اسلام آباد میں پلاسٹک کی سڑک: پلاسٹک ایک مثالی تعمیراتی میٹیریل کیوں ہے؟

،تصویر کا ذریعہCDA
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں حال ہی میں ضائع ہونے والے پلاسٹک کا استعمال کرتے ہوئے ملک کی پہلی 'پلاسٹک سڑک' بنائی گئی ہے۔ شہر کی معروف شارعِ اتاترک پر ایک کلومیٹر طویل پلاسٹک کا ٹکڑا دو کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا ہے۔
پاکستان میں سالانہ 55 ارب پلاسٹک تھیلے تیار کیے جاتے ہیں جن میں سے اکثریت لینڈ فل مقامات پر چلے جاتے ہیں اور ملک میں آلودگی میں شدید اضافہ کا باعث بنتے ہیں۔
حکومتِ پاکستان کا اندازہ ہے کہ ملک میں روزانہ 87 ہزار ٹن ٹھوس کچرہ یعنی سالڈ ویسٹ پیدا ہوتا ہے اور پاکستان کے بڑے شہروں میں یہ آلودگی کا بہت بڑا سبب ہیں۔
پلاسٹک کو کارآمد بنانے اور پلاسٹک کی بڑھتی ہوئی آلودگی کو قابو کرنے کے لیے کئی ماہرین کا خیال ہے کہ اس کا ایک بہتر طریقہ اس کا تعمیراتی صنعت میں استعمال ہے۔
اسی تناظر میں قارئین کے لیے سیبیل کیستاری کی یہ تحریر پیش کی جا رہی ہے جو بی بی سی فیوچر پر شائع ہوئی۔

ضائع کر دیا گیا پلاسٹک ایک بہت بڑا اور واضح عالمی مسئلہ ہے۔ یہ بلند ترین پہاڑوں سے لے کر سمندر کی گہرائیوں تک پایا جاتا ہے، چنانچہ اس سے فرار ناممکن نظر آتا ہے۔
قدرتی حالات کے ذریعے پلاسٹک کا ختم ہونا تقریباً ناممکن ہے مگر پھر بھی دنیا بھر میں بڑی تعداد میں اسے پھینک دیا جاتا ہے۔ دنیا ہر سال 35 کروڑ 90 لاکھ ٹن کے قریب پلاسٹک پیدا کرتی ہے۔ ہمارا ماحول اتنی تیزی سے پلاسٹک پھینکے جانے سے نہیں نمٹ سکتا کہ انسانوں کو نقصان پہنچنے سے روکا جا سکے۔
چنانچہ اب اتفاقِ رائے پیدا ہو چکا ہے کہ پلاسٹک ماحول دوست مٹیریل نہیں ہے اور ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ لیکن اس مسئلہ کو حل کرنا بھی ممکن ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مسئلہ پلاسٹک نہیں بلکہ ہمارے اقتصادی ماڈل کا ہے جس میں چیزیں تیار کی جاتی ہیں اور استعمال کرنے کے بعد پھینک دی جاتی ہیں۔ اس ماڈل کا تصور لامحدود اقتصادی ترقی پر ہے اور یہ ہمارے کرّہ ارض کے ختم ہوتے وسائل پر توجہ نہیں دیتا۔
پلاسٹک کو بہت سے مختلف طریقوں سے استعمال کیا جا سکتا ہے جن میں سے ایک پر میں کام کرتی رہی ہوں اور وہ یہ ہے کہ غیر استعمال شدہ پلاسٹک کو تعمیرات میں استعمال ہونے والی سخت، کابل بھروسہ اور پائیدار اشیا میں ڈھالا جا سکے۔
بہت سے لوگ اس پر یقین رکھتے ہیں کہ پلاسٹک کو ری سائیکل کرنا یعنی استعمال کے قابل بنانا ممنوع ہےاور بہت ہی کم اقسام ایسی ہیں جن کو ری سائیکل کیا جا سکتا ہے۔ یہ حیران کن نہیں ہے۔ پلاسٹک کی جتنی مقدار کو ری سائیکل کیا جاتا ہے وہ بہت ہی کم ہے۔
برطانیہ میں ہر سال پانچ ملین ٹن پلاسٹک استعمال ہوتا ہے۔ اور اس میں سے فقط تین لاکھ ستر ہزار ٹین کو دوبارہ ری سائیکل کیا جاتا ہے یعنی کل میں سے فقط 17 فیصد استعمال ہوتا ہے۔
لیکن پلاسٹک اور اس جیسی دوسری اشیا جیسے نائیلون، پولییسٹر وغیرہ 100 فیصد ری سائیکل کیے جا سکتے ہیں۔ یہ بار بار ایک جیسی اشیا کو بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کچھ پلاسٹک دوبارہ استعمال کیے جا سکتے ہیں جیسے آپ ایک چیز کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیں اسے پگھلا دیں اور دوبارہ استعمال کریں۔

،تصویر کا ذریعہSibele Cestari
ایسے ری سائیکل کی نئے تیار ہونے والے پلاسٹک کی نسبت کم مکینیکل خصوصیات ہوں کیونکہ جب بھی آپ پلاسٹک کو پگھلاتے ہیں اور اس کو کسی عمل سے گزارتے ہیں تو اس کے اندر موجود بڑے مالیکیول یا پولیمیریک چینز کم ہوتی جاتی ہیں۔ لیکن پھر اس کی یہ خاصیت تب پھر سے بحال ہو جاتی ہے جب ہم اس میں نئے پلاسٹک کو بھی شامل کرتے ہیں۔
صنعتوں میں اس کی ایک مثال پی ای ٹی، یا پولی، ایتھیلین تھیریفٹیلیٹ شامل ہے جو سافٹ ڈرنک کی بوتلوں کو بنانے کے لیے استعمال ہوتی ہے اور پولی سٹائرین۔
باقی تمام کو تکنیکی طور پر دوبارہ سے پروسیس کیا جا سکتا ہے اور نئے کاموں کے لیے نئے مٹیرئیل میں ڈھالا جا سکتا ہے۔ مثلاً کسی بھی فالتو پلاسٹک کو ٹکرے ٹکرے کر کے ایسفالٹ میں فلر کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے یا گرم کر کے ایندھن میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
جاپانی کمپنی بلیسٹ کارپوریشن ایک ایسی مشین بیچ رہی ہے جو گھریلو سطح پر استعمال ہونے والے پلاسٹک کے کچرے کو ایندھن میں آسانی سے تبدیل کر سکتی ہے۔
باقی سب کو تکنیکی طور پر مختلف ایپلی کیشنز کے لیے نئے مواد میں دوبارہ پروسیس کیا جا سکتا ہے۔ آخری مثال میں، کسی بھی پلاسٹک کے کچرے کو کاٹ کر اسفالٹ کے لیے فلر کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے، یا ایندھن پیدا کرنے کے لیے پائرولائز کیا جا سکتا ہے۔ ہیٹنگ کے ذریعے گلایا جاتا ہے۔
جاپانی کمپنی بلیسٹ کارپوریشن پہلے ہی ایک پورٹ ایبل مشین فروخت کر رہی ہے تاکہ گھریلو پلاسٹک کے فضلے کو ایک سادہ، سستی طریقے سے ایندھن میں تبدیل کیا جا سکے۔
یہاں مسئلہ یہ ہے کہ اس فالتو پلاسٹک کو اس وقت ری سائیکل کرنا ممکن نہیں اور منافع بخش بھی نہیں۔ پولیمرز جیسا کہ ربڑ، تھرموسیٹس اور ایسا کچرا جس میں پلاسٹک بھی شامل ہو پر ری سائیکل کرنے والے سیکٹرز کی جانب سے آرام سے یہ لکھ دیا جاتا ہے کہ یہ دوبارہ قابل استعمال نہیں بنایا جا سکتا۔
لیکن پلاسٹک کی اشیا دنیا بھر میں خطرناک حد تک بڑھ رہی ہیں۔ کیا ہو کہ اگر یہ فالتو پلاسٹک اس سماج کے لیے کچھ کارآمد چیز بنا سکے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بہت سی یونیورسٹیاں اور کاروبار شروع کرنے والا ایسا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بہت سے اصل سے مختلف ایپلی کیشنز کو استعمال کرتے ہیں اور پلاسٹک کے مکس کچرے کو نشانہ بناتے ہیں۔ مثال کے طور بہت سے گروہوں نے تعمیراتی مٹیرئیل تیار کیا ہے جو پلاسٹک کے کچرے سے بنایا گیا ہے۔
پلاسٹک مضبوط ہوتا ہے، پانی میں حل نہیں ہوتا، وزن میں ہلکا ہوتا ہے اسے کسی بھی شکل میں باآسانی ڈھالا جا سکتا ہے دوبارہ استعمال کیا جا سکتا ہے اس میں وہ تمام خصوصیات ہیں جو تعمیراتی مواد میں ہونی چاہیے۔ اس لیے کیا ہے کہ اگر کم آمدن والی آبادیوں کے لیے فالتو پلاسٹک کو تعمیراتی اشیا میں تبدیل کیا جائے؟
اس وقت اٹھائے جانے والے اقدامات قابل امید ہیں مگر ابھی یہ اسے صنعتی پیمانے پر پھر سے بنانے کے قابل نہیں ہے۔
میں پلاسٹک کے کچرے پر تحقیق کرتی ہوں اور وہ اس مقصد کے ساتھ کہ اسے ماحول سے نکالنے کے دلچسپ طریقے جان سکوں۔
سنہ 2009 سے اب تک میں نے بہت سے تعمیراتی اشیا کو تیار کیا ہے اور استعمال شدہ پلاسٹک کو ندی میں موجود فضلوں سے مل کر بنایا ہے۔
زرعی سطح پر موجود فالتو مواد مثلا گنے کا بچا ہوا مواد، یہ برازیل میں شوگر انڈسٹری کا بائی پراڈکٹ ہے۔
اسی طرح بچی ہوئی کافی، تعمیرات میں بچا ہوا مٹیرئیل ، اس سب کو ری سائیکل شدہ پلاسٹک کے ساتھ ملایا جاتا ہے۔
اس طرح بہت سے طریقے ہوتے ہیں جن سے مٹیرئیل مل سکتا ہے تاکہ اینٹیں بنائی جا سکیں، چھٹ کی ٹائلیں بنائی جا سکیں، اور لکڑی کی مانند پلاسٹک کا استعمال اور دیگر ضروری تعمیراتی اشیا بنائی جا سکتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہ Sibele Cestari
ابھی ہم کوشش کر رہے ہیں کہ مختلف مٹیرئیل کی پراپرٹیز کو روٹومولڈنگ کے عمل میں ایڈجسٹ کر سکیں۔ یہ پلاسٹک کو بڑی بڑی کھوکھلی اشیا کے لیے سانچے میں ڈھالنے کے لیے استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی ہے۔
ہم چاہتے ہیں کہ ہم اس بلاک میں زیادہ سے زیادہ ری سائیکل پلاسٹکس کو استعمال کریں۔ مکینیکل ٹیسٹوں میں بہت ہی اچھا کام کرتے ہیں۔ آگے ہم کوشش کریں گے کہ 50 فیصد، 75 فیصد اور 100 فیصد ہو۔
ہم بلاکس کی خوبصورتی کے بارے میں بھی سوچ رہے ہیں۔ ری سائیکل شدہ مختلف رنگوں کے پلاسٹک عموماً سرمئی یا پھر سیاہ رنگ کے نکلتے ہیں۔ رنگوں کو موجود رکھنے کے لیے ہم ایسے ری سائیکل پلاسٹک کے مرکب تیار کر رہے ہیں تاکہ بلاک کے مرکزی حصے کا احاطہ کر سکے۔
مزید پڑھیے
تو پھر شاید پلاسٹک ضروری نہیں کہ مسئلہ ہو۔ یہ پائیدار طرز زندگی کی جانب راستے کا ایک حصہ ہو سکتا ہے۔ ضروری نہیں کہ آپ قدرتی یا دوبارہ قابل استعمال ذرائع کو استعمال کریں تو وہ ماحول دوست بھی ہو۔ پولیمیرک مواد کا ماحولیاتی نقشہ قدرتی مواد سے چھوٹا ہوتا ہے، جس کی قابل کاشت زمین، صاف پانی، کھاد اور تخلیق نو کے وقت پر کافی مانگ ہوتی ہے۔
گلوبل فٹ پرنٹ نیٹ ورک کے مطابق کورونا وائرس سے پہلے ہم میسر سہولت سے ایک اعشارہ سات پانچ گنا مانگ رہے تھے۔ غیر ری سائیکل شدہ فضلات پر کام کرنے اور پلاسٹک کے متبادل قدرتی ذرائع کا استعمال شاید اس مانگ کو کم کے اور ہم اپنی اگلی نسل کے لیے زیادہ صاف اور پائیدار سیارہ چھوڑ کر جائیں۔

،تصویر کا ذریعہSibele Cestari
وہ تمعیراتی مواد جو کہ ری سائیکل پلاسٹک سے بنے ہوتے ہیں ابھی کنسٹرکشن انڈسٹری میں بہت بڑے پیمانے پر استعمال نہیں ہو رہے۔ اس کے ابتدائی نمونے ابھی تنصیبات پر نمائشی طور پر لگائے جاتے ہیں۔ ابھی پلاسٹک کو دوبارہ استعمال میں لانے کے لیے سیاسی طور پر عزم اور بڑے پیمانے پر اس ماحولیات کے حوالے سے بیداری کی ضرورت ہے۔
مگر امید ہے کہ پلاسٹک سے پھیلنے والی آلودگی پر عوامی رائے کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے نتیجے میں اس لہر کا رخ مڑنا شروع ہو گیا ہے۔
سرکولر اکانومی کے خیال کےساتھ صنعت اور حکومت کے مصروف ہونے کا شکریہ۔ اس سے لگتا ہے کہ یہ مارکیٹ اور لوگوں کے ذہنوں میں پلاسٹک کے اقدامات کو روایتی تعمیراتی مواد کی جگہ لینے ک اآغاز ہے۔












