انڈیا میں ہرے بھرے درختوں کی زندہ جڑوں سے پُل بنانے کا قدیم ہنر جو قدرتی ماحول کی بقا کے لیے اہم ہے

پل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, زینارا رتھنائکے
    • عہدہ, بی بی سی فیوچر

شمال مشرقی انڈیا میں مقامی لوگ صدیوں سے سر سبز انجیر کی جڑوں کو آپس میں بل دے کر ندیوں اور نالوں پر پل بناتے رہے ہیں۔ انڈیا کا یہ قدیم ہنر اب یورپی شہروں تک پہنچ گیا ہے۔

جب مون سون کی موسلادھار بارشیں ٹائرنا کے گاؤں پر برستی ہیں تو شائلِنڈا سائیملی نزدیک ہی بنے پل پر چل کر تیز دھار ندی کے دوسرے کنارے پہنچ جاتی ہیں۔ یہ سیمنٹ اور دھات کا بنا عام پل نہیں ہے۔ یہ ندی کے کنارے کھڑے انجیر (ربڑ پلانٹ) کے تناور درخت کی ہوا میں جھولتی جڑوں کو آپس میں بُن کر بنایا گیا ہے۔ یہ پل لوگوں کے تو کام آتا ہی ہے اس کے ساتھ یہاں کے ماحولیاتی نظام کے لیے بھی اہم ہے۔

ٹائرنا بنگلادیش کے میدانی علاقوں سے ذرا سا اوپر شمال مشرقی انڈین ریاست میگھالایا میں واقع ہے، جہاں ایسے سینکڑوں پل موجود ہیں۔ یہ پل صدیوں سے یہاں آباد کھاسی اور جائنتیا برادریوں کو مون سون کے دوران تیز دھار بہتی ندیوں اور دریاؤں کے پار جانے میں مدد دیتے رہے ہیں۔ سائیملی کہتی ہیں: 'ہمارے اجداد بہت ہوشیار تھے۔ جب ان کے لیے دریا عبور کرنا ممکن نہیں رہتا تو وہ درختوں کی جڑوں کو آپس میں بُن کر 'زندہ جڑوں' کے پل بنا لیتے تھے۔'

میگھالایا میں دنیا کی بعض سب سے زیادہ مرطوب (گیلی) جگہیں موجود ہیں۔ ماؤسِنرام کے گاؤں میں دنیا کی سب سے زیادہ بارش پڑتی ہے جس کا سالانہ اوسط 11,871 ملی میٹر (39 فٹ) ہے۔ اگر اتنی بارش ایک ہی وقت میں پڑ جائے تو اس میں تین منزلہ عمارت باآسانی ڈوب سکتی ہے۔ قریب ہی واقع سوہرا گاؤں دوسرے نمبر پر ہے، جہاں بارش کا سالانہ اوسط 11,430 ملی میٹر (37.5 فٹ) ہے۔ جون سے ستمبر کے دوران مون سون ہوائیں جب خلیجِ بنگال سے نکل کر بنگلادیش کے مرطوب میدانوں سے ہوتی ہوئیں شمال میں میگھالایا کے پہاڑی علاقے سے ٹکراتی ہیں تو پانی سے بھری گھٹائیں جیسے پھٹ سی پڑتی ہیں اور موسلادھار بارشیں ہونے لگتی ہیں۔

جب مون سون کی بارشوں کی وجہ سے سائیملی کے آباؤ اجداد کے گاؤں نواحی قصبات سے کٹ کر رہ جاتے تھے تو وہ انڈین ربڑ انجیر کی ہوا میں جھولتی جڑوں کو آپس میں بُن کر ندیوں پر پُل باندھ لیتے تھے۔

محقق ان زندہ جڑوں سے بنے ہوئے پلوں کو آب و ہوا کے مقابلے کی مقامی مثال کے طور پر دیکھتے ہیں۔ خشکی کے ٹکڑوں کو ایک دوسرے سے جوڑے رکھنے کے ساتھ یہ پل سیاحوں کی دلچسپی کا باعث بھی ہیں، اور مقامی قدرتی ماحول کی بقا میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ سائنسدانوں کو امید ہے کہ زندہ طرزِ تعمیر کی ان قدیم مثالوں کو جدید شہروں میں بھی اپنا کر ماحولیاتی تبدیلی سے بہتر مطابقت پیدا کی جا سکتی ہے۔

کھاسی ثقافت

،تصویر کا ذریعہAlamy

،تصویر کا کیپشنکھاسی ثقافت میں درخت نہ صرف پل بنانے کے کام آتے ہیں بلکہ انھیں مقدس بھی مانا جاتا ہے

ان پلوں کی تعمیر میں کئی دہائیاں لگ جاتی ہیں۔ سب سے پہلے انڈین ربڑ پلانٹ (ربڑ انجیر) کا ننھا سا پودا ندی یا دریا کے کنارے ایسے مقام پر لگایا جاتا ہے جو پار جانے کے لیے مناسب ہو۔ یہ پودے میگھالایا میں عام پائے جاتے ہیں۔ پہلے تو یہ درخت زمین کے اندر اپنی جڑیں مضبوط کرتے ہیں اور کوئی 10 سال بعد یہ اپنی ہوائی یا ثانوی جڑیں نکالنے لگتے ہیں۔ ان جڑوں میں لچک اور آپس میں مل کر مضبوظ سٹرکچر یا ساخت بنانے کی صلاحیت ہوتی ہے۔

صدیوں سے ایسے پل بنانے والے کھاسی قبیلے کے کاریگر اپنے کام کے بہت ماہر ہیں۔ یہ لوگ ان جڑوں کو بانس یا اور کسی دوسری لکڑی کے ساتھ لپیٹ ندی کے دوسری طرف لے جا کر زمین میں گاڑ دیتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ جڑیں موٹی اور مضبوط ہو جاتی ہیں اور ان سے مزید جڑیں پھوٹنے لگتی ہیں۔ ان جڑوں کو بھی ندی یا دریا کے پار لے جایا جاتا ہے۔ کاریگر ان جڑوں کو آپس میں یا دوسرے درختوں کے ساتھ بنتے اور بٹتے رہتے ہیں۔ اس عمل کے دوران یہ جڑیں ایک دوسرے میں پیوست ہو کر ایک فریم سا بنا دیتی ہیں۔ کھاسی کے کاریگر اس فریم یا ڈھانچے میں موجود بڑے سوراخوں کو پتھروں سے پر کر دیتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ جڑوں کا یہ جال یا نیٹ ورک مضبوط ہو جاتا ہے اور بعض پل تو ایک ہی وقت 50 افراد کا بوجھ بھی سہار لیتے ہیں۔

بعد میں آنے والی نسلیں ان پلوں کی مرمت کرتی رہتی ہیں۔ چھوٹے پلوں کی دیکھ بھال تو ایک آدمی بھی کر سکتا ہے مگر بڑے پلوں کو قابل استعمال حالت میں رکھنے کے لیے پورے گاؤں یا کئی دیہاتوں کے لوگوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ اسی دیکھ بھال کا نتیجہ ہے کہ یہ پل 600 سال گزرنے کے بعد بھی استعمال میں ہیں۔

سائیملی کہتی ہیں کہ 'سیمنٹ کے پل زیادہ بارش میں بہہ جاتے ہیں جبکہ لوہے کے پلوں کو زنگ لگ جاتا ہے۔ مگر زندہ جڑوں کے بنے پل بارشوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔

'لوگوں کو اندازہ ہو گیا ہے کہ جڑوں کے پل جدید پلوں سے زیادہ پائیدار ہیں، اور ان پر خرچ بھی کچھ ہوتا۔ اس لیے اب گاؤں والے وادیوں میں بنے جڑوں کے ان پلوں کی پھر سے مرمت کر رہے ہیں جو کافی عرصے سے زیر استعمال نہیں تھے۔'

ان پلوں میں نئی دلچسپی کا سہرا رانگتھائلیانگ گاؤں کے باسی مارننگ سٹار کھونگتھا کے سر جاتا ہے جنھوں نے 'لوِنگ برِج فاؤنڈیشن' نامی تنظیم کی بنیاد رکھی۔ کھونگتھا اور ان کی ٹیم جڑوں سے بنے ان پلوں کی افادیت کے بارے میں شعور بیدار کرنے، ان کی مرمت کرنے اور نئے پل تعمیر کرنے میں مصروف ہیں۔

سیاحوں کی دلچسپی کا سامان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشننارتھ ایسٹ انڈیا میں بنے زندہ جڑوں کے یہ پل سیاحوں کی دلچسپی کا سامان ہیں

روایتی پلوں کے برعکس یہ پل اپنے گرد و پیش کے لیے بھی اس اعتبار سے اہم ہیں کہ ایک تو ان کی تعمیر میں استعمال ہونے والا سامان یہ خود فراہم کرتے ہیں، اور دوسرا یہ کلائمیٹ چینج کا باعث بننے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کو بھی زندگی بھر کے لیے جذب کرتے رہتے ہیں۔ یہ زمین کو بھی مضبوط بناتے اور پانی کے ریلے میں بہہ جانے سے روکتے ہیں۔ ٹیکنیکل یونیورسٹی آف میونخ کے پروفیسر فرڈینینڈ لُڈوِگ، جو 13 سال سے ان پلوں پر تحقیق کر رہے ہیں، کہتے ہیں کہ پلوں کی جڑیں زمین کے اندر دور تک پھیل کر مٹی کی مختلف پرتوں کو آپس میں جوڑ کر رکھتی ہیں۔

میگھالایا کے رہائشی اور بایوڈائیورسٹی انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا سے وابستہ سلواڈور لِنگڈوہ کا کہنا ہے کہ یہ بات دوسرے درختوں پر بھی صادق آتی ہے، مگر ربڑ پلانٹ اپنے ماحولیاتی نظام کی وجہ سے خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ اپنے گرد و پیش میں حیاتیاتی تنوع بڑھانے میں مدد دیتے ہیں: مثلاً ان پر کائی جمتی ہے، ان کی شاخوں پر گلیریاں رہتی ہیں، پرندے گھونسلے بناتے ہیں اس کے علاوہ بہت سے حشرات ان پر بسیرا کرتے ہیں جو پولینیشن یا پھل بننے کے عمل میں مدد دیتے ہیں۔

لِنگڈوہ کہتے ہیں یہ پُل جنگلی حیات کو اپنے مسکن کے اندر پھلنے پھولنے میں بھی مددگار ہیں۔ مقامی ہرن اور چیتے کو ان پل پر سے گزرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

البتہ لِنگڈوہ کا کہنا ہے کہ یہ پل ہر پہلو سے روایتی پلوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ مثلاً روایتی پل زیادہ بوجھ برداشت کر سکتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: 'مگر جڑوں سے بنے پل پودوں اور جانداروں کی بہت سی اقسام کو مدد دیتے ہیں جو کہ جدید پل نہیں کر سکتے۔'

وہ کہتے ہیں کہ ان پلوں کے بنانے کا کوئی ایک مروجہ طریقہ نہیں ہے بلکہ ہر کاریگر کا اپنا طریقہ ہے۔ یہ وجہ ہے کہ تمام پل ایک دوسرے سے الگ نظر آتے ہیں۔

ایک اور مسئلہ ان پلوں کی تحریری تاریخ کی عدم موجودگی بھی ہے۔ 19ویں صدی میں برٹش نوآبادی کا حصہ بننے سے پہلے میگھالایا کے کھاسی باسیوں کے ہاں لکھنے کا نہ تو رواج تھا نہ ہی حروف تہجی۔ ان کی تاریخ و روایت نسل در نسل زبانی منتقل ہوتی رہی ہے۔

انجیر کا پتّا

،تصویر کا ذریعہAlamy

،تصویر کا کیپشنان پلوں کے بنانے کے لیے ربڑ پلانٹ یعنی ربڑ انجیر کا درخت بہت موزوں ہے، مگر دوسری انواع جیسے لندن کا پلین درخت بھی کار آمد ہے

لُڈوِگ کی ٹیم نے کھاسی کے کاریگروں کی مدد سے ان پلوں کے ڈیجیٹل ڈھانچے ترتیب دیے، تصاویر بنائیں اور پھر ان کے تھری ڈی نمونے بنائے۔ ان معلومات کی بنیاد پر ٹیم نے سمر کچن کی چھت بنائی۔

وہ کہتے ہیں: 'جب ہم کوئی روایتی پل تعمیر کرتے ہیں تو ہمارے پاس اس کا نقشہ اور ساز و سامان موجود ہوتا ہے۔ مگر جڑیں تو زندہ ہوتی ہیں اور وہ اپنے انداز میں نمو پاتی ہیں۔ اس لیے ان کے ساتھ کام کرنا دشوار ہے۔ مگر کھاسی کاریگر بہت ہوشیار ہیں۔ وہ ان جڑوں پر نظر رکھتے ہیں اور اپنے ڈیزائن کو ڈھالتے چلے جاتے ہیں۔‘

مگر یورپ کی آب و ہوا مختلف ہونے کی وجہ سے انھیں اس مقصد کے لیے لندن پلانٹ نامی درخت استعمال کرنا پڑا۔ لُڈوِگ کا کہنا ہے کہ 'بات یہاں ختم نہیں ہوئی۔ کھاسی لوگوں کے قدرتی ماحول میں رہنے کی وجہ سے ان کا اپنے ماحولیاتی نظام کے بارے میں علم بہت زیادہ ہے۔ ہمارے پاس وہ نہیں ہے۔' اس کے لیے ان کی ٹیم نے ڈیجیٹل آلات کی مدد حاصل کی اور ایک ایسا نقشہ تیار کیا جس کی مدد سے درخت کی شاخوں کو آپس میں بٹ کر چھت بنائی۔

وہ کہتے ہیں کہ 'یورپ میں ہم سیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ درختوں کی قدرتی نمو کس طرح اپنے کام میں لایا جائے: انسان درخت لگاتے ہیں، درخت بڑے ہوتے ہیں، انسان انھیں استعمال میں لاتا ہے، درخت اپنا ردعمل دکھاتے ہیں۔ یہ باہمی عمل پائیدار مستقبل کے لیے لازمی ہے۔'

جڑوں سے بنا دو منزلہ پل

،تصویر کا ذریعہAlamy

،تصویر کا کیپشنمیگھالایا کا جڑوں سے بنا ہوا یہ دو منزلہ پل سیاحوں میں بے حد مقبولیت پا چکا ہے

لُڈوِگ کو امید ہے کہ زندہ آرکیٹیکچر شہری مکینوں کی زندگی میں بہتری لا سکتے ہیں۔ عمارتوں، پلوں اور پارکوں میں درخت کے لیے جگہ بنانے سے بھیڑ بھاڑ والے علاقوں میں قدرتی ماحول متعارف کروایا جا سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ 'مقصد ان پلوں کی نقل کرنا نہیں ہے بلکہ اس مقامی انجینیئرنگ کی مدد سے اپنے شہری ماحول کو بہتر بنانا ہے۔'

کولمبیا یونیورسٹی سے وابستہ جولیا واٹسن کہتی ہیں کہ درختوں کے بارے میں ہمارا نقطۂ نظر بدل رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ 'بجائے اس کے کہ ہم درختوں کو ساکت و جامد اجسام سمجھیں، ہم انھیں زندہ انفراسٹرکچر سمجھ سکتے ہیں جو ہمارے شہری ماحولیاتی نظام کے اندر اہم خدمات انجام دے رہے ہیں۔' مثلاً یہ شہروں کی گرمی کو کم کرنے میں معاون ہوتے ہیں۔

واٹسن کا کہنا ہے کہ ان درختوں کو عمارتوں کے سامنے کے حصے یا چھت کا حصہ ہونا چاہیے۔

میگھالایا میں درختوں کو استعمال کرکے پل بنانے کا عمل لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کا سبب بھی ہے۔ لِنگڈوہ کہتے ہیں کہ جب لوگ ان پلوں کو بنانے، ان کی دیکھ بھال اور مرمت کے لیے یکجا ہوتے ہیں تو اس سے ان میں باہمی احترام کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔

جو پل آج بن رہے ہیں ان پر سے ان کے بنانے والے نہیں گزریں گے۔ بلکہ یہ ان کی آنے والی نسلوں کے کام آئیں گے۔ لِنگڈوہ کا کہنا ہے کہ 'برادری آج کا نہیں سوچتی۔ یہ ایک بے لوث عمل ہے۔ یہ فلسفۂ بقا ہے۔'

یہ پل کھاسی ثقافت کا حصہ تو ہی ہیں، اس کے ساتھ یہ یہاں کے لوگوں کے لیے معاشی فوائد بھی لاتے ہیں۔ ماضی میں یہ دیہات کو شہروں سے جوڑے رکھتے تھے اور لوگ چھالیہ اور جھاڑویں وغیرہ بنا کر شہروں میں جا کر بیچتے تھے۔ لیکن آج کل بہت سے سیاح ان پلوں کو دیکھنے آتے ہیں۔

سائیملی کے گاؤں ٹائرنا سے ساڑھے 3 ہزار قدم نیچے ایک دو منزلہ پل دریائے اومشیانگ کے دونوں کنارے کے درمیان رابطے کا کام کرتا ہے۔ جب دریا میں پانی بہت زیادہ اونچا ہو گیا تو کھاسی کے لوگوں نے اس درخت کی بالائی جڑوں سے ایک نیا پل بنا دیا تھا۔

آج یہ سیاحوں کی دلچسپی کا باعث ہے جن کے آنے سے یہاں لوگوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوگئے ہیں۔

مگر سائیملی کا کہنا ہے کہ چپس کی خالی تھیلیوں اور پلاسٹک کی بوتلوں سے گندگی تو پھیل ہی رہی ہے اس کے ساتھ جب بہت سارے لوگ سیلفیاں لینے کے لیے ایک ہی وقت میں ان پلوں پر چڑھ جاتے ہیں تو ان بوجھ برداشت کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ لیکن مقامی لوگوں نے پائیدار سیاحت کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا ہے۔

کھونگتھا نے ربڑ انجیر کی فضائی جڑوں سے بنائے گئے ان پلوں کے بارے میں سیاحوں کی آگہی کے لیے ایک مرکز اور ایک عجائب گھر قائم کیا ہے۔ یہاں درختوں کی شاخوں کو ملا کر بنائی گئی چھتیں، جنگل کے اندر دور تک جانے والی سرنگیں اور سیڑھیوں کے نمونے رکھے گئے ہیں۔ میگھلایا جاتے ہوئے کسان ان کو چڑھنے اترنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔