انسان کے لافانی ہونے کی خواہش جو شاید کبھی جیلی فش پوری کر سکے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
موت کو چکمہ دینے کا خیال ہمیشہ سے انسانوں کے لیے پُرکشش رہا ہے۔
انسان نے لافانی ہونے کے لیے مذہب، دور دراز سیاروں، جسم کو منجمد کرنے کی سائنس سے لے کر ہمیشہ جوان رہنے کے خیالی چشمے سمیت ہر چیز کو آزمایا ہے۔
جہاں ایک طرف ہم آسمانوں، سائنس اور دنیا کے تمام کونوں کی خاک چھان رہے تھے وہیں اس دوران لافانی ہونے کا راز ہمارے آس پاس کہیں سمندر میں تیر رہا تھا۔ یہ راز جیلی فش کی شکل میں تھا۔
جب ہم جیلی فش کا تصور کرتے ہیں تو ہمارے ذہن میں اس کی جو تصویر ابھرتی ہے وہ اس کی زندگی کا دوسرا مرحلہ ہوتا ہے جسے 'میڈوسا' کہتے ہیں۔ زندگی کے اس مرحلے میں جیلی فش دھندلے سے تیرتے ہوئے غبارے کی شکل میں گزارتی ہے جس کے کئی ڈنگ ہوتے ہیں۔
جیلی فش اپنی زندگی کا آغاز لاروے سے کرتی ہے جو سگار کی شکل جیسی چھوٹی چھوٹی مخلوق ہوتی ہیں اور یہ پانی میں ہر طرف تیرتی رہتی ہیں۔ یہ کسی سمندری چٹان یہ کسی دوسری سخت چیز کی تلاش میں ہوتی ہیں تاکہ ان سے چپک جائیں۔
یہ لاروے کسی چٹان یہ کسی دوسری ٹھوس چیز سے پوری طرح چپک کر مستحکم ہونے کے بعد ’پولپ‘ کی شکل میں تبدیل ہو جاتے ہیں جس سے ان میں تبدیلی رونما ہوتی ہے۔ جلد ہی ان کی تعداد بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے اور ان کی کئی ایک کالونیاں بن جاتی ہیں۔ کچھ پولپ دیکھنے میں جھاڑیوں کی طرح لگتے ہیں۔
کچھ عرصے بعد جب انھیں سازگار حالات میسر آتے ہیں تو یہ بڑی تعداد میں پھلنے پھولنے لگتے ہیں اور اس کے بعد ان پولپس میں سے چھوٹی چھوٹی جیلی فش نکلتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جیلی فش کی زندگی کا آغاز اگر زیادہ حیران کن نہیں ہے لیکن اس کی موت وہ مرحلہ ضرور ہے جہاں صورتحال انتہائی دلچسپ ہو جاتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جب لافانی جیلی فش میڈوسا مرتی ہے تو اس کی لاش ڈوب کر سمندر کے فرش پر جا گرتی ہے اور گلنے لگتی ہے۔ حیران کن طور پر اس کے خلیے دوبارہ جمع ہونے لگتے ہیں۔
یہ ایک نئی میڈوسا تو نہیں بلکہ پولپ بنانے لگتے ہیں۔ ان پولپس سے نئی جیلی فش جنم لیتی ہیں۔ اس طرح جیلی فش کی لاش سے نئی جیلی فش پیدا ہوتی ہیں لیکن اس مرتبہ وہ لاروے والے مرحلے سے گزرے بغیر پیدا ہوتی ہیں۔
تسمانیہ میں جیلی فش پر تحقیق کرنے والی ڈاکٹر لیزا این گرشوِن کہتی ہیں ’یہ ہم سب کے لیے ایک چکرا دینے والی دریافت تھی۔ یہ ہمارے زمانے کی انتہائی شاندار دریافتوں میں سے ایک ہے۔‘
صرف یہی لافانی جیلی فش ہی نہیں جو اپنی ہی باقیات میں سے جنم لیتی ہے۔ سنہ 2011 میں چین میں میرین بیالوجی کے ایک طالبِ علم نے ایک ٹینک میں مون جیلی فش کو رکھا۔ جب وہ جیلی فش مر گئی تو اس نے اسے ایک دوسرے ٹینک میں ڈال دیا۔
تین مہینے کے بعد اس مون جیلی فش کے اوپر ایک پولپ نظر آنے لگا۔ دوبارہ زندہ ہونے کا یہ عمل اب جیلی فش کی پانچ اقسام میں دیکھا جا چکا ہے۔
سوال یہ ہے کہ ایک لافانی زندگی کے علاوہ جیلی فش کو اس کا کیا فائدہ ہے؟ وہ ایسا کیوں کرتی ہے؟ اس کا مطلب ہے کہ جب وہ زیادہ عمر یا کسی بیماری یا کسی خطرے کے نتیجے میں کمزور پڑتی ہے تو وہ اپنی بقا کے حیرت انگیز نظام کو استعمال کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جیسے ہی دوبارہ زندہ ہونے کا عمل شروع ہوتا ہے تو اس کے اوپر کا پیراشوٹ جیسا حصہ اور ڈنگ گلنے لگتے ہیں۔ یہ دوبارہ پولپ کی شکل اختیار کر لیتی ہیں اور نئے سرے سے جیلی فش بننا شروع ہو جاتی ہیں۔
جیلی فش مرنے اور دوبارہ جی اٹھنے کا یہ سلسلہ بار بار جاری رکھ سکتی ہیں۔
اس دوران جیلی فش جس تجربے سے گزرتی ہے اس کے ایک حصے کو خلیاتی ٹرانس ڈِفرنسی ایشن کہتے ہیں۔ اس عمل میں خلیے ایک قسم سے دوسری قسم میں تبدیل ہو کر ایک بالکل مخلتف جسمانی منصوبے پر عمل کرنے لگتے ہیں۔
حالانکہ ڈاکٹر گرشوِن کا کہنا ہے کہ وہ ابھی تک جیلی فش اور انسان کے لافانی ہونے کے درمیان کسی تعلق کو دیکھ نہیں سکی ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مستقبل میں کسی طرح کا جینیاتی تعلق قائم کرنا ممکن نہ ہو۔
کیا معلوم کہ جیلی فش کے کچھ جینز کے ذریعے ہم سب ’ڈاکٹر ہو‘ بن جائیں اور جب بھی اپنے آپ سے اُکتا جائیں تو خود ایک نئی شکل میں سامنے آ جائیں۔













