بلیک نارسیسس: راہباؤں کی زندگیوں کے پوشیدہ جنسی پہلوؤں پر مبنی دنیا کی ’پہلی ہیجان انگیز فلم‘

،تصویر کا ذریعہAlamy
- مصنف, نیل آرمسٹرانگ
- عہدہ, بی بی سی کلچر
کوہ ہمالیہ کے پہاڑی سلسلوں میں رہنے والی راہباؤں کی ذہنی کشمکش کے بارے میں سنہ 1930 کے عشرے میں لکھے جانے والے ایک ناول اور چند برس بعد اس پر بننے والی مشہور مگر متنازع فلم کے بارے میں شاید آپ نے سن رکھا ہو۔ اب وہی ناول ایک ٹی وی سیریز کی شکل میں منظر عام پر آنے والا ہے۔
اس تحریر میں رومر گوڈن کے لکھے ہوئے ناول کے ان قدرے پوشیدہ جنسی پہلوؤں پر نظر ڈالی گئی ہے جنھیں جب فلم کی صورت میں اجاگر کیا گیا تو اس پر خاصی لے دے ہوئی تھی۔
’یہ راہبائیں اکتوبر کے آخری ہفتے میں دارجیلنگ سے روانہ ہوئیں۔ ان کی منزل موپو تھی جہاں انھوں نے باقی عمر جنرل کے محل میں گزارنا تھی جسے اب کانونٹ آف سینٹ فیتھ کا نام دیا گیا تھا۔‘
رومر گوڈن کے سنہ 1939 میں شائع ہونے والے ناول ’بلیک نارسیسس' کے اس پہلے معصومانہ فقرے میں ایسی کوئی بات نہیں تھی جسے پڑھ کر آپ یہ سوچتے کہ جب اس ناول پر کوئی فلم بنے گی تو نہ صرف سینسر حکام کی قینچی اس میں سے بہت کچھ نکال دے گی بلکہ اس فلم پر پابندی بھی لگا دی جائے گی۔ حتیٰ کہ دنیائے فلم کے ایک عظیم ہدایتکار مارٹن سکورسیسی اسے دنیا کی ’پہلی ہیجان انگیز فلم‘ قرار دے دیں گے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ فلم ایک برطانوی ڈائریکٹر مائیکل پاول اور ہنگری میں پیدا ہونے والے ادیب اور پروڈیوسر ایمرک پریسبرگر نے مل کر بنائی تھی۔ ان دونوں نے برطانیہ کی فلمی صنعت کو کئی شاہکار فلمیں دیں تاہم ان کی سب سے زیادہ پسند کی جانے والی فلم بلیک نارسیسس ہی ٹھہری۔
اب بی بی سی اور ایف ایکس کے اشتراک سے اس کہانی کی نئی ڈرامائی تشکیل کر کے اسے چھوٹی سکرین پر پیش کیا جا رہا ہے۔ اس سیریز میں مرکزی کردار جیما ایتھرٹن اور ایسلِنگ فرینکوزی نے نبھائے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAlamy
بلیک نارسیسس سے پہلے گوڈن دو اور ناول لکھ چکی تھیں لیکن ان کا تیسرا ناول بڑی تعداد میں فروخت ہوا اور نقادوں نے اس ناول کی ’بے مثال خوبصورتی‘ اور اس کی تازگی کو بہت سراہا تھا۔
گوڈن کی پیدائش برطانیہ میں ہوئی تھی اور وہ سنہ 1998 میں 90 برس کی عمر میں دنیا سے کوچ کر گئی تھیں۔ انھوں نے اپنا زیادہ تر بچپن ہندوستان میں گزارا تھا جہاں ان کے والد بھاپ سے چلنے والے بحری جہازوں کی ایک کمپنی چلاتے تھے۔ گوڈن 60 سے زیادہ کتابوں کی مصنف تھیں جن میں سے کئی ایک پر فلمیں بن چکی ہیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی شہرت ماند پڑ گئی تھی۔
بلیک نارسیسس کو گوڈن کی بہترین تصنیف سمجھے جانے کی ایک وجہ اس پر سنہ 1947 میں بنائی جانی والی فلم اور اس کی کامیابی تھی۔ یہ ناول اصل میں کہانی ہے اینگلو کیتھولک فرقے کی راہباؤں کے ایک چھوٹے سے گروہ کی جنھیں ہمالیہ کے پہاڑوں میں آٹھ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ایک گاؤں میں بھجوا دیا گیا تھا۔
ان راہباؤں کا کام اس دور دراز علاقے میں مقامی لوگوں کے لیے ایک سکول اور ڈسپنسری یا دواخانہ قائم کرنا تھا، چاہے مقامی لوگ اس پر راضی ہوں یہ نہ ہوں۔
اس گروپ کی انچارج ایک ناتجربہ کار مگر خود کو بڑی شے سمجھنے والی راہبہ سِسٹر کلوڈگ کو بنایا جاتا ہے۔ اس گروپ میں ایک دوسرا کردار سسٹر رُوتھ بھی ہوتی ہیں جو بہت حساس ہوتی ہیں اور ہر چھوٹی بات پر پریشان ہو جاتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAlamy
ناول میں کہانی کے جنسی پہلوؤں کو زیادہ اجاگر نہیں کیا گیا ہے لیکن جب مائیکل نے یہ ناول پڑھا تو انھیں محسوس ہوا کہ ناول کی خوبصورت نثر میں لپٹے ہوئے ان احساسات کو جب فلم کے رنگ میں ڈھالا جائے گا تو یہ انتہائی جنسی اور ہیجان انگیز انداز میں سامنے آئیں گے۔
ان راہباؤں کا مسکن جرنیلی محل ایک نہایت ہی گہری کھائی کے بلند ترین مقام پر واقع ہوتا ہے جہاں ہر وقت تیز ہوائیں چلتی رہتی ہیں۔ مقامی لوگ اس محل کو ’عورتوں کے گھر‘ کے نام سے جانتے تھے کیونکہ ماضی میں یہ محل علاقے کے حکمران کی خلوت گاہ ہوا کرتا تھا جہاں وہ عورتوں کے ساتھ وقت گزارتا تھا۔
کئی سال گزر جانے کے باوجود لگتا تھا کہ محل میں ان کی بدروحیں چل پھر رہی ہیں۔ ہو سکتا ہے یہاں کی فضا پُرلطف ہو مگر اس میں گزرے وقت کی کثافتیں بھی موجود تھیں۔

،تصویر کا ذریعہFX
یہ راہبائیں اس نیم خالی محل میں جس قدر زیادہ وقت گزارتی ہیں، ان کے مذہبی خیالات دھندلانے لگتے ہیں اور وہ دنیاوی خواہشات کی طرف راغب ہونے لگتی ہیں۔
ایک راہبا پر پھول اگانے کی دھن سوار ہو جاتی ہے اور وہ سبزیوں کی جگہ پھولوں کے پودے لگانے لگتی ہے۔ ایک اور راہبا، جو بچوں کی دیکھ بھال کی ماہر ہوتی ہے، اس میں خود اپنے بچے پیدا کرنے کی خواہش زور پکڑنے لگتی ہے۔ سسٹر کلوڈگ کو اپنے جوانی کے معاشقے کی یاد پریشان کرنے لگتی ہے جبکہ سسٹر رُوتھ کا ہیجان بھی بڑھنے لگتا ہے اور وہ ایک انگریز کی ہوس میں مبتلا ہو جاتی ہیں جو اسی گاؤں میں رہ رہا ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ دوسرے کرداروں کی دبی ہوئی جنسی خواہشات بھی سر اٹھانے لگتی ہیں اور اشرافیہ سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان، جس کی تربیت کی ذمہ داری ان راہباؤں کے ذمے ہوتی ہے، وہ گاؤں کی کانچی نامی ایک خوبصورت لڑکی سے معاشقہ لڑانے لگتا ہے۔ اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے تمام کرداروں کی دبی ہوئی خواہشات محل اور اس کے گرد و نواح میں طوفان برپا کر دیتی ہیں اور ان کی خواہشات کے آگے بندھا ہوا بند ٹوٹ جاتا ہے۔
کہانی میں مصالے کا اضافہ
جیسا کہ پاول نے اپنی یادداشتوں میں لکھا ہے، ناول میں کہانی کے جنسی پہلوؤں کو زیادہ اجاگر نہیں کیا گیا تھا، لیکن جب مائیکل پاول نے یہ ناول پڑھا تو انھیں محسوس ہوا کہ ناول کی خوبصورت نثر میں لپٹے ہوئے ان احساسات کو جب فلم کے رنگ میں ڈھالا جائے گا تو یہ انتہائی جنسی اور ہیجان انگیز انداز میں سامنے آئیں گے۔
پاول بتاتے ہیں کہ ناول پڑھنے کے بعد ان کے ساتھی فلمساز پریسبرگر ناول نگار گوڈن کو کھانے پر ملے اور انھیں فلم بنانے کے منصوبے کا بتایا۔ انھوں نے گوڈن کو بتایا کہ وہ کہانی کے قدرے پوشیدہ جنسی پہلوؤں کو اپنی فلم میں زیادہ اجاگر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
جب سنہ 1946 میں پاول اور پریسبرگر نے فلم کے منصوبے پر کام شروع کیا تو اس سے پہلے وہ ایک کامیاب ٹیم کے طور پر مشہور ہو چکے تھے اور ’لائف اینڈ ڈیتھ آف کرنل بلِمپ‘ اور ’کینٹربری ٹیل‘ جیسی کامیاب فلمیں بنا چکے تھے۔
انھوں نے فوراً ہی فیصلہ کر لیا کہ اپنی نئی فلم کو ہندوستان میں فلمانا ایک مشکل اور مہنگا کام ہوگا۔ چنانچہ اپنے دوستوں کے مشورے سے انھوں نے اسے برطانیہ میں سٹوڈیو میں ہی فلمانے کا منصوبہ بنایا اور اس مقصد کے لیے مغربی سسیکس کے علاقے کا انتخاب کر لیا۔

،تصویر کا ذریعہFX
فلم کا ایک شاہکار بننے تک کا سفر
برطانوی شائقین نے اس فلم کو پسند کیا جبکہ اس کے بارے میں نقادوں کی رائے کچھ زیادہ اچھی نہ تھی اور بعض کو تو فلم بالکل پسند نہیں آئی۔ ناول نگار رُومر گوڈن کو یہ فلم ایک آنکھ نہ بھائی۔ ان کے انتقال پر شائع ہونے والے ایک مضمون میں کہا گیا کہ گوڈن فلم سے شدید نالاں تھیں اور انھوں نے کہا تھا کہ ’فلم میں ہر شے جعلی لگ رہی تھی اور ہمالیہ کے مناظر دکھانے کے لیے محض اونچے اونچے ڈنڈوں پر ململ کے تھان لٹکا دیے گئے تھے۔‘
امریکہ میں کیتھولک حلقوں کی نمائندہ تنظیم بھی اس فلم سے خوش نہیں ہوئی۔ امریکہ میں اس پر اتنی لے دے ہوئی کہ سینسر والوں نے سسٹر کلوڈگ کی راہبانہ زندگی سے پہلے کے عشق کے مناظر اور کچھ دوسرے سین کاٹ دیے۔ شروع میں آئرلینڈ میں بھی اس فلم پر پابندی لگا دی گئی تھی اور وہاں کے سینسر حکام کا کہنا تھا کہ پوری فلم میں ایک جنسی ماحول دکھایا گیا ہے جسے دیکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ فلم میں راہباؤں کی زندگی کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے اور اس کا مذاق اڑایا گیا ہے۔
پھر سنہ 1970 کے عشرے میں اس فلم کا از سر نو جائزہ لیا گیا اور اب اسے ایک شاہکار فلم سمجھا جاتا ہے۔ مارٹن سکورسیسی کہتے ہیں کہ انھیں مائیکل پاول اور پریسبرگر کی فلمیں بچپن سے ہی پسند تھیں۔ ان کے بقول وہ فلم شروع ہونے سے پہلے پردے پر جیسے ہی ان دو فلمسازوں کا نام دیکھتے تو انھیں یقین ہو جاتا کہ فلم دیکھنے کا مزا آئے گا۔ مارٹن سکورسیسی نے بلیک نارسیسس کو دنیا کی صحیح معنوں میں پہلی ’ہیجان انگیز‘ فلموں، میں سے ایک قرار دیا تھا۔
ٹی وی کے لیے بنائی جانے والی سیریز میں سنہ 1947 والی فلم کے آخری ہیجان انگیز مناظر کو ایک نئے انداز سے پیش کیا گیا ہے۔ ایک نقاد کے بقول یہ فلم جن لوگوں کو پسند ہے وہ دیکھنا چاہیں گے کہ کچھ مناظر کو اس مرتبہ کس انداز میں فلمبند کیا گیا ہے۔








