ارتقا اور معدومیت: اگر انسانوں کی دوسری انواع بھی ہمارے گرد موجود ہوتیں۔۔۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, نکولس آر لونگریچ
- عہدہ, لیکچرر، باتھ یونیورسٹی
ہمیں معلوم ہے کہ ماضی بعید میں انسانوں جیسی دیگر مخلوقات موجود تھیں، جیسے آسٹرالوپائیتھکس (دو ٹانگوں والے اِس نام کی نسل میں سے کوئی بندر) اور نیندرتھال (پتھر کے زمانے کا انسان)۔ تو اگر یہ انواع معدوم نہ ہوئی ہوتیں تو کیا ہمارے جیسے انسانوں کی نسل آج موجود ہوتی؟
یہ سکاٹ لینڈ کے 26 برس کے اینتھونی اے میک آئیزک کا سوال ہے:
ہمیں ارتقائی سائنس سے معلوم ہے کہ انسان کسی نہ کسی شکل میں تقریباً بیس لاکھ برس یا اُس سے بھی زیادہ عرصے سے موجود ہے۔ دو ٹانگوں پر کھڑے ہونے والے انسان دیگر نسلِ انسانی کے گروہوں کی نسبت زیادہ نئی مخلوق ہے۔
بہت سی دوسری انسانی قسمیں بھی تھیں، جن میں سے کچھ آپس میں گھل مل جانے کی وجہ سے ایک ہوگئیں۔ اس ارتقا کے نظریے کی صورت میں یہ سوال پھر ناگزیر ہو گیا ہے کہ ارتقا کی اس طویل کہانی میں ہمارا (یعنی انسان کا) شخصی وجود کب ظہور میں آتا ہے؟ کیا چمپینزی انسانوں کی طرح کے لوگ ہیں؟ کیا ہم آسٹریلوپیتھیسائنز کے بعد کی زندگی ہیں؟
ہم حقوق اور مذہب کے بارے میں کیسے سوچتے ہیں۔ اس کے کیا اثرات و مضمرات ہیں؟
(آسٹریلوپیتھیسائنز سے مراد ابتدائی حیوانوں کے فوسلز یا محجرات ہیں جو افریقہ میں پائے گئے ہیں۔ اندازہ ہے کہ یہ 50 لاکھ سے ایک کروڑ برس قدیم ہیں۔ یہ ابتدائی حیوان سیدھے ہو کر چلتے تھے اور ان کے دانت تھے۔)
ہماری افسانوی کہانیوں میں اکثر ایک ایسے وقت کا ذکر آتا ہے جب ہم اپنے ارتقائی سفر کے دوران 'انسان' بن جاتے ہیں۔ حوّا نے علم کے درخت کا پھل توڑا اور اچھائی اور برائی کا شعور حاصل کیا۔ یونانی دیو مالائی کہانیوں کے خدا پرومیتھیوز نے انسانوں کو مٹی سے تشکیل دیا اور پھر آگ میں ڈال کر ان میں جان پیدا کردی۔ لیکن نسلِ انسانی کے آغاز کی جدید کہانی، یعنی ارتقا کی کہانی میں، تخلیق کا کوئی متعین وقت نہیں ہے۔ اس کے بجائے انسان آہستہ آہستہ، نسل در نسل، اپنے سے پہلی انواع سے پیدا ہوئے ہیں۔
کسی بھی دوسری پیچیدہ قسم کی نوع کے حالات سے موافقت پیدا کرنے کے عمل کی طرح۔۔ پرندوں کے پر، وہیل کا پھونکنا، ہماری اپنی انگلیاں ۔۔ نوعِ انسان قدم بہ قدم لاکھوں برسوں میں ترقی کرتی گئی۔ یہ تغیرات ہمارے ڈی این اے میں نمودار ہوئے، آبادی میں پھیل گئے، اور ہمارے آباؤ اجداد اس ارتقائی سفر میں آہستہ آہستہ ہمارے جیسے کچھ بن گئے اور آخر کار یہ نوع ہمارے جیسی نوعِ انسانی بن کر ابھری۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لوگ جانور ہیں، لیکن ہم ان دیگر جانوروں کے برعکس ہیں۔
ہمارے پاس پیچیدہ زبانیں ہیں جو ہمیں خیالات کو بیان کرنے اور بات چیت کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ ہم تخلیقی ہیں، ہم فن اور موسیقی کو سمجھتے ہیں، ہم اوزار بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہمارے تخیلات ہمیں ان دنیاؤں کے بارے میں سوچنے کا موقع دیتے ہیں جو کبھی ایک بار موجود تھے، ہم ایسی دنیاؤں کا خواب دیکھتے ہیں جو ابھی تک موجود ہیں، اور ان خیالات کے مطابق بیرونی دنیا کو دوبارہ ترتیب دیتے ہیں۔
ہماری سماجی زندگیاں خاندانوں، دوستوں اور قبائل کے پیچیدہ مربوط سلسلے (نیٹ ورک) میں بُنی ہوئی ہیں، جو ایک دوسرے کے تئیں ذمہ داری کے احساس سے جڑے ہوئے ہیں۔ ہمیں اپنے بارے میں اور اپنی کائنات کے بارے میں بھی آگاہی ہے، احساس، ذہانت، شعور، آپ اس فہم کا جو بھی نام رکھنا چاہیں یا اسے آپ جو بھی کہنا چاہیں کہیں۔
اور پھر بھی ہمارے اپنے اور دوسرے جانوروں کے درمیان جو فرق یا امتیاز بیان کیا جاتا ہے وہ مصنوعی نوعیت کا ہے۔ جانور ہمارے خیالات سے کہیں زیادہ انسانوں سے ملتے جلتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہMarcin Rogozinski/Alamy
یہ نظریہ خاص طور پر بڑے بن مانسوں کے بارے میں سچ ہے۔
مثال کے طور پر چمپینزی ایک دوسرے کے ساتھ ایک سادہ اشاراتی اور زبانی رابطہ رکھتے ہیں۔ وہ خام اوزار بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہاں تک کہ ہتھیار بھی بناتے ہیں، اور مختلف گروہوں کے پاس مختلف اوزار ہوتے ہیں۔ ان کی الگ الگ ثقافتیں ہوتی ہیں۔ چمپینزی پیچیدہ سماجی زندگی بھی رکھتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون بھی کرتے ہیں۔
جیسا کہ معروف سائنسدان چارلس ڈارون نے 'انسان کا ارتقا' (دی ڈیسنٹ آف مین) میں نوٹ کیا ہے کہ 'موجودہ انسان' (ہومو سیپیئنز) میں قدیم انسان کے دور کی خصوصیات ۔۔ جذبات، ادراک، زبان، اوزار، معاشرہ وغیرہ یہ کسی نہ کسی سطح کی دیگر جانوروں میں بھی موجود ہیں۔۔ پھر بھی ہم مختلف ہیں، لیکن ہمارا یہ مخلتف ہونا ہمارے اپنے خیال کی نسبت کہیں کم ہے۔
ماضی میں کچھ انواع دوسرے بن مانسوں سے کہیں زیادہ ہمارے جیسی تھیں ۔۔ آرڈی پیتھیکس، آسٹریلوپیتھیکس، ہومو ایریکٹس اور نیندرتھال۔ انسانوں اور انسان نما بن مانسوں کے متنوع گروہوں کی واحد زندہ بچ جانے والی نوع ہومو سیپیئنز ہیں، جنھیں اجتماعی طور پر ہومینینز کہا جاتا ہے۔
یہ ایک ایسا گروہ ہے جس میں تقریباً 20 معلوم اقسام اور شاید درجنوں ابھی تک نامعلوم انواع شامل ہیں۔
تاہم دوسرے ہومینینز کی معدومیت نے ایک وسیع اور پُر نہ ہونے والے خلا کا تاثر پیدا کیا جو ہمارے جیسی انواع کو زمین پر باقی زندگیوں کی اقسام سے ممتاز اور الگ کرتی ہے۔ لیکن اگر ان انواع کا وجود باقی رہتا تو ہماری انواع اور زندگیوں کی دیگر اقسام میں بہت کم واضح فرق قائم رہتا۔ اس وقت انسان اور حیوان کے درمیان جو ایک واضح اور ممتاز کرنے والی تقسیم کی لکیر دکھائی دیتی ہے وہ دراصل معدومیت کی باقیات کا ایک نمونہ ہے۔
ان ناپید ہوجانے والی انواع کی دریافت اب اس لکیر کو دوبارہ دھندلا کر رہی ہے اور ظاہر کرتی ہے کہ ہمارے اور دوسرے جانوروں کے درمیان اس فاصلے کو ۔۔ آہستہ آہستہ، ہزاروں برسوں میں ۔۔ ہم نے کس طرح عبور کیا۔
ہمارا نسب شاید 60 لاکھ سال پہلے چمپینزی سے الگ ہو گیا تھا۔ تاہم یہ پہلے ہومینینز، یعنی نسلِ انسانی کے آغاز کے افراد، مشکل ہی سے جدید دور کے انسان دکھتے تھے۔ پہلے چند لاکھ برسوں میں ہومینینز کا ارتقا سست رفتاری سے ہوا تھا۔
اس نوع میں پہلی بڑی تبدیلی اس کا سیدھے کھڑے ہوکر دو قدموں پر چلنے کا آغاز تھا، جس نے ہومینینز کو جنگلوں سے زیادہ کھلے گھاس کے میدان اور جھاڑیوں میں جانے کی صلاحیت دی۔
لیکن اگر وہ ہماری طرح چلتے ہیں تو کوئی اور چیز نہیں بتاتی کہ پہلے ہومینینز چمپینزیوں یا گوریلوں کی نسبت زیادہ انسان بن گئے تھے۔ چالیس لاکھ سال قبل وجود رکھنے والی 'آرڈی پتھیکس' (Ardipithecus) کہلانے والی نوعِ انسانی کی ایک نسل، ابتدائی طور پر مشہور ہومینینز، ایک دماغ رکھتی تھی جو چمپینزی کے دماغ سے تھوڑا سے چھوٹا تھا، اور اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ یہ نوع اوزار استعمال کرتی تھی یا نہیں۔
اِس سے اگلے لاکھوں برسوں میں، آسٹریلوپیتھیکس نمودار ہوا (آسٹریلوپیتھیک دو ٹانگوں والے اِس نام کی نسل ميں سے کوئی بندر جو اب ناپيد ہے)۔ آسٹریلوپیتھیکس کا دماغ قدرے بڑا تھا، بن مانس سے بڑا، لیکن پھر بھی گوریلا کے دماغ کے سائز سے چھوٹا۔ اس نے بن مانسوں کے مقابلے میں قدرے زیادہ جدید آلات بنائے، تیز پتھروں جیسے اوزار بنائے، جنھیں جانوروں کے شکار کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
پھر انسان نما مخلوق، 'ہومو ہابیلیس' (Homo habilis) وجود میں آئی۔ پہلی بار نوعِ انسانی کے ارتقا کے دوران ابتدائی قسم کا انسان، 'ہومینین' (hominin) کے دماغ کا سائز دوسرے بندروں سے کئی گنا بڑا تھا۔ پتھروں کے ابتدائی دور کے اوزار اسی دور میں بنائے گئے تھے۔ یہ عمل مزید پیچیدہ ہوتا گیا۔
اس کے بعد انسانی ارتقا میں تیزی آئی، لیکن اس تیزی کے اسباب کا تاحال علم نہیں ہے۔
انسانی ارتقا کے اس مقام پر انسان نما اولین باسی 'ہومو ایریکٹس' (Homo erectus) نمودار ہوا۔ ایریکٹس طویل قامت تھا، قد میں ہماری طرح، اور یہ بڑے دماغ والے ہوتے تھے، ان کا دماغ چمپینزی کے دماغ سے کئی گنا بڑا ہوتا تھا، اور ہمارے دماغ کے سائز کا دو تہائی ہوتا تھا۔
تاہم اس دور کے ابتدائی سطح کا انسان پتھر کے اوزار، پتھر کے ہتھوڑے، بنا لیتا تھا۔
پتھر کے ہتھوڑے بنانے کا کام ایک پیچیدہ عمل تھا جس کے لیے ہنر سیکھنے اور منصوبہ بندی کی ضرورت ہوتی تھی۔ اس کے بعد، آج سے تقریباً 20 لاکھ سال پہلے، انسان کے ارتقا کی رفتار تیز ہوئی، شاید اس کی وجہ 'میٹا ٹول' کا استعمال ہو جو دیگر اوزاروں کو بنانے کے کام آتا تھا، مثال کے طور پر نیزے، بھالے یا کھدائی کے اوزار بنانے کے لیے استعمال ہونے والا کوئی اوزار۔
گوشت خوری کی طرف سفر
ہماری طرح کے 'ہومو ایرکٹس' (Homo erectus) کے چھوٹے دانت ہوتے تھے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ انسان کی اس نسل نے پودوں پر مبنی غذا سے گوشت کھانے کی طرف کا سفر شروع کردیا ہو، شاید یہ گوشت شکار سے حاصل کیا جاتا ہو۔ لگتا ہے کہ ارتقا کے اس دور میں انسانی ارتقا کا سفر تیز رفتار سے ہونا شروع ہو گیا ہے۔
بڑے دماغ والے ایرکٹس نے جلد ہی بڑے دماغ والی انواع کو بھی جنم دیا۔
یہ انتہائی ذہین (hominins) افریقہ اور یوریشیا سے نیندرتھالز، ڈینیسوونز، ہومو روڈشیئنسِس اور قدیم ہومو سیپیئنز کی صورت میں ارتقا کرتے ہوئے دنیا کے مختلف حصوں میں پھیلتے ہیں۔ ٹیکنالوجی کہیں زیادہ ترقی یافتہ ہو گئی۔ پتھر سے بنے ہوئے نیزے اور آتشیں اوزار بنانے کا ہنر بھی ظاہر ہوا۔
کوئی واضح کام نہ کرنے والی اشیا، جیسے زیورات اور آرٹ بھی پچھلے پانچ لاکھ سالوں میں ظاہر ہوئے ہیں۔
ان میں سے کچھ انواع کے ڈھانچوں اور ان کے ڈی این اے کی ہم سے اتنی مماثلت نظر آئی ہے جو ہمارے لیے بہت ہی باعثِ حیرت ہے۔
ہومو نیندرتھیلنسِس، نیندرتھالز، دماغ کے سائز کے لحاظ سے ہمارے قریب آرہے تھے، اور وقت کے ساتھ ساتھ اس سے بھی بڑے دماغ پیدا ہونا شروع ہوگئے، یہاں تک کہ آخری نیندرتھالز میں جدید انسانوں کے مقابلے میں دماغی صلاحیتیں بہتر ہونا شروع ہوگئیں۔ انھوں نے شاید اپنے بارے میں سوچنا شروع کردیا ہوگا، یہاں تک کہ اپنے آپ کو بطور انسان بھی کہتے ہوں یا سمجھتے ہوں۔
قدیم نیندرتھال کا ریکارڈ اس میں منفرد طور پر انسانی رویہ پیدا ہوتا ہوا ظاہر کرتا ہے، جو ہم سے مشابہ ذہن کا اشارہ دیتا ہے۔
نیندرتھالز ہنر مند، شکار کے مختلف انداز جاننے والے شکاری تھے، خرگوش سے لے کر گینڈے اور اون والی دیو ہیکل جانوروں تک کا شکار کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ انھوں نے جدید ترین اوزار بنائے، جیسے پتھر کے نوک دار نیزے۔
انھوں نے ہڈی کے خولوں، جانوروں کے دانتوں اور عقاب کے پنجوں سے زیورات تیار کیے، اور غاروں میں بننے والے فن کا آغاز بھی اسی دور میں ہوا۔ اور نیندرتھال کے کان، ہماری طرح، تقریر کی باریکیوں کو سننے کی صلاحیت حاصل کرچکے تھے۔ ہم جانتے ہیں کہ انھوں نے اپنے مُردوں کو دفن کرنا سیکھ لیا تھا اور شاید اپنے مرنے والوں کا ماتم کرتے تھے یا ان کا سوگ بھی مناتے تھے۔
نیندرتھالز کے بارے میں بہت کچھ ہے جو ہم نہیں جانتے ہیں، اور شاید کبھی جان بھی نہیں سکیں گے۔ لیکن اگر وہ اپنے ڈھانچوں اور طرز عمل میں ہماری طرح کے تھے تو یہ اندازہ لگانا مناسب ہوگا کہ وہ دوسرے طریقوں کے لحاظ سے بھی ہماری طرح ہی ہو سکتے ہیں، وہ طریقے جن کا بعد میں کوئی نشان باقی نہیں رہتا ہے ۔۔ یعنی یہ کہ انھوں نے گیت گائے، اور رقص کیا، اور یہ کہ وہ روحوں سے خوفزدہ تھے اور دیوتاؤں کی عبادت کرتے تھے۔ انھوں نے ستاروں پر حیرت کے ساتھ غور و فکر کیا، کہانیاں سنائیں، دوستوں کے ساتھ ہنسی مذاق کیا، اور اپنے بچوں سے پیار کیا۔
جس حد تک نیندرتھالز ہماری طرح تھے، وہ ضرور بڑی مہربانی اور ہمدردی کے کام کرنے کے قابل تھے، بلکہ ساتھ ساتھ ظالمانہ جذبہ بھی رکھتے ہوں گے، تشدد بھی کرتے ہوں گے اور ایک دوسرے کو دھوکہ دینے کی صلاحیت بھی رکھتے ہوں گے۔

،تصویر کا ذریعہJoe McNally/Getty Images
ہم دیگر انواع کے بارے میں بہت کم معلومات رکھتے ہیں، جیسے ڈینیسوونز، ہومو روڈیشینسِس، اور ناپید سیپینز کے بارے میں ہماری معلومات نہ ہونے کے برابر ہیں، لیکن ان کے بڑے دماغوں اور انسانوں کی کھوپڑیوں سے اندازہ لگانا مناسب ہے کہ وہ بھی بہت حد تک ہمارے جیسے تھے۔
میں تسلیم کرتا ہوں کہ ایک تفصیل بتانے کے لیے یہ کہنا قیاس آرائی لگتی ہے۔ نیندرتھالز، ڈینیسووان اور دیگر ہومینینز کا ڈی این اے ہم میں پایا جاتا ہے۔ ہمارا یعنی انسان کا ان سے رابطہ رہا ہے، اور ہم نے ایک دوسرے سے میل ملاپ سے اپنے بچے پیدا کیے ہیں۔ انہی کی طرح پالے ہیں۔ یہ باتیں ظاہر کرتی ہیں کہ وہ کتنے زیادہ انسانوں جیسے تھے۔
یہ ناممکن نہیں ہے کہ ہومو سیپیئنز نے نیندرتھالز عورتوں کو اپنا غلام بنایا ہو، یا اس کے برعکس ہوا ہو۔
لیکن نیندرتھالز کا جین ہماری نسلوں میں داخل ہونے کے لیے ہم نے نہ صرف ان کے ساتھ مباشرت کی ہو بلکہ کامیابی سے بچوں کی پرورش بھی کرنا پڑی ہو، اور انہی بچوں نے بڑے ہو کر اپنے بچے پیدا کیے اور پالے ہوں۔ ایسا ہونے کا زیادہ امکان ہے اگر یہ جوڑے رضاکارانہ طور پر باہمی شادی کے نتیجے میں بنے ہوں۔ جینوں کی آمیزش کے لیے ان کی ہائبرڈ اولاد کو بھی ان کے گروہوں میں قبول کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
یہ دلائل نہ صرف نیندرتھالز کے لیے ہیں، بلکہ میں تو یہ بھی کہوں گا کہ یہ دیگر انواع کے لیے بھی صادق آسکتے ہیں جن میں ہم نے مداخلت کی تھی، جن میں ڈینیسووان، اور افریقہ میں نامعلوم ہومینینز بھی شامل ہیں۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہماری انواع کے مختلف قدیم انسانوں کے مابین تصادم بغیر کسی تعصب کے، یا مکمل طور پر پرامن ہوا ہوگا۔
یہ بات قابل فہم ہے کہ ہماری اپنی انواع ان قدیم لوگوں کے ناپید ہونے کی ذمہ دار ہو سکتی ہیں۔ لیکن ایسے حالات ضرور پیش آئے ہوں گے جب ہم نے مشترکہ انسانی اقدار ڈھونڈنے کے لیے اپنے ماضی کے اختلافات کو بھلا دیا ہو۔
آخر میں، یہ بات کسی المیہ کی طرح محسوس ہوتی ہے کہ جب ہم نے ان دوسرے 'ہومینینز' (hominins) کی جگہ لی ہوگی، تو اس میں ایک وقت لگا ہوگا۔ نیندرتھالز، ڈینیسوونز اور دیگر انواع کے معدوم ہونے میں لاکھوں سال لگے۔ اگر نیندرتھالز اور ڈینیسوونز واقعی بے وقوف تھے، گھٹیا درندے تھے، ان میں زبان کی کمی تھی یا پیچیدہ سوچ سوچنے کے قابل نہ تھے تو یہ ناممکن ہے کہ وہ اپنے سے جدید دور کے انسانوں کو اپنی صلاحیت کے لحاظ سے کامیابی سے روک سکتے۔
کیوں کہ اگر وہ ہمارے جیسے تھے تو کیا ہم نے ان کی جگہ لے لی؟
یہ واضح نہیں ہے، جس سے پتا چلتا ہے کہ فرق کچھ اس قسم کا تھا جس نے فوسلز یا پتھر کے اوزار میں واضح نقوش نہیں چھوڑے۔ شاید تخلیقی صلاحیتوں کی چنگاری ۔۔ الفاظ کا ایک طریقہ، ٹولز کی مہارت، سماجی مہارت ۔۔ نے ہمیں ان پر ایک قسم کی برتری دے دی ہو۔ بہرحال جو بھی فرق تھا، یہ نازک سا فرق تھا، یا ایسا تھا کہ ہمیں ان پر فتح پانے میں زیادہ وقت نہیں لگا۔
انسان کیسے ترقی کرتا ہے؟
اب تک میں نے ایک اہم سوال کا جواب نہیں دیا ہے، اور بلاشبہ یہ سب سے اہم سوال ہے۔ یہ بہت اچھا ہے اور اس پر بحث کرنا بھی بہت اچھا ہے کہ انسان کیسے ترقی کرتا ہے۔ لیکن اس سے پہلے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ انسان کیا ہے؟ ہم اس کی وضاحت کیے بغیر اس کا مطالعہ کیسے کر سکتے ہیں اور اس کی شناخت کیسے ہو سکتی ہے؟
لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ کوئی ایسی خاص بات ہے جو ہمیں دوسرے جانوروں سے بنیادی طور پر مختلف یا ممتاز بناتی ہے۔
مثال کے طور پر زیادہ تر لوگ یہ سوچتے ہیں کہ گائے کو بیچنا، پکانا یا کھانا ٹھیک ہے، لیکن قصائی کے ساتھ ایسا کرنا درست نہیں۔ ایسا کرنا غیر انسانی ہو گا۔
بحیثیت معاشرہ ہم چمپینزیوں اور گوریلوں کو پنجروں میں رکھنا یا دیکھنا قبول کر لیتے ہیں، لیکن ایک دوسرے کے ساتھ ایسا کرنے کی صورت میں ہمیں تکلیف ہو گی۔ اسی طرح ہم کسی دکان پر جا کر ایک کتے یا بلی کے بچے کو خرید سکتے ہی، لیکن انسان کاج بچہ نہیں خریدیں گے۔
ہمارے اور ان کے لیے قوانین مختلف ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
ہم فطری طور پر اپنے آپ کو اخلاقی اور روحانی سطح پر ایک مختلف نوع سمجھتے ہیں۔ ہم اپنے مرے ہوئے پالتو جانوروں کو دفن کر سکتے ہیں، لیکن ہم یہ توقع نہیں کر سکتے کہ کتے کا بھوت ہمیں پریشان کرے گا، یا جنت میں بلی ہمارا انتظار کر رہی ہو گی۔ لیکن پھر بھی اس قسم کے بنیادی فرق کے ثبوت ڈھونڈنا مشکل ہے۔
لفظ 'انسانیت' سے یہ مراد لی جاتی ہے کہ ہم ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں اور ہمدردی رکھتے ہیں۔
لیکن یہ دودھ دینے والے جانوروں کی ایک مشترکہ خصوصیت ہے یا یہ ان کا ایک معیار ہے، انسان کو مختلف یا ممتاز بنانے کا معیار نہیں ہے۔
ایک ماں بلی اپنے بچوں کی دیکھ بھال کرتی ہے، اور ایک کُتّا اپنے مالک سے محبت کرتا ہے، شاید کسی بھی انسان سے زیادہ۔ قاتل وہیل اور ہاتھی زندگی بھر خاندانی بندھن بناتے ہیں۔ سمندری وہیل مچھلی اپنے مردہ دوستوں کے بچھڑنے پر غمگین ہوجاتی ہے اور ہاتھیوں کو اپنے مردہ ساتھیوں کی باقیات پر دوبارہ جاتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔
جذباتی زندگی اور تعلقات ہمارے لیے یعنی انسان کے لیے منفرد نہیں ہیں۔
شاید یہ بیداری ہے جو ہمیں الگ کرتی ہے۔ لیکن کتوں اور بلیوں کو یقینی طور پر ہمارے بارے میں معلوم ہے ۔۔ وہ ہمیں انفرادی طور پر پہچانتے ہیں، جیسے ہم انھیں پہچانتے ہیں۔ وہ ہمیں اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ ہمیں ان کو کھانا کیسے دینا ہے، یا انھیں دروازے سے باہر جانے دیا جائے، یا یہاں تک کہ وہ بھی یہ جانتے ہیں کہ آج ہمارا دن بُرا گزرا ہے اور اس لیے ہمیں اپنے کسی دوست کی ضرورت ہے۔ اگر یہ شعور نہیں ہے تو کیا ہے؟
شاید یہ ہمارا شعور ہے جو ہمیں دوسرے جانوروں سے ممتاز کرتا ہے، لیکن کیا یہ ہمیں انسان بناتا ہے؟ بوتلوں جیسی ناک والی ڈالفنز کے دماغ ہمارے مقابلے میں کچھ بڑے ہوتے ہیں۔ ہاتھی کے دماغ ہمارے سائز سے تین گنا زیادہ بڑے ہوتے ہیں، سمندری وہیل مچھلی کا دماغ چار گنا بڑا ہوتا ہے، اور سپرم وہیل کے دماغ پانچ گنا بڑے ہوتے ہیں۔
دماغ کا سائز بھی انسانوں میں مختلف ہوتا ہے۔ دماغ کے سائز کے علاوہ کوئی اور چیز ہمیں انسان بناتی ہے۔ یا شاید دوسرے جانوروں، بشمول معدوم ہومینینز کے ذہنوں میں ہماری توقع سے زیادہ بہت کچھ ہو رہا ہو۔
ہم انسان کو اعلٰی علمی صلاحیتوں کی وجہ سے، مثال کے طور پر فن، ریاضی، موسیقی، اور زبان کے لحاظ سے، مختلف نوع کے طور پر بیان کرسکتے ہیں۔ یہ ایک تجسس پیدا کرتا ہے کیونکہ انسان اس معاملے میں ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں کہ ہم ان تمام چیزوں کو کتنی اچھی طرح انجام دیتے ہیں یا نہیں۔
میں جین آسٹن سے کم ادبی ہوں، ٹیلر سوئفٹ سے کم موسیقی والا ہوں، مارٹن لوتھر کنگ سے کم واضح۔ ان معاملات میں کیا میں ان سے کم انسان ہوں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اگر ہم انسان کو ممتاز کرنے والی خصوصیت کی وضاحت بھی نہیں کر سکتے تو ہم واقعی کیسے کہہ سکتے ہیں کہ انسان کہلانے والی سطح کہاں سے شروع ہوتی ہے، اور کہاں ختم ہوتی ہے ۔۔ یا یہ کہ ہم منفرد ہیں؟ اگر ہمیں قطعی طور پر یہی یقین نہیں ہے کہ ہمیں کیا بات منفرد یا ممتاز بناتی ہے تو ہم دوسری انواع کو فطری طور پر کمتر سمجھنے پر اصرار کیوں کرتے ہیں؟
نہ ہی یہ ضروری ہے کہ ہم انسانی ارتقا کا منطقی طور پر ایک اختتامی نقطہ ہیں۔
ہم بہت سی ہومینینز انواع میں سے ایک تھے، لیکن دوسروں کے مقابلے میں کامیاب ہو گئے۔ تاہم ایک اور ارتقائی سفر کا تصور کرنا ممکنات میں سے ہے، تغیرات اور تاریخی واقعات کا ایک مختلف سلسلہ، جس نے قدیم نیندرتھال کا مطالعہ کرنے والے ماہرین کو ہماری عجیب، پھولی ہوئی کھوپڑیوں کا مطالعہ کرنے پر مجبور کیا کہ وہ جانیں کہ ہم انسان کے ارتقائی سفر میں انسانیت کے کس درجے پر ہیں یا ہم کتنے انسان تھے۔
ارتقا کی نوعیت کا مطلب یہ ہے کہ ہر جاندار شے انسان کی واضح کیٹیگری میں نہیں آتی ہے۔
ایک نوع آہستہ آہستہ ایک سے دوسری صورت میں تبدیل ہوتی ہیں اور ایک نوع میں ہر فرد قدرے مختلف ہوتا ہے جو ارتقائی تبدیلی کو ممکن بناتا ہے۔ لیکن اس سے انسان کی تعریف کرنا یا اس کی وضاحت کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
ہم دونوں قدرتی انتخاب کی وجہ سے دوسرے جانوروں سے مختلف ہیں، لیکن مشترکہ نسب کی وجہ سے ان ہی جیسے بھی ہیں، یعنی بیک وقت ایک جیسے بھی اور مختلف بھی۔
اور ہم انسان ایک دوسرے کی طرح بھی ہیں اور اس کے برعکس بھی ہیں، دوسرے ہومو سیپیئنز کے ساتھ مشترکہ نسب کی وجہ سے ان سے ملتے جلتے ہیں، لیکن ارتقا کی وجہ سے مختلف ہیں اور جینوں کا انوکھا امتزاج جو ہمیں اپنے خاندانوں یا یہاں تک کہ دیگر انواع سے وراثت میں ملتا ہے، جیسے نیاندرتھال اور ڈینیسووان۔
جاندار چیزوں کی سخت کیٹیگریز میں درجہ بندی کرنا مشکل ہے، کیونکہ ارتقا چیزوں کو مسلسل بدلتا رہتا ہے، یہ متنوع انواع پیدا کرتا ہے اور اسی طرح انواع میں تنوع پیدا کرتا ہے۔
اور یہ تنوع ہے کیا؟
سچ ہے کہ کچھ لحاظ سے ہماری انواع متنوع نہیں ہیں۔ ہومو سیپیئنز آپ کے اوسط بیکٹیریل تناؤ کے مقابلے میں کم جینیاتی تنوع دکھاتا ہے، ہمارے جسم شکل میں سپنج، یا گلاب، یا بلوط کے درختوں سے کم تبدیلی دکھاتے ہیں۔ لیکن ہمارے طرز عمل میں، انسان بے حد متنوع ہے۔ ہم شکاری، کسان، ریاضی دان، سپاہی، ایکسپلورر، بڑھئی، مجرم، فنکار ہیں۔
انسان ہونے کے بہت سے مختلف طریقے ہیں، انسانی حالت کے بہت سے مختلف پہلو ہیں، اور ہم میں سے ہر ایک کو اس بات کی تعریف تلاش کرنا ہے اور یہ دریافت کرنا ہے کہ انسان ہونے کا مطلب کیا ہے۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ انسانیت کی وضاحت کرنے میں یہ نااہلی ہماری انسانی خصوصیات میں سے ہی ایک ہے۔
* نکولس لانگریچ باتھ یونیورسٹی میں قدیم زندگی کے علوم (پیلینٹولوجی) اور ارتقائی حیاتیات کے سینئر لیکچرر ہیں۔











