وہ فلمیں جو سیکس ورکرز کو ایک نئے روپ میں پیش کر رہی ہیں

سکیس ورکرز

،تصویر کا ذریعہNick Wall / Searchlight Pictures

    • مصنف, رافا سیلزروس
    • عہدہ, بی بی سی کلچر

سنہ 1990 کی کلاسک فلم پریٹی وومن کے ایک منظر میں جب ایڈورڈ لیوس (رچرڈ گیئر) نے پہلی بار ویویئن وارڈ (جولیا رابرٹس) کو لگژری سلور سپورٹس کار میں بٹھایا، جو انھوں نے اپنے وکیل سے ادھار لی تھی، تو یہاں اس بات کا اشارہ ملا کہ وہ اس حقیقت سے کسی حد تک انجان تھے۔ یعنی انھیں معلوم نہیں تھا کہ یہ خاتون ایک سیکس ورکر ہیں۔

لاس اینجلس کی کشادہ شاہراہوں کے درمیان کھویا ہوا نیویارک کا تاجر، ابتدائی طور پر صرف سمتوں میں دلچسپی رکھتا ہے۔

تاہم حال ہی میں ریلیز ہونے والی سوفی ہائیڈ کی فلم گڈ لک ٹو یو، لیو گرانڈے میں ایسا کوئی ابہام نہیں ہے۔ جب ہوٹل کے کمرے کے دروازے کی گھنٹی بجتی ہے، تو نینسی سٹوکس (ایما تھامسن) کو معلوم ہوتا ہے کہ دروازے کے دوسری طرف کون ہے: لیو گرانڈے (ڈیرل میک کارمیک)، ایک سیکس ورکر جنھیں انھوں نے آن لائن اجرت پر حاصل کیا تھا۔

اس فلم میں نینسی جو ایک ریٹائرڈ ٹیچر اور دو بالغ بچوں کی ماں اور بیوہ ہیں، اپنے آپ کے لیے وقت نکالتی ہیں تاکہ ان برسوں پر غور کریں جو انھوں پیچھے چھوڑ دیے۔

اپنی زندگی کے گزرے وقت پر غور و فکر کے وقت ایک چیز جو خاص طور پر اسے تنگ کرتی ہے کہ وہ اپنی زندگی میں سیکس کے دوران کبھی جنسی طور پر ہیجان کی کیفیت کو نہیں پہنچیں۔ اس کی زندگی میں سیکس ہمیشہ ایک سرد مہر اور بے مزہ عمل رہا۔

اسی اضطراب میں وہ جوش میں آکر لیو گرانڈے کو ایک رات کے لیے اس امید پر بُک کر لیتی ہے کہ وہ اس کے ساتھ وہ تمام جنسی خواہشات کی تکمیل کر سکے گی جس کی اسے اپنے ایک اور اکلوتے ساتھی کے ساتھ کرنے کی اجازت نہیں تھی۔

اس سادہ کہانی کی مدد سے یہ فلم سیکس ورک کو ایک نئے انداز سے پیش کرتی ہے۔ اس میں تبدیلی یہ ہے کہ ایک معمر خاتون نوجوان مرد کو پیسوں کے عوض حاصل کرتی ہے، یعنی روایتی صنفی کرداروں اور عمر کے اعتبار سے یہ کچھ ہٹ کر ہے۔ اس سلسلے میں یہ خاتون صرف اپنی خوشی کی متلاشی ہیں۔ انھیں زندگی کے اس موڑ پر اگرچہ ہیجان کی کیفیت کی امید نہیں مگر یہ بس چاہتی ہیں کہ انھیں کوئی چھوئے۔ وہ اپنی خواہش کا اظہار یوں کھل کر کرتی ہیں۔

سکیس ورکرز

،تصویر کا ذریعہSearchlight Pictures

لیو بھی سیکس ورک کو کچھ الگ انداز میں بڑے پردے پر پیش کرتے ہیں۔ انھیں ایک خوبصورت نوجوان دکھایا گیا ہے جن کا قدر لمبا ہے تاہم وہ مردانگی کے ان تقاضوں سے عاری ہیں جو عموماً فلموں میں دکھائے جاتے تھے۔ جیسے 1980 کی فلم ’امریکن جگلو‘ میں جولین (رچرڈ گیئر) مراندگی کے روایتی انداز میں نظر آتے ہیں اور اپنی جارحیت میں ’زنانہ پن‘ سے کافی دور دکھائی دیتے ہیں۔

مگر لیو کا نینسی کے ساتھ روایہ کافی خوشگوار ہوتا ہے اور وہ بدلے میں کچھ نہیں مانگتے۔ سابقہ ٹیچر لیو کے کام کے بارے میں پوچھتی ہیں اور جاننے کی کوشش کرتی ہیں کہ آیا انھیں اس میں مشکلات پیش آتی ہیں اور وہ کیوں اس کام میں آئے۔ جواب میں لیو محض اپنا رویہ رواں رکھتے ہیں۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ غصہ اور اشتعال صرف تبھی ابھرتا ہے جب آپ عدم تحفظ محسوس کریں۔

دقیانوسی صنفی کرداروں سے ہٹ کر

نینسی دراصل لیو کے بارے میں ایسا اس لیے سوچتی ہیں کیونکہ وہ ایک طویل عرصے تک صدمے میں رہی ہیں۔ شاید اسی لیے وہ لیو کے کام کو اپنے زاویے سے دیکھنے کی کوشش کرتی ہیں اور ان کے لیے خیالات فلموں میں دکھائے گئے سیکس ورک سے متاثرہ ہیں۔

سیکس ورکر پارکر ویسٹ ووڈ نے بی بی سی کلچر کو بتایا ہے کہ ’(فلموں میں) ہمیں دشمن بتایا جاتا یا ہمارے کام کو بڑھا چڑھا کر دکھایا جاتا ہے۔ وہ بہت کم یہ بتاتے ہیں کہ ہم اس شعبے میں پیسے کما کر زندگی گزارنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘

ویسٹ ووڈ نے حال ہی میں اپنی پوڈکاسٹ ’اے سیکس ورکرز گائیڈ ٹو دی گیلیکسی‘ میں اس شعبے کے منفرد پہلو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔

سیکس ورکرز سے جڑے غلط خیالات کو دور کرنا ضروری اس لیے ہے تاکہ انھیں ان کے کام سے الگ کر کے بھی دیکھا جاسکے اور ان کے کام کسی بھی دوسرے کام کی طرح دیکھا جاسکے۔ ایک طویل عرصے تک فلموں نے اس کا الٹ دکھایا ہے اور گمراہ کن تصورات کو فروغ دیا ہے جو کہ صحیح نہیں اور خطرناک ہوسکتا ہے۔

فلموں کا جائزہ لیا جائے تو کوئی سیکس ورکر بس دو طرح کا ہوسکتا ہے: ایک سیکس ورکر ڈسپوزیبل ہوسکتا ہے یعنی اسے استعمال کر کے پھینک دو یا پھر یہ بڑے دل والا انسان ہے جو آپ کی مدد کرتا ہے۔ پہلی قسم کے سیکس ورکر کو اکثر فلم میں بُری طرح قتل کر دیا جاتا ہے اور یوں بتایا جاتا ہے جیسے یہ کام سے جڑے خطرات کا نتیجہ ہے۔ سٹینلی کوبرک کی 1999 کی فلم ’آئیز وائیڈ شٹ‘ تو آپ کو یاد ہی ہوگی جس میں سیکس ورکر مینڈی (جولین ڈیوس) کو آغاز میں نشی کی حالت میں برہنہ دکھایا گیا اور پھر انھوں نے آخر میں اپنی قربانی دے دی۔

ڈیوڈ فنچر کی 1995 کی فلم سیون اور نکولس ونڈنگ کی 2013 کی فلم ’اونلی گاڈ فورگیوز‘ دونوں تھریلر فلموں میں بھی انھی تصورات کا سہارا لیا گیا ہے۔ دونوں میں سیکس ورکرز کا دردناک قتل دکھایا جاتا ہے۔ کرائم موویز میں اس کی فلمبندی مزید پُرتشدد پہلوؤں کے ساتھ ہوتی ہے جیسے 2013 کی فلم دی فروزن گراؤنڈ، 2020 کی لاسٹ گرلز اور 2005 کی گرین ریور کِلر۔ ان فلموں میں یہ بھی دکھایا گیا کہ حکام ایسے قتل کے مقدمات حل کرنے میں زیادہ دلچسپی نہیں لیتے۔

اسی طرح کی ایک مشہور فلم ہے جس کا آغاز ایک ’ڈسپوزیبل‘ سیکس ورکر سے ہوتا ہے اور پھر بتایا جاتا ہے کہ اس کا دل کتنا بڑا تھا۔ پریٹی وومن کے پہلے ہی سین میں ایک شخص صحافیوں کو بتایا ہے کہ ’یہ عورت دن رات جسم فروشی کرتی تھی تاکہ کچھ کوکین لے سکے۔‘ ان کا مطلب یہ تھا کہ شاید اس عورت کا پیشہ ہی اس کی موت کا سبب بنا۔ سیاح اس کھلے میں پڑی لاش کے ساتھ تصاویر بنواتے ہیں جس سے اس تشدد کی حساسیت ہی مٹ جاتی ہے۔

سیکس ورکرز

،تصویر کا ذریعہWarner Bros

پریٹی وومن جیسی فلموں کی مدد سے سیکس ورک ایک مینسٹریم موضوع بنا۔ مگر اس فلم میں دکھائے گئے انداز پر اکثر تنقید کی جاتی ہے۔ کہانی آگے بڑھتی ہے تو یہی تاثر ملتا ہے کہ یہ ویویئن کو سیکس ورک چھوڑ دینا چاہیے یا اس کا انجام بہت بُرا ہوگا۔

اور انھیں ایک آسان راستہ بھی ملتا ہے کہ ایک امیر سفید فام مرد ایڈورڈ انھیں بچا سکتا ہے جو بار بار مدد کی پیشکش کرتے ہیں۔ ویویئن کے ساتھ بستر میں موجود ایڈورڈ یہی بات کہتے ہیں کہ ’آپ اس سے بہت دور جا سکتی ہیں‘ جیسے وہ ابھی بہت بُری زندگی بسر کر رہی ہیں۔

فلم میں یہ رشتہ تجارت کے ساتھ رومانوی بھی ہے جس کے نتیجے میں سیکس ورک کو رومانوی بنایا گیا ہے۔ ایڈورڈ ویویئن کو گفٹس دیتے ہیں، انھیں اپنا کریڈٹ کارڈ تھما دیتے ہیں اور انھیں ایک نئے روپ میں ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اسے دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے ہر سیکس ورکر کو انتظار کرنا چاہیے کہ کوئی انھیں اس مایوس کن انجام سے بچانے آئے گا۔ اگر ایڈروڈ محبت میں مبتلا تھے تو شاید انھیں اپنی ہی اس تخلیق سے محبت تھی۔

فلمساز، سکرین رائٹر اور سابق سیکس ورکر اسا مزائی بتاتی ہیں کہ کامیڈی فلموں میں بھی سیکس ورک کو کافی بُرے انداز میں دکھایا جاتا ہے۔ انھوں نے بی بی سی کلچر کو بتایا کہ ’ایسی بہت سی کامیڈی فلمیں ہیں جن کی کہانی میں سیکس ورکر کا قتل ایک مذاق ہوتا ہے۔ ایسے نظریات تضحیک آمیز ہیں اور ان کی زندگی خطرے میں ڈالتے ہیں۔

’یہ سب مزاحیہ انداز میں دکھایا جاتا ہے جو کہ اس سے بھی بُری بات ہے۔ اس سے تاثر ملتا ہے جیسے کسی دوسرے شعبے سے منسلک لوگوں کے قتل کے مقابلے سیکس ورکر کا قتل تو معمولی سی بات ہے۔‘

یا پھر ایسی مزاحیہ فلمیں بھی ہیں جن کی پوری کہانی سیکس ورکر کے قتل کے گرد گھومتی ہیں۔ جیسے 1998 کی فلم پیٹر برگز ویری بیڈ تھنگس اور لوسیا انیلوز کی 2017 کی فلم رف نائٹ۔ جبکہ 1998 کی فلم ڈرٹی ورک جیسی فلموں میں سیکس ورکر کے کام پر طنز و مزاح کیا جاتا ہے۔ اس فلم کی کہانی میں ایک کار سیلز مین اپنی گاڑی کے ٹرنک میں کئی سیکس ورکرز کی لاشیں لیے پھرتے ہیں۔ اسی نظریے کو 2019 کی فلم ڈیڈ ہوکر ان اے ٹرنک اور 1971 کی ڈیتھ آف اے ہوکر میں پیش کیا گیا ہے۔

سیکس ورک کو دکھانے کا نیا انداز

حالیہ کئی فلموں میں سیکس ورک سے جڑے دقیانوسی نظریات کو چیلنج کیا گیا ہے۔ مثلاً 2018 کی فلم کیم جو کہ مزائی نے بنائی ہے۔ اس کی کہانی میں یہ بحث چھیڑی گئی ہے کہ کنسینٹ یا اجازت کتنی اہم ہوتی ہے اور ایک انسان کو اس کے بارے میں بنائے گئے تاثر سے کیسے الگ کیا جاسکتا ہے۔ اس کہانی میں آن لائن کام کرنے والے سیکس ورکر کے لیے ایجنسی سے بےدخل ہونے کی شکایت کو بھی دکھایا گیا ہے۔

مزائی کا کہنا ہے کہ ’یہ بہت ضروری ہے کہ سیکس ورکرز کو ہر قدم پر فلمبندی کے عمل کا حصہ بنایا جائے۔ میں تمام سیکس ورکرز کی نمائندگی نہیں کرتی، میں بس ان میں سے ایک ہوں۔

’تو یہ ضروری ہے کہ ان کی رائے اس میں شامل کی جائے اور انھیں بڑے پردے پر دکھانے کے لیے ضروری اقدامات کریں۔‘

مزائی اس کتاب کی بھی مصنفہ ہیں جس میں انھوں نے لائیو سٹریمنگ کی یادداشتیں لکھی ہیں۔ اگرچہ مزائی نے تخلیقی عمل میں سیکس ورکرز کی شمولیت کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے تاہم وہ یہ تسلیم کرتی ہیں کہ موجودہ یا سابقہ سیکس ورکرز کے لیے اس شعبے کے بارے میں کھل کر بات کرنا اتنا آسان نہیں۔

مزائی کا کہنا ہے کہ ’سیکس ورکنگ کے تجربے کے بعد ہالی وڈ میں آنا خوفناک تھا۔ میں بطور رائٹر ایسے لوگوں سے ملاقات کرتی تھی جو ہمیشہ میری عزت نہیں کرتے تھے۔ لوگ کیمنگ پر جنسی نوعیت کے سوالات پوچھنا چاہتے تھے۔‘

نوما پریئر بھی یہی خیالات رکھتی ہیں جنھوں نے بطور کیم گرل اپنے تجربے پر 2019 کی فلم جزابل بنائی۔ وہ کہتی ہیں کہ ’طویل عرصے تک سیکس ورک کو بُرا سمجھا جاتا رہا اور اسی لیے پہلے میں اپنی کہانی بیان کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتی تھی۔

’تاہم سکرپٹ پر کام کر کے مجھے احساس ہوا کہ اپنی کہانی کے پیچھے چھپنا ایک بڑا تخلیقی چیلنج تھا۔ اس کے بعد سے میں خود کے اظہار میں کھل کر بات کرنے لگی جس سے یہ فلم بھی بہتر بنی۔‘

یہ بھی پڑھیے

سیکس ورکرز

،تصویر کا ذریعہNetflix

کیم اور جزابل کی مدد سے سیکس ورکرز نے بڑے پردے کے لیے اپنی کہانیوں کو نئے انداز میں پیش کیا اور ثابت کیا کہ صحیح کہانی اور فلمبندی کے لیے ایسی لوگوں کی ہی ضرورت ہے جنھوں نے ایسی زندگی گزاری ہے۔

شون بیکر کی 2015 کی فلم ٹینجرین میں سابقہ سیکس ورکرز کتانا کیکی روڈریگز اور میا ٹیلر نے اپنے تجربے سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور اس سے فلم کو حقیقت کے قریب ڈھالا گیا۔ فرانسیسی ہدایتکار کمیل ودال ناکے نے کئی برس ان نوجوان لڑکوں کی کہانیاں سننے میں گزار دیے جو پیرس کے اس بدنام پارک میں قیام پذیر تھے جہاں سیکس ورکرز ہوتے ہیں۔ انھوں نے اسی تجربے سے 2018 کی فلم ساویج بنائی جس میں ایک نوجوان مرد اپنی ایسی ہی زندگی کا سفر طے کرتا ہے۔

ننجا تھائیبرگ کی حال ہی میں ریلیز ہونے والی فلم پلیژر میں پورنوگرافی کی دنیا کی حقیقت دکھائی گئی جو کہ ایسی ہی ایک مثال ہے کہ کس طرح سیکس ورکرز کے تجربے کو تخلیقی عمل میں شامل کر کے بہتر نمائندگی کی جاسکتی ہے۔

اخبار نیو یارک ٹائمز سے بات کرتے ہوئے ہدایتکار کا کہنا تھا کہ وہ فلم میں ’پورن کو ایک الگ زاویے سے دکھنا چاہتے تھے جس میں خواتین کو صرف مظلوم کی نظر سے پیش نہ کیا جائے۔‘ انھوں نے اس شعبے سے منسلک افراد کا شکریہ ادا بھی کیا جنھوں نے فلم کو حقیقت کے قریب لے جانے میں مدد کی۔

اس فلم کی کہانی میں نئی سویڈش اداکارہ بیلا چیری (صوفیا کیپل) پورن انڈسٹری کی اچھی بُری باتیں بیان کرتی ہیں، جیسے پورن بنانے والے پروڈیوسرز کا نئے لوگوں کو شکار بنانے کا رویہ، یا پھر پرفارمرز کے درمیان کڑا مقابلہ۔

تھائبرگ کی فلم کا نام اگرچہ پلیژر ہے مگر یہ اس کاروبار کے بارے میں ہی ہے۔ اسے دیکھ کر آپ کو ایسا لگے گا جیسے پورن انڈسٹری کو سرجیکل لائٹس کے نیچے رکھ دیا گیا ہے۔ اور یہ فلم آپ کو بے سکون کرسکتی ہے۔

اس فلم میں پس پردہ پیش آنے والے واقعات کا بھی تذکرہ ہے جن سے عموماً لوگ بے خبر ہوتے ہیں۔ یہ فلم اپنے سے پہلے آنے والی فلموں سے الگ اس لیے ہے کیونکہ اس میں جنسی تعصب، کنسنٹ اور جنسی صدمے جیسے پیچیدہ موضوعات پر بات کی گئی ہے۔

تھائبرگ کی فلم میں جنسی جنون کے خطرے سے ہٹ کر اس انڈسٹری میں لوگوں کی محنت اور اس سے جڑی مشکلات کا حوالہ دیا گیا ہے۔

سیکس ورکرز

،تصویر کا ذریعہMubiUK

پلیژر اور ’گڈ لک ٹو یو، لیو گرانڈے‘ جیسی فلمیں بڑے پردے پر سیکس ورک سے متعلق ایسی کہانیاں بیان کرتی ہیں جو اس سے پہلے کم ہی دیکھی گئی ہیں۔ ایسی کہانیوں میں پُرتشدد بیانیے سے ہٹ کر معاشرے میں بحث چھیڑی جاسکتی ہے اور مختلف آرا ظاہر ہوسکتی ہیں۔ رائٹر کیٹی برانڈ بی بی سی کلچر کو بتاتی ہیں کہ فلم کے پہلے مجوزے میں تو کوئی سیکس سین بھی نہ تھا۔

سیکس ورک کو مثبت انداز میں دکھانے کے لیے اس موضوع پر بحث ضروری ہے جیسے کنسنٹ کے لیے زبانی اظہار کتنا ضروری ہے۔ ہر بار چھونے یا سیکس کی طرف ہر قدم پر ایک مرد بتا سکتا ہے کہ آگے کیا ہونے جا رہا ہے اور اس طرح جنسی تعلق کو محفوظ دائرے میں رکھا جاسکتا ہے۔

برانڈ کا کہنا ہے کہ ’میں چاہتی تھی کہ (فلم) مثبت ہو کیونکہ کئی مثبت کہانیاں بھی موجود ہیں۔ وہ حقیقت پر مبنی اور سچی کہانیاں ہیں۔ اگر لوگ اس میں بے سکونی محسوس کرتے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کی نمائندگی نہیں ہونی چاہیے۔‘

نینسی کے عدم تحفظ میں بھی یہی بے سکونی عیاں ہے۔ شاید انھی تعصبات کی وجہ سے یہ سابقہ ٹیچر ان خیالات کی حامل ہیں۔ لیو کے رویے میں معصومیت جھلکتی ہے اور اداکار ڈیرل میکرمیک اپنی پرفارمنس سے یہی دکھانا چاہتے تھے۔

وہ بی بی سی کلچر کو بتاتے ہیں کہ ’جب میں سیکس ورکرز سے بات کر رہا تھا تو مجھے احساس ہوا کہ ان میں یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ اگلے بندے کے ساتھ توازن بنا لیتے ہیں، جو کہ مجھے لگتا ہے کہ ایک تحفہ ہے۔ یہ کوئی جبلت ہوسکتی ہے یا شاید یہ ایک خاص صلاحیت ہے۔ یہ ایسی چیز ہے جسے آسانی سے سکھایا نہیں جاسکتا۔‘

سیکس ورک کو ایک صلاحیت کے طور پر پیش کرنا حقیقی تبدیلی ہے تاہم اسے مرد سیکس ورکر کے زاویے سے پیش کرنا ایک اچھی پیشرفت ہے۔

ویسٹ وڈ کہتے ہیں کہ ’سیکس ورک کی دنیا پر خواتین، ہم جنس پرست اور ٹرانسجینڈر برادری کا غلبہ ہے۔ اس میں طاقت بظاہر انھی سفید فام مردوں کے پاس ہے جن کے پاس سیکس ورکرز کو دینے کے لیے اضافی آمدن ہے۔ تو یہیں ڈیمانڈ ہے۔‘

کیا فلم اتنی ہی کامیاب ہوگی اگر کرداروں کو صنفی اعتبار سے تبدیل کر دیا جائے؟ یہ سوال بھی اٹھایا جاسکتا ہے کہ آیا فلم الگ تھلگ صنفی رویوں سے ہٹ کر بھی اپنے مخصوص انداز کا تحفظ کر پائیں گی۔

ہدایتکار صوفی ہائیڈ اس سے باخبر ہیں۔ ’جب نوجوان مرد کو معمر خاتون کے ساتھ دکھایا جائے تو اسے اکثر یہ کہہ کر پیش کیا جاتا ہے کہ مرد کو معمر خاتون میں دلچسپی ہے۔ میں اس خیال سے مطمئن نہیں۔ فلمیں بنانے میں مجھے ایک چیز یہ پسند ہے کہ آپ کئی طرح کی طاقتوں اور ان کے آپسی تعلقات کے ساتھ کھیل سکتے ہیں۔

’کوئی نہ کوئی پیسے دے رہا ہے۔ کوئی نہ کوئی خوبصورت اور جوان ہے۔ تو دوسرا شخص ایسی صورتحال میں یہ محسوس کرتا ہے کہ اس کے پاس کوئی طاقت نہیں۔ ڈیرل اور میں الگ الگ نسلوں کے لوگوں کے درمیان تعلقات پر بات کر رہے تھے اور ہم نے سوچا اگر الگ نسل کا سیکس ورکر کمرے میں داخل ہوتا ہے تو طاقت کا دار و مدار کہاں ہوگا۔ یہ چیزیں فلم کی کہانی کا حصہ تو نہیں مگر کرداروں کے لیے ان باتوں کو ہر وقت دیکھنا ضروری ہوتا ہے۔‘

یہ واضح ہے کہ جیسے جیسے فلموں کی کہانیاں حقیقت کے قریب ہوتی جا رہی ہیں تو سیکس ورکرز کی مدد سے مختلف کہانیاں سامنے آ رہی ہیں۔ مزائی کا کہنا ہے کہ ’ہمیں سیکس ورکرز کی شمولیت درکار اور انھیں سیکس ورکر سے ہٹ کر دیکھنے کی بھی ضرورت ہے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’کئی لوگ ایسے لوگوں کی کہانیاں سننے کے لیے انھیں پیسے دیتے ہیں مگر اسے شامل نہیں کرتے۔ اس طرح تو کام نہیں چلے گا۔ کسی کے تجربے سے سیکھنا اور سمجھنا آھ کو گہرائی میں لے جاتا ہے کیونکہ وہ آپ سے اس بارے میں بہتر علم رکھتے ہیں۔‘