BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 20 February, 2009, 01:27 GMT 06:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان،ٹیسٹ کرکٹ کی واپسی

پاکستان نے آخری ٹیسٹ چودہ ماہ قبل بنگلور میں ہندوستان کے خلاف کھیلا تھا
پاکستان اور سری لنکا کی کرکٹ ٹیمیں ہفتے سے پہلے کرکٹ ٹیسٹ میں مدمقابل ہورہی ہیں۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے لئے کراچی ٹیسٹ اس اعتبار سے اہمیت کا حامل ہے کہ وہ چودہ ماہ بعد ٹیسٹ میچ کھیل رہی ہے۔ اس نے آخری ٹیسٹ دسمبر2007ء میں بھارت کے خلاف بنگلور میں کھیلا تھا جبکہ پاکستانی سرزمین پر سولہ ماہ بعد کھیلا جانے والا یہ پہلا ٹیسٹ ہے۔ اس کا سبب غیرملکی ٹیموں کا پاکستان میں کھیلنے سے انکار ہے۔

پاکستانی ٹیم قیادت میں تبدیلی کے ساتھ میدان میں اترے گی۔

سری لنکا کے خلاف ون ڈے سیریز کی شکست کے بعد شعیب ملک سے کپتانی لے کر یونس خان کے سپرد کردی گئی ہے جو خود کو بااختیار کپتان کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کی وضع کردہ پالیسی کے تحت ہوم سیریز میں حتمی گیارہ رکنی ٹیم منتخب کرنے کا اختیار کپتان کو دیا گیا ہے اسی بنا پر یونس خان کا خیال ہے کہ جب جیت ہار کی تمام ذمہ داری کپتان پر عائد ہونی ہے تو انہیں سلیکشن کے سلسلے میں اختیارات ہونے چاہئیں۔

پاکستانی سلیکٹرز نے جن پندرہ کھلاڑیوں کے ناموں کا اعلان کیا ہے ان میں دو نئے کھلاڑی سولہ سالہ فاسٹ بولر محمد طلحہ اور اوپنر احمد شہزاد پہلی بار سینئر ٹیم میں منتخب ہوئے ہیں۔

فواد عالم، سہیل خان اور خرم منظور بھی ٹیسٹ نہیں کھیلے البتہ وہ ون ڈے انٹرنیشنل میں پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں۔

مڈل آرڈر بیٹسمین عاصم کمال کی تین سال بعد ٹیم میں واپسی ہوئی ہے۔
سلیکٹرز نے چودہ ماہ قبل بنگلور ٹیسٹ کھیلنے والے فیصل اقبال اور یاسر عرفات کو بھی اسکواڈ میں شامل کیا ہے ۔

یاسر عرفات اس فرسٹ کلاس سیزن میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اکتالیس وکٹیں حاصل کرچکے ہیں۔

پاکستانی ٹیم کے کوچ انتخاب عالم کا کہنا ہے کہ پہلے ٹیسٹ میں دونوں ٹیموں کے کامبی نیشن میں زیادہ فرق نہیں ہوگا۔سری لنکا کی ٹیم دو تیز بولرز اور دو اسپنرز کے ساتھ کھیلے گی جبکہ پاکستانی ٹیم میں تین تیز اور ایک اسپنر شامل ہونگے۔

انتخاب عالم کا کہنا ہے کہ دانش کنیریا اگر ایک سال سے ٹیسٹ کرکٹ نہیں کھیلے تو اس کا ان کی کارکردگی پر اثر نہیں پڑنا چاہئے کیونکہ وہ دوسو سے زائد وکٹیں حاصل کرچکے ہیں اور ایک تجربہ کاربولر ہیں۔یہی وقت ہے کہ وہ اپنے آپ کو ایک بہترین بولر ثابت کریں۔

انتخاب عالم نے غیرمتاثر کن کارکردگی کے باوجود وکٹ کیپر کامران اکمل کے سلیکشن کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ درست ہے کہ انہوں نے ون ڈے سیریز کے بعد اپنی رپورٹ میں جو بعد میں سینٹ کی اسپورٹس کمیٹی میں بھی پیش کی گئی کامران اکمل کی جگہ سرفراز احمد کو موقع دینے کی بات کہی تھی لیکن کامران اکمل کو یکسر نظرانداز بھی نہیں کیا جاسکتا کیونکہ بحیثیت بیٹسمین اس نے کئی مواقع پر پاکستانی ٹیم کو شکست سے بچایا بھی ہے اور میچ بھی جتوائے ہیں۔

سری لنکن ٹیم ایک بڑے اسکور کے لئے کپتان جے وردھنے، کمارسنگاکارا، سمارا ویرا اور دلشن سے توقع رکھے ہوئے ہے جبکہ چمندا واس ۔ مرلی دھرن اور اجانتھا مینڈس پاکستانی بیٹنگ کے لئے بڑا خطرہ ہیں۔

پاکستانی بیٹسمینوں کے لئے جو چودہ ماہ سے صرف ون ڈے یا ٹوئنٹی ٹوئنٹی کھیلتے رہے ہیں طویل دورانئے کی کرکٹ میں خود کو تیزی سے ڈھالنا کسی امتحان سے کم نہ ہوگا۔

سری لنکن کپتان جے وردھنے یہ ماننے کے لئے تیار نہیں کہ اجانتھا مینڈس کا جادو ختم ہوچکا ہے۔ جے وردھنے جن کی کپتان کی حیثیت سے یہ آخری ٹیسٹ سیریز ہے کہتے ہیں کہ مینڈس باصلاحیت بولر ہے اور اس کے لئے چیلنج ہے کہ وہ بیٹسمینوں پر حاوی ہونے کے نئے طریقے تلاش کرے ۔اس کی خوش قسمتی ہے کہ مرلی دھرن جیسا تجربہ کار بولر اس کی رہنمائی کے لئے موجود ہے۔

مختلف ورائٹی کی گیندوں سے بیٹسمینوں کو پریشان کرنے والے مینڈس نے بھارت کے خلاف اپنی پہلی ہی ٹیسٹ سیریز میں 26 وکٹیں حاصل کی تھیں جو کسی بھی بولر کی اپنی اولین تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں بہترین کارکردگی تھی اس کے علاوہ وہ ون ڈے انٹرنیشنل میں سب سے کم میچوں میں وکٹوں کی نصف سنچری مکمل کرنے والے بولر بنے تھے لیکن گزشتہ ون ڈے سیریز میں وہ بھارتی بیٹسمینوں پر خاص تاثر چھوڑنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔

سری لنکن ٹیم سولہ سال سے پاکستان میں ٹیسٹ نہیں ہاری ہے۔

آخری مرتبہ اسے92-1991ء میں عمران خان کی قیادت میں پاکستانی ٹیم نے ایک صفر سے شکست دی تھی جس کے بعد سے وہ پاکستان میں دو ٹیسٹ سیریز جیت چکی ہے جبکہ ایک برابر رہی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد