کیا نیندرتھالز اور ہمارے آبا و اجداد کے درمیان جنگ سے نیندرتھالز ناپید ہوئے؟

،تصویر کا ذریعہScience Photo Library
تقریباً 40 ہزار سال قبل نیندرتھال یعنی قدیم انسان جیسی مخلوق کے کرۂ ارض سے خاتمے کے متعلق ابھی بھی بحث جاری ہے لیکن ارتقائی علم حیات کے ماہر نکولس لانگرچ ان کے خاتمے کی وجہ کے طور پر ان کے اور جدید انسانوں کے مابین جنگ کی بات کرتے ہیں۔
تقریباً چھ لاکھ سال پہلے انسانیت دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔ ایک گروہ افریقہ میں مقیم رہا جن سے ہم نکلے ہیں۔
دوسرا سمندر پار ایشیا اور پھر یورپ کو نکل گیا جنھیں ’ہومو نیندرتھالی‘ کہتے ہیں۔ وہ ہمارے اجداد نہیں تھے (دونوں کی مخلوط پیدائش کے چند استثی کو چھوڑ کر) لیکن اس کی ایک بہن کی نسل متوازی طور پر تیار ہوئی۔
نیندرتھال ہمیں اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں کیونکہ وہ ہمیں ہمارے بارے میں بتاتے ہیں یعنی ہم کون تھے اور ہم کیا ہو سکتے تھے۔ انھیں ایک دوسرے کے ساتھ پُرسکون طور پر زندگی گزارتے ہوئے خیال کرنا ایک دلکش تصور ہے۔ اگر ایسا ہے تو ہوسکتا ہے کہ انسانیت کی خرابی خصوصاً ہماری علاقائیت، تشدد، جنگیں یہ سب چیزین فطری نہیں ہیں بلکہ جدید دور کی پیدائش ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن علم حیات کے بعض ماہرین اس سے الگ رائے رکھتے ہیں جن کے مطابق پُرامن ہونا تو دور کی بات ہے نیندرتھال ممکنہ طور پر جنگ کرنے میں ماہر اور خطرناک جنگجو تھے جن کا مقابلہ صرف جدید انسانوں سے کیا جا سکتا ہے۔
شکاری زمینی جانور بطور خاص غول میں شکار کرنے والے علاقائی ہوتے تھے۔ شیروں، بھیڑیوں اور ہماری اپنی ذات ہومو سیپین کی طرح نیندرتھال بڑے پیمانے پر شکار کرنے میں ایک دوسرے کی معاونت کرتے تھے۔
فوڈ چین کی اوپری سطح پر شکاری جانوروں کی بہت کم نسلیں ہیں اس لیے آبادی میں اضافہ شکار گاہ کے متعلق تصادم کی وجہ بنی۔ نیندرتھال کو بھی اسی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اگر دوسری اقسام کی نسلیں اپنی تعداد پر قابو نہ رکھتیں تو یہ بات تنازع کا باعث بنتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
علاقائیت پسندی کی انسانوں میں جڑیں گہری ہیں۔ علاقائی تنازعات ہمارے قریب ترین رشتہ داروں مثلاً چمپینزی میں بھی شدید ہے۔
مرد چمپینزی عام طور پر حریف گروہ پر حملہ کرنے اور ان کو مارنے کے لیے گروہ بناتے ہیں۔ یہ ایسا طرز عمل ہے جو انسانی جنگ کی طرح ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ باہمی یا اشتراکی جارحیت کم سے کم 70 لاکھ سال پہلے چمپینزی اور انسان کے مشترکہ اجداد میں پیدا ہوئی ہے۔ اگر ایسا ہے تو نیندرتھال کو بھی باہمی جارحیت وراثت میں ملی ہے۔
جنگ انسانی جبلت کا ایک داخلی جزو ہے۔ جنگ جدید ایجاد نہیں بلکہ ہماری انسانی سوچ کا ایک قدیم، بنیادی جزو ہے۔
تاریخی طور پر تمام لوگوں نے جنگ لڑی ہے۔ ہماری قدیم ترین تحریر جنگ کی داستانوں پر مبنی ہیں۔ آثار قدیمہ میں قدیم قلعے، جنگ، اور قبل از تاریخ قتل عام کے مقامات کے شواہد ملتے ہیں جو ہزاروں سال قبل وقوع پزیر ہوئے تھے۔
جنگ کرنا انسانی چیز ہے۔ اور نیندرتھال ہمارے جیسے ہی تھے۔ ہم اپنی کھوپڑی اور جسم کی بناوٹ کے لحاظ سے نمایاں طور پر ایک دوسرے کے مماثل ہیں اور ہمارا 99.7 فیصد ڈی این اے مشترک ہے۔
نیندرتھال حیرت انگیز طور پر ہمارے جیسے تھے۔ انھوں نے آگ جلائی، وہ اپنے مردہ دفن کرتے تھے، جانوروں کے دانتوں سے زیورات بناتے تھے اور پتھروں سے قبریں تیار کرتے تھے۔ اگر نیندرتھال میں ہماری بہت سی تخلیقی صلاحیتیں قدر مشترک تھیں تو ان میں ہماری بہت سی تباہ کن صلاحیتیں بھی مشترک ہوسکتی ہیں۔
آثار قدیمہ کے ریکارڈ اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ نیندرتھال کی زندگی پُر امن نہیں تھی۔
نیندرتھال وسیع پیمانے پر ماہر شکاری تھے اور وہ بھالے کے استعمال سے ہرن، پہاڑی بکڑے (آئیبیکس)، بارہ سنگھا، ارنا بھینسے یہاں تک کہ گینڈے اور میمتھ (ایک قسم کا ہاتھی) کا بھی شکار کر لیتے تھے۔ ان باتوں سے اس خیال کی نفی ہوتی ہے کہ اگر ان کے اہل خانہ اور ان کے خطے کو خطرہ لاحق ہوتا تو وہ ان ہتھیاروں کے استعمال سے ہچکچاتے۔ آثار قدیمہ سے پتا چلتا ہے کہ اس طرح کے تصادم عام تھے۔
قبل از تاريخ کی جنگوں کی کچھ باقیات ملتی ہیں جو جنگ کی کہانی کہتے ہیں۔ سر پر ڈنڈے سے مارنا قتل کرنے کا مؤثر طریقہ تھا۔ ڈنڈے تیز، مضبوط اور چھوٹے ہتھیار تھے اس لیے قبل از تاریخ کے ہوموسیپین کی کھوپڑیوں پر اس کی چوٹ کے نشان ملتے ہیں۔ اسی طرح سے نیندرتھال بھی کرتے تھے۔
جنگ کی ایک اور علامت کسی وار کو روکنے کے لیے ہاتھوں میں آنے والی چوٹ یا ہاتھ کے بازو سے نیچے والے حصے کا ٹوٹنا ہے۔
نیندرتھال میں بھی بہت سے ٹوٹے ہوئے بازوؤں کے ساتھ پائے گئے ہیں۔ عراق کے شنیدار غار سے ملنے والے ایک نیندرتھال کے ڈھانچے کے سینے میں ایک بھالے کا نشان ملتا ہے۔
خاص طور پر نوجوان نیندرتھال مردوں میں چوٹیں عام تھیں اور اموات بھی۔ کچھ چوٹیں تو شکار کے دوران آئی ہوں گی لیکن بہت سی چوٹیں ایسی ہیں جو یہ بتاتی ہیں کہ یہ بین القبائلی جھڑپ کا نتیجہ ہو سکتی تھیں۔
یہ تصادم چھوٹے پیمانے پر ہوتے ہوں گے لیکن شدید، طویل تنازع میں گوریلا طرز کے حملے اور غیر معمولی جنگیں شامل ہوں گی۔
جنگیں علاقائی حدود کی شکل میں ایک لطیف نشان چھوڑتی ہیں۔
نیندرتھال نے نہ صرف جنگیں لڑیں بلکہ جنگ میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ اس بات کا بہترین ثبوت یہ ہے کہ ان کی ہم انسانوں سے ملاقات ہو گئی اور وہ بہت جلد مغلوب نہیں ہوئے۔ اس کے بجائے وہ تقریباً ایک لاکھ سال تک جدید انسانی توسیع کے خلاف مزاحمت کرتے رہے۔
ورنہ ہم افریقہ کو چھوڑنے میں اتنا وقت کیوں لیتے؟
اس لیے نہیں کہ ماحول دشمنانہ تھا بلکہ اس لیے کہ نیندرتھال ایشیا اور یورپ میں پہلے سے ہی پھل پھول رہے تھے۔

،تصویر کا ذریعہAlamy
اس بات کا امکان بہت ہی کم ہے کہ جدید انسانوں کی نیندرتھال سے ملاقات ہوئی اور انھوں نے باہمی بقا کا فیصلہ کیا۔
اگر اور کچھ نہیں تو آبادی میں اضافے نے انسانوں کو مزید زمین حاصل کرنے پر مجبور کیا تاکہ وہ اپنے بچوں کی خوراک کے لیے شکار اور اجناس کے انتظام کو یقینی بنا سکیں۔ لیکن جارحانہ جنگی حکمت عملی بھی ایک اچھی ارتقائی حکمت عملی ہے۔
اس کے بجائے ہزاروں سالوں تک ان کے ساتھ جنگ کے تجربے میں ہم ان سے ہزاروں سال تک ہارتے رہے ہوں گے۔ ہتھیاروں، چالوں، حکمت عملی میں ہم ایک دوسرے کے برابر تھے۔
نیندرتھال کو حکمت عملی اور جنگی مہارت کے معاملے میں غالبا ہم پر برتری حاصل تھی۔ انھوں نے مشرق وسطی پر ہزاروں سال قبضہ کیا ہوا تھا۔ بلا شبہ وہ اس خطے کے بارے میں جانتے تھے اور وہاں کے موسموں، آبائی پودوں اور جانوروں سے کس طرح بچنا ہے اس کا علم رکھتے تھے۔ وہ اپنی مضبوط جسمانی ساخت کی وجہ سے قریک یعنی ہاتھوں سے کی جانے والی لڑائی میں تباہ کن جنگجو تھے۔ ان کی بڑی بڑی آنکھوں نے انھیں کم روشنی میں دیکھنے کی صلاحیت سے نواز رکھا تھا جس سے وہ رات میں اور اندھیرے منھ حملے کر سکتے تھے۔
بالآخر تعطل ٹوٹ گیا اور جوار کا رخ بدل گیا۔ ایسا کس طرح ہوا ہمیں نہیں معلوم۔ یہ عین ممکن ہے کہ تیر کمان، نیزے، بھالے جیسے دور سے پھینک کر مارنے والے ہتھیاروں کی ایجاد نے ہوموسیپئن کو بڑے ڈیل ڈول اولے نیندرتھال کو پریشان کرنے اور انھیں دور سے مار کر بھاگنے کی سہولت فراہم کی ہو۔ یا شاید بہتر طور پر شکار کرنے اور لوگوں کی یکجا کرنے کی بہتر صلاحیت نے انھیں نیندرتھال کے مقابلے میں عددی برتری دے دی ہو۔
یہاں تک کہ قدیم ہوموسیپیئنز کے دو لاکھ سال قبل افریقہ سے نکلنے کے باوجود انھیں نیندرتھال کی سرزمینوں کو فتح کرنے میں ڈیڑھ لاکھ سال لگے گئے۔ اسرائیل اور یونان میں سوا لاکھ سال قبل جدید ہومو سیپیئنز کی طرف سے حتمی حملہ کرنے سے قبل انھیں نیندرتھال کے جوابی حملوں کا سامنا رہا جس میں مستقل پسپائی ہوتی رہی۔
یہ کوئی بہت جلد فتح حاصل کرنے والا حملہ نہیں تھا بلکہ ایک طویل مدتی جنگ تھی کیونکہ نہ ہی نیندرتھال صلح پسند تھے اور نہ ہی وہ کم تر جنگجو تھے۔
آخر کار ہم جیت گئے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ جنگ پر آمادہ نہیں تھے۔ آخر میں ہم ممکنہ طور پر جنگ کرنے کے معاملے میں ان سے بہتر ہوتے گئے۔









