کورونا وائرس: وبا کے دنوں میں گھر سے کام، ملازمت کی جگہ پر دوستیاں کیوں ضروری ہیں؟

دوستی، آفس،

،تصویر کا ذریعہAlamy

زیادہ پرانی بات نہیں، کچھ عرصہ پہلے تک ہی ایک وقت تھا جب دفتر کے ساتھیوں کے ساتھ روز روز کھانے پر باہر جانا اتنا ہی عام اور معمولی کام تھا جتنا کہ صبح کی میٹنگز یا شام کو گھر واپسی۔ مگر کورونا کی وبا کے دوران گھروں پر رہ کر اکیلے کھانا کھا کھا کر دفتر کے دوستوں کے ساتھ کھانا کھانے کا تصور بھی پہلے سے کہیں زیادہ پرجوش لگنے لگا ہے۔

اب جبکہ ہم اپنے ڈائننگ ٹیبل سے کام کر رہے ہیں تو ہمارے کئی ساتھیوں کے ساتھ ہمارے تعلقات میں سرد مہری آتی جا رہی ہے۔

یہ ایسی چیز ہے جس کے اپنے مثبت پہلو بھی ہیں: آفس کے دوستوں سے دوری کا مطلب ہے کہ پہلے جو لوگ مخصوص حلقے سے باہر تھے، اب انھیں ’مخصوص حلقے‘ میں شامل ہونے کا موقع مل سکے گا،یا یہ بھی کہ اب شاید کوئی مخصوص حلقہ رہا ہی نہیں ہے۔

مگر آفس کے دوستوں سے دور رہنے کے بھی اپنے نقصانات ہیں۔ ماہرین کی تجویز ہے کہ ویسے تو کام کی جگہوں کی دوستیاں کافی نازک ہوتی ہیں مگر یہ ان دوستیوں میں سے ہیں جن کا ہماری مجموعی خوشی پر بہت زیادہ اثر ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

گھر سے کام نے ہمارے دفتری تعلقات کی نوعیت کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ نہ صرف یہ کہ ہم ان دوستیوں کو قائم رکھ سکتے ہیں اور نئی دوستیاں بھی بنا سکتے ہیں بلکہ ہمیں ایسا کرنا بھی چاہیے لیکن چونکہ اب زیادہ تر دفاتر آن لائن کام کر رہے ہیں اس لیے یہ کہنے سے زیادہ مشکل ہے۔

آسانی کی وجہ سے دوستیاں

کتاب دی بزنس آف فرینڈشپ کی مصنف شاستہ نیلسن کہتی ہیں: ’دفتر وہ اولین جگہ ہے جہاں ہم دوست بناتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ ایسی جگہ ہے جہاں سب سے زیادہ دوستیاں ختم ہوتی ہیں کیونکہ لوگ ملازمت تبدیل کر لیتے ہیں۔‘

نوجوان

،تصویر کا ذریعہAFP

دفتر سے باہر شروع ہونے والی دوستیاں زیادہ پائیدار اور مضبوط ہوتی ہیں کیونکہ ان کی بنیاد کئی مشترکہ دلچسپیوں اور ایک دوسرے کے بارے میں گہری ذاتی معلومات پر قائم ہوتی ہے۔ اس کے برعکس دفتر کی دوستیاں اکثر کمزور ہوتی ہیں کیونکہ ان کی بنیاد زیادہ تر معاملات میں صرف مشترکہ حالات اور ہلکی پھلکی ملاقاتوں پر ہوتی ہے۔

نیو یارک کی یونیورسٹی آف ایلبانی میں نفسیات کی اسسٹنٹ پروفیسر ہو کوان چیونگ کے نزدیک دفتری ساتھیوں کے ساتھ دوستیاں ’آسانی کی بنیاد پر قائم ہونے والی دوستیاں ہوتی ہیں کیونکہ انھیں اور کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ یہ وہ دوست ہوتے ہیں جن سے آپ چائے یا کھانے کے وقفے کے دوران بات کرتے ہیں۔ وہ لوگ جو ہمیشہ آپ کے لیے دستیاب ہوتے ہیں کیونکہ ان کی ڈیسک آپ کے ساتھ ہی ہوتی ہے۔‘

اور اب چونکہ گھر پر کام کرنے کی وجہ سے ہمارا یہ میل جول ختم ہو چکا ہے، اس لیے کام کی جگہوں پر بنائی گئی کئی دوستیاں ختم ہو رہی ہیں اور حالیہ مہینوں کے دوران انھیں ورچوئل بنیادوں پر قائم رکھنا لوگوں کی اولین ترجیح نہیں رہی ہے۔

نیلسن کہتی ہیں ’اگر آپ ایک ساتھ رہنے کا کوئی نیا طریقہ نہیں ڈھونڈتے تو کام کی جگہوں پر بنائی گئی دوستیاں مشترکہ حالات نہ رہنے کی وجہ سے بہت جلدی ختم ہو جاتی ہیں۔ اب تک چھ ماہ ہو چکے ہیں مگر اب بھی زیادہ تر لوگوں کو لگتا ہے کہ گھر سے کام کرنا عارضی ہے، اس لیے ہم ان دوستیوں کو قائم رکھنے کے لیے زیادہ محنت نہیں کر رہے۔ مجھے لگتا ہے کہ زیادہ تر لوگ یہ سوچ نہیں اپنا سکے ہیں کہ ’اچھا، اگر میں چاہتا ہوں کہ یہ دوستی جاری رہے تو مجھے اس کے لیے کوشش کرنی ہوگی۔‘

خاتون

،تصویر کا ذریعہGetty Images

خوشی اور بہتر کارکردگی

چیونگ کے نزدیک دفتری دوستیوں کو قائم رکھنے کے لیے کوشش کرنے کی اس وقت بہت ضرورت ہے۔ ان کی تحقیق کام کی جگہوں پر امتیازی سلوک اور ملازمین کی فلاح و بہبود سے متعلق ہے۔

وہ کہتی ہیں ’یہ دوستیاں توجہ نہیں بانٹتیں۔ ہم میں سے کافی لوگوں کی سماجی ضروریات کام کی جگہ پر بنائی گئی ان دوستیوں سے پوری ہوتی ہیں۔ ان دوستیوں سے لوگوں کو کام کی جگہ پر اپنائیت کا احساس ہوتا ہے۔ کبھی کبھی لوگ سمجھتے ہیں کہ جب آپ اِن دوستوں کے ساتھ وقت گزار رہے ہیں تو آپ کچھ کام نہیں کریں گے مگر تحقیق سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ملازمین کی خوشی سماجی میل جول پر منحصر ہے۔‘

ملازمین کی خوشی کے ساتھ ساتھ ان کی بہتر کارکردگی کا بھی اس پر انحصار ہے۔ امریکہ، جرمنی اور انڈیا میں 12 ہزار سے زائد ملازمین کے سروے میں بوسٹن کنسلٹنگ گروپ نامی فرم نے پایا کہ وبا کے دوران گھر سے کام کرنے والے نصف سے زائد جواب دہندگان نے اُن کاموں کے حوالے سے اپنی کارکردگی میں گراوٹ کا تذکرہ کیا جس میں انھیں دوسروں کے ساتھ مل کر کام کرنا پڑتا ہے، مثلاً ٹیم ورک یا پھر کلائنٹس کے ساتھ ملاقاتیں۔

اس تجزیے میں کارکردگی اور سماجی تعلقات کے درمیان براہِ راست تعلق پایا گیا۔

وہ لوگ جنھوں نے کہا کہ گھر سے کام کرنے کی وجہ سے وہ دوستوں سے کم تعلق محسوس کر رہے ہیں، ان میں سے 80 فیصد نے یہ بھی کہا کہ انھیں اپنی کارکردگی میں گراوٹ محسوس ہو رہی ہے۔

کام کی جگہ پر دوستوں کے کسی گروہ کا حصہ ہونے سے اپنے کام کے بارے میں بھی مثبت جذبات پیدا ہوتے ہیں۔

امریکی ملازمین کے ایک گیلپ سروے میں حصہ لینے والے جن نصف سے زیادہ لوگوں نے بتایا کہ ان کے کام کی جگہ پر سب سے بہترین دوست ہیں، انھوں نے اپنے کام سے جذباتی تعلق ہونے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ انھیں اپنی کمپنی سے مضبوط تعلق محسوس ہوتا ہے۔ کام کی جگہ پر قریبی دوست نہ رکھنے والے صرف 10 فیصد لوگوں نے ہی ایسا کہا۔

چیونگ کہتی ہیں ’کام کی جگہوں پر دوستیاں ملازمت سے مطمئن ہونے کے لیے بہت ضروری ہیں اور ویسے تو ملازمت سے مطمئن ہونا بہتر کارکردگی کی پیشگوئی نہیں کر سکتا مگر آپ کا کام تعلقات پر جتنا زیادہ منحصر ہو آپ کی کارکردگی اتنی بہتر ہو گی۔ اس کی ایک مثال تخلیقی لکھائی یا ایسا کوئی بھی کام ہے جس میں مسائل کا تخلیقی حل ڈھونڈنا پڑتا ہے۔ جب آپ اپنے کام سے مطمئن ہوں اور اپنے ساتھیوں سے میل جول پسند کرتے ہوں تو یہ آپ کی تخلیقی صلاحیتیں نکھرتی ہیں اور آپ دوسروں کے ساتھ مل کر بہتر انداز میں کام کر سکتے ہیں۔‘

دوستی، آفس،

،تصویر کا ذریعہAlamy

سنہ 2016 میں جریدے پرسونیل سائیکولوجی میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں رٹگرز یونیورسٹی کی پروفیسر جیسیکا میتھوٹ کی قیادت میں محققین کے ایک گروہ نے یہ دکھایا کہ کیسے دفتری ساتھیوں کے وہ گروہ جو ایک دوسرے کو دوست تصور کرتے ہیں، کارکردگی کے جائزوں میں بہتر سکور حاصل کرتے ہیں۔

محققین نے اس کی کئی ممکنہ توجیہات پیش کیں: اس بات کا زیادہ امکان ہوتا ہے کہ لوگ دوست سمجھے جانے والے ساتھیوں سے مدد اور مشورہ لیں۔ غیر رسمی نیٹ ورکس سے معلومات کا تبادلہ زیادہ مؤثر اور مجموعی حوصلہ بلند رہتا ہے۔

مختصراً کہیں تو اپنے ساتھیوں سے اپنائیت کا احساس آپ کو آپ کے کام میں بہتر بناتا ہے اور وبا کے دوران ان دوستیوں کو ختم ہونے دینا آپ کے کام پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

حلقہ ختم ہونا عین برا بھی نہیں

لیکن اس بات کی بھی ایک وجہ ہے کہ لفظ ’حلقہ‘ یا ’گروہ‘ سُن کر کالج کی خودپسند لڑکیوں کا گروہ ذہن میں آتا ہے۔ ویسے تو ملازمت کی جگہ پر دوستوں کے گروہ کا حصہ ہونے کے فوائد پر کافی کام ہو چکا ہے مگر ان دوستیوں کے نقصانات بھی ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ بہرحال اگر کوئی حلقہ وجود رکھتا ہے تو اس میں کچھ لوگ شامل ہوں گے جبکہ کچھ لوگ اس سے باہر ہوں گے۔

سنہ 2018 میں یونیورسٹی آف پینسلوینیا کے وارٹن سکول آف بزنس کے محققین نے ایک تحقیقی مطالعے میں لکھا: ’کوئی بھی شخص جو سکول کی کینٹین میں موجود سماجی پیچیدگیاں سہہ چکا ہے وہ اس بات سے ضرور اتفاق کرے گا کہ قریبی اور صرف چند لوگوں تک محدود حلقے الگ تھلگ چھوڑ دیے جانے کا تاثر مضبوط کرتے ہیں۔ دوسروں کی دوستیوں کے بارے میں یہ آگاہی اس حلقے سے باہر موجود لوگوں کے لیے تباہ کن ہو سکتی ہے اور اس کے دفتر کے کام پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔‘

اس لیے ویسے تو مخصوص حلقے ان حلقوں میں شامل لوگوں کے لیے تو اچھے ہوتے ہیں مگر وہ لوگ جو اس گروہ سے دور رکھے جاتے ہیں یا ٹھکرایا ہوا محسوس کرتے ہیں، وہ انھی فوائد سے لطف اندوز نہیں ہوتے۔

یہ اس وقت اور بھی زیادہ پریشان کُن ہو جاتا ہے جب آپ اُن لوگوں کو مدِ نظر رکھیں جنھیں سب سے زیادہ اکیلا چھوڑا جاتا ہے۔ چیونگ بتاتی ہیں کہ کیسے یکساں نسلی اور ثقافتی پس منظر رکھنے والوں کے درمیان فوراً حلقے بنتے ہیں اور اگر دفتر اس حوالے سے متنوع نہیں تو اس کا مطلب ہے کئی لوگ دیوار سے لگایا گیا محسوس کریں گے۔ ’ہم جانتے ہیں کہ تعلقات بنانے کے زیادہ تر مواقع مثلاً لنچ یا ہیپی آور میں اقلیتی افراد اور خواتین کو نہیں بلایا جاتا۔‘

ہوسکتا ہے کہ گھر سے کام کرنا ان حلقوں کو ختم کر رہا ہو مگر اس کی وجہ سے ان لوگوں کو بھی دوستیاں بنانے کے زیادہ مواقع مل سکتے ہیں جو ماضی میں سماجی طور پر تنہائی کے شکار رہے ہیں۔ ’اب یہ دلچسپ ہے کیونکہ [لنچ اور ہیپی آور] اب ماضی کا قصہ بن چکے ہیں۔ ہر کوئی گھر پر ہے اور اس کی وجہ سے میدان سب کے لیے ہموار ہو چکا ہے۔‘

ظاہر ہے کہ گھر سے بیٹھ کر یہ دوستیاں بنانا بھی کوئی آسان کام نہیں۔ گھر سے کام کرنے کی وجہ سے ہم وہ کئی غیر رسمی میل جول اور لمحات گنوا چکے ہیں جو بعد میں چل کر دوستی کی وجہ بنتے ہیں۔ چیونگ کہتی ہیں کہ ویسے تو اس کا مطلب ہے کہ ’کسی کو بھی تنہا نہیں چھوڑا گیا لیکن اب تعلقات کا قائم ہونا یا قائم رہنا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔‘

دوستی، آفس،

،تصویر کا ذریعہAlamy

شروع میں تھوڑا عجیب لگے گا

لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ کام کی جگہ پر آپ کی دوستیاں اب ختم ہو چکی ہیں یا آپ اب ’مشہور‘ ساتھیوں میں سے نہیں رہیں گے۔ وبا کے بعد کی دنیا کی زیادہ تر چیزوں کی طرح اپنے ساتھیوں کے ساتھ آپ کے تعلقات بھی کچھ نئی حکمتِ عملی کے متقاضی ہیں۔

نیلسن کہتی ہیں کہ دوستیوں کا ایک فارمولا ہوتا ہے جو تین بنیادی عوامل پر منحصر ہے: معمول، مشترکہ خدشات اور مثبت سوچ۔ وہ کہتی ہیں ’آپ کو کوئی دوستی قائم کرنے کے لیے یہ تینوں چیزیں درکار ہوتی ہیں۔ ملازمت کی جگہ نے ہمیں استحکام کا عنصر فراہم کیا۔ ہمیں کسی کو بھی گھر سے دفتر بلانا نہیں پڑتا تھا اس لیے روزانہ ایک دوسرے کو دیکھنے کا مستقل معمول ہماری زندگیوں میں گُندھ چکا تھا۔ اور ایک دوسرے کو جاننے (مشترکہ خدشات) اور ایک دوسرے کی صُحبت سے لطف اندوز ہونے (مثبت سوچ) سے ہماری دوستیاں قائم ہوئیں۔‘

نیلسن کہتی ہیں کہ اب بھی اپنے ساتھیوں کے ساتھ ایک مضبوط سماجی زندگی گزارنا ممکن ہے ’مگر اب آپ کو اس بارے میں دانستہ کوشش کرنی پڑے گی۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ کو دوستوں سے ملنے کا معمول خود بنانا پڑے گا، چاہے یہ روزانہ کھانے کے وقت پر اپنے دفتری دوست کے ساتھ فون کال کرنا ہو یا ہفتہ وار تعطیل کے بارے میں زوم پر گفتگو کرنا ہو۔‘

چیونگ کہتی ہیں کہ آفس میں چائے بناتے ہونے والی گفتگو جیسے لمحات بھی ورچوئل انداز میں پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں ’کبھی کبھی جب آپ دوسرے لوگوں کی زوم میٹنگ میں شمولیت کا انتظار کر رہے ہوں تو جتنے لوگ میٹنگ میں شامل ہیں وہ آپس میں ہلکی پھلکی گفتگو کر سکتے ہیں۔ اس طرح کی غیر رسمی صورتحال تلاش کرنا اور انھیں خود سے پیدا کرنا ممکن ہے، چاہے آپ گھر سے ہی کیوں نہ کام کر رہے ہوں۔ اس کے لیے ایک علیحدہ چیٹ گروپ بنایا جا سکتا ہے۔‘

اور جہاں تک کسی حلقے میں شمولیت کے موقعے سے فائدہ اٹھانے کی بات ہے تو وہ کہتی ہیں کہ کسی ساتھی سے غیر رسمی بات چیت جیسا چھوٹا سا کام بھی بہترین فائدے دے سکتا ہے۔ نیلسن کے مطابق: ’جب لوگ بالکل گھڑی کے ساتھ نہیں چل رہے، تو ایسے وقتوں میں یہ نئے تعلقات قائم کرنے کا طریقہ ہے۔‘

وہ میل جول جو ذاتی محسوس ہو، مثلاً وبا کے دوران بیکنگ کے بارے میں بات کرنا یا مزاحیہ ٹک ٹاک ویڈیوز کے لنک شیئر کرنے جیسے کام ’لوگوں کو اپنائیت کا احساس دلاتے ہیں۔‘

وہ کہتی ہیں ’یہ زبردستی کیا جانے والا کام محسوس ہو سکتا ہے مگر جب لوگ دوسروں کے سامنے کُھلنا شروع ہوتے ہیں تو اس سے لوگ نظروں میں آتے ہیں، ایک دوسرے کی قدر بڑھتی ہے اور ہم ایک دوسرے سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ ہمیں یہ جاننا ہو گا کہ دوستیاں بس ایسے ہی نہیں بن جاتیں۔ آپ صرف اپنے کام پر توجہ دیے رکھ کر یہ توقع نہیں کر سکتے کہ آپ لوگوں سے قربت محسوس کریں گے۔ ہاں یہ تھوڑا عجیب محسوس ہو سکتا ہے مگر تعلقات کی صحت، کام پر کارکردگی اور مجموعی خوشی اس ’عجیب سے احساس‘ سے بڑھ کر ہے۔‘