا چاہیئے۔‘
بیداری پیدا کرنا اس وقت اور مشکل ہو جاتا ہے جب معلومات کو سکول کے نصاب یا نصابی کتابوں میں جگہ نہیں ملتی۔ تاہم، حالیہ برسوں میں زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد، خصوصاً اساتذہ، پوڈ کاسٹرز اور بچوں کی کتابوں کے مصنفین، اس خلا کو پُر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ویشالی شروف کی سنہ 2018 میں شائع ہونے والی کتاب ’دی ایڈوینچر آف پدما اینڈ اے بلیو وہیل‘ (The Adventures of Padma and a Blue Dinosaur) کو بچوں کو اپنی طرف کھینچنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔
انڈین ڈائنوسار کے بارے میں حقیقی تفصیلات بیان کرنے کے لیے افسانے اور فینٹسی کا استعمال کیا گیا اور 2019 میں ماحولیات کے زمرے میں اسے بچوں کی تحریر کا بہترین کا ایوارڈ بھی ملا۔
اس کے بعد سے شروف کئی انڈین شہروں میں سکول کے سینکڑوں بچوں سے ملی ہیں اور انھیں گذشتہ کئی سالوں سے ہندوستانی ڈائنوسار کی مختلف انواع کی اہم دریافتوں کے متعلق بتا رہی ہیں۔
وہ کہتی ہیں ’میں چاہتی تھی کہ بچے ہمارے ملک کے ڈائنوسار کے فوسل کے ورثے سے پیار کریں اور انھیں اس حقیقت سے آگاہ کروں کہ ڈائنوسار کے فوسلز ان کے گھروں کے پچھلے حصے میں بھی مل سکتے ہیں۔‘
چنئی میں مقیم صحافی انوپما چندرا شیکرن کی ’دیسی سٹونز اینڈ بونز‘ (Desi Stones and Bones) انڈیا کے وسیع ڈائنوسار ورثے پر ایک آزاد آڈیو کہانی کا آغاز تھا۔
سنہ 2013 کے بعد سے آٹھ پوڈ کاسٹس کی ایک سیریز میں انھوں نے انڈیا کے فوسلز کے ورثے کے سفر کی کہانی سنائی، جس میں ان مقامی لوگوں اور ماہرین حیاتیات سے انٹرویو کیے جو اس کی حفاظت کے لیے کوشاں ہیں۔
چندرا شیکرن کہتی ہیں کہ ’اگرچہ کئی سالوں سے انڈیا کا ڈائنوسار کا ورثہ بڑی حد تک نظر انداز رہا ہے، میں اس بات سے حیران ہوئی ہوں کہ کچھ مقامی لوگ اس کی حفاظت کے بارے میں کتنے پرجوش ہیں۔‘
وہ سنہ 2018 میں وسطی انڈیا کے کے ایک قصبے مناور کے ایک ہائی سکول میں فزکس کے استاد وشال ورما کے ساتھ ان کے گھر پر ہونے والی ایک ملاقات یاد کرتی ہیں جس نے ان پر گہرا اثر ڈالا تھا۔
ورما کا گھر فوسلز کے کارٹن سے بھرا ہوا تھا۔ انھوں نے چندرا شیکرن کو بتایا کہ کس طرح ڈائنوسار کے ایک فوسل شدہ انڈے کے خول پر چھیدوں کو دیکھ کر آپ بتا سکتے ہیں کہ وہ سبزی خور تھا یا گوشت خور۔ وہ اس بات پر حیران رہ گئیں کہ انڈیا کا مقامی ڈائنوسار کے بارے میں کتنا علم خود ہی حاصل کیا گیا اور اکثر غیر دستاویزی تھا۔

،تصویر کا ذریعہAlamy
بڑی مشکلات اور بڑے چیلنجز
اگرچہ بیداری پیدا ہو رہی ہے لیکن حالیہ برسوں میں ملک بھر میں ڈائنوسار کی اہم سائٹس میں چوری اور توڑ پھوڑ بھی ایک چیلنج ثابت ہوئی ہے۔
ولسن کہتے ہیں کہ یہ صرف انڈیا کا ہی مسئلہ نہیں ہے۔ ’امریکہ میں بھی، اگر آپ کو اپنی زمین پر کوئی فوسل ملے تو آپ اس کے ساتھ جو چاہیں کر سکتے ہیں۔‘
ڈائنوسار کے فوسلز کی حفاظت کرنے والا کوئی قانون نہیں ہے۔ ان کے ساتھ معدنیات کی طرح برتاؤ کیا جاتا ہے۔ اور اس نقطہ نظر کے حوالے سے بہت سارے چیلنجز ہیں۔‘ معدنیات کے برعکس، ڈائناسور کے فوسل کی قدر فوری طور پر ظاہر نہیں ہوتی۔‘
ولسن کہتے ہیں کہ انڈیا میں کان کنی اور دیگر ترقیاتی سرگرمیوں کی وجہ سے بہت بڑے پیمانے پر پیلیونٹولوجیکل ڈیٹا ضائع ہو جاتا ہے۔
بہت سے انڈین ماہرین حیاتیات کے لیے یہ جدوجہد اکثر کہیں زیادہ بنیادی ہوتی ہے، جیسا کہ ہڈیوں کو رکھنے کے لیے جگہ کی کمی۔ ساہنی کہتے ہیں کہ عجائب گھر کے مناسب ڈھانچے کے بغیر، زیادہ تر فوسلز یونیورسٹی کی عمارتوں کی گرد آلود راہداریوں میں پڑے رہتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ راجا سورس کی دریافت بھی اسی طرح ہی ہوئی تھی۔ اس کی ہڈیاں 20 سال پڑی رہیں اور بالآخر انھیں شناخت کیا گیا اور اکٹھا کیا گیا۔
بے ترتیب فنڈنگ بھی منصوبوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ ساہنی کہتے ہیں کہ ’اگر دو منصوبے ہوں جن کے لیے فنڈنگ درکار ہو ۔ ایک زمین سے نکلنے والے پانی کا اور دوسرا حیاتیات کا، تو آپ خود ہی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ترقی پذیر ملک میں کون سا زیادہ معنی رکھتا ہے۔‘
جوکار کہتے ہیں کہ کسی ملک کے جی ڈی پی اور فوسل کی دریافتوں کے درمیان کافی تعلق ہے، اور اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ پیلیونٹولوجی جیسے شعبے کو بہت زیادہ فنڈنگ، سرپرستی، اور فوسل کی تیاری کی لیبارٹریوں اور ذخیرہ کرنے کی سہولیات والے عالمی معیار کے عجائب گھروں کی ضرورت ہوتی ہے، جو ترقی پذیر ممالک کے پاس اکثر نہیں ہوتے۔
ایک اور اہم مسئلہ جو انڈیا کے فوسلز کے مطالعہ میں رکاوٹ ہے وہ سائنسدانوں کے درمیان وسیع تر علاقائی تعاون کی کمی ہے۔ ولسن کہتے ہیں کہ انڈین پیلیونٹولوجی تنہائی میں نہیں رہ سکتی، کیونکہ انڈیا اپنے فوسلز کی دولت کے لحاظ سے پاکستان، میانمار اور بنگلہ دیش سے الگ نہیں ہے۔
یہ تمام ممالک ایک ارضیاتی اکائی ہیں، لیکن سیاست سائنس دانوں کے لیے آزادانہ طور پر سفر اور معلومات کا تبادلہ مشکل بنا سکتی ہے۔ ’لیکن مزید سیکھنے کے لیے ایسا کرنے کے قابل ہونا واقعی ایک اہم قدم ہے۔‘








