’آنکھ کی دوا،نینڈرلون میں اضافہ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی فاسٹ بولر محمد آصف کا کیس لڑنے والے ڈوپنگ ماہر ڈاکٹر مائیکل گراہم نے دعوٰی کیا ہے کہ محمد آصف کے مثبت ڈوپ ٹیسٹ کی بنیادی وجہ آنکھوں کی دوا کیریٹل بنی جس کے استعمال سے نینڈرلون کی مقدار میں اضافہ ہوگیا۔ واضح رہے کہ محمد آصف کا آئی پی ایل کے دوران ڈوپ ٹیسٹ مثبت پایا گیا تھا اور ہفتے کو ممبئی میں وہ آئی پی ایل کے ڈرگ ٹریبونل میں پیش ہوئے۔ ڈاکٹر مائیکل گراہم نے ڈرگ ٹریبونل کے سامنے یہ موقف اختیار کیا کہ محمد آصف کی آنکھوں میں تکلیف تھی لہذا انہوں نے دوا کیریٹل استعمال کی لیکن انہیں نہیں پتہ تھا کہ اس میں نینڈرلون ہوتی ہے اس سے ان کے پیشاب میں نینڈرلون کی مقدار میں اضافہ ہوگیا اور جب آئی پی ایل کے دوران ان کا ڈوپ ٹیسٹ ہوا تو اس میں اس کی مقدار قابل گرفت سطح پر آگئی تھی۔ ڈاکٹر مائیکل گراہم نے کہا کہ آصف کو معلوم نہیں تھا کہ آنکھوں کی یہ دوا انہیں مشکل میں ڈال دے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ آصف کی حقیقی غلطی تھی جو قابل معافی ہے اسی لیے انہوں نے آئی پی ایل کے ڈرگ ٹریبونل سے درخواست کی ہے کہ اس بارے میں ہمدردی سے غور کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ طبی بنیاد پر وہ پرامید ہیں کہ آصف بین الاقوامی کرکٹ میں واپس آجائیں گے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ محمد آصف دبئی ائرپورٹ پر مبینہ طور پر افیون کی معمولی مقدار برآمد ہونے پر حراست میں لیے گئے تھے اور انہوں نے دبئی حکام کو دیئے گئے بیان میں یہ اعتراف کیا تھا کہ انہیں نہیں پتہ تھا کہ یہ افیون ہے بلکہ انہوں نے اسے دودھ میں ملاکر دوا کے طور پر استعمال کیا تھا جس کا مقصد بلڈ پریشر کم کرنا اور طاقت میں اضافہ کرنا تھا۔ان کا یہ کہنا تھا کہ یہ دوا انہیں ایک حکیم نے دی تھی۔ محمد آصف دوسال قبل بھی شعیب اختر کے ساتھ مثبت ڈوپ ٹیسٹ کی زد میں آئے تھے جس پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے انہیں بھارت میں چیمپئنز ٹرافی کی ٹیم سے واپس بلالیا تھا اور ان پر ایک سالہ پابندی عائد کردی گئی تھی جو بعد میں اٹھالی گئی تھی۔ | اسی بارے میں آصف ڈوپنگ سماعت لندن میں17 December, 2008 | کھیل محمد آصف کی رہائی کا فیصلہ19 June, 2008 | کھیل پی سی بی نے آصف کومعطل کر دیا15 July, 2008 | کھیل ’آصف کی حراست میں توسیع ممکن‘ 10 June, 2008 | کھیل آصف: رہائی میں تاخیر، ٹیم سے باہر04 June, 2008 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||