شفقت نغمی پر پی سی بی کے الزامات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ بورڈ نے قزافی سٹیڈیم کے وی آئی پی پیولین کی تعمیر کے کام میں گزشتہ انتظامیہ کی جانب سے بڑے پیمانے پر بےضابطگیوں کا انکشاف کیا ہے اور اس سلسلے میں سابق چیف آپریٹنگ آفیسر شفقت نغمی پر براہ راست انگلی اٹھائی گئی ہے۔ قزافی سٹیڈیم کے فار اینڈ پیولین کی تعمیر جو گزشتہ برس سات فروری کو شروع ہوئی تھی اسے 31 اگست 2008 تک ہی مکمل کیا جانا تھا لیکن یہ کام سال ختم ہونے تک بھی مکمل نہیں ہو سکا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کی ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ انتظامیہ میں چیف آپریٹنگ آفیسر شفقت نغمی نے قزافی سٹیڈیم کے وی آئی پی انکلوثر کا ٹھیکہ چودہ کروڑ بیس لاکھ روپوں میں ایک ایسے ٹھیکیدار کو دیا جو بقول موجودہ انتظامیہ کے شفقت نغمی کا منظور نظر تھا۔ شفقت نغمی نے تمام الزامات سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ کرکٹ بورڈ کے الزامات کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کریں گے۔ پی سی بی نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ شفقت نغمی نے اپنے رفقاء سے مل کر نا صرف اس منصوبے کی تعمیر کے لیے مختلف اوقات میں کروڑوں روپے منظور کروائے بلکہ بعد ازاں اس کی تعمیر کی لاگت کا تخمینہ بڑھا کر سینتالیس کروڑ دس لاکھ کر دیا گیا۔ پی سی بی کی جانب سے یہ الزام ایک بار پھر دہرایا گیا کہ سابق چیف آپریٹنگ آفیسر شفقت نغمی اس منصوبے سمیت دیگر اہم فائلیں پی سی بی سے لے جا چکے ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے اس منصوبے پر اتنی خطیر رقم خرچ کرنے کا سیریس نوٹس لیتے ہوئے منصوبے پر کام کو فوری طور پر روک دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ دو ہفتے میں موجودہ مارکیٹ ریٹس کے مطابق اس منصوبے کی تعمیر پر نیا تخمینہ لگا لیا جالگا لیا جائے گا۔ پی سی بی کے چیئرمین اعجاز بٹ نے ایک خود مختار ادارے سے ان تمام بے ضابطگیوں کی تحقیقات کروانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ کرکٹ بورڈ کے الزامات کے بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے شفقت نغمی نے کہا کہ وہ فوری طور پر عدالتی کارروائی کرنے جارہے ہیں تاکہ ان کے اوپر لگائے جانے والے الزامات کا خاتمہ کیا جاسکے۔ شفقت نغمی نے بتایا کہ قذافی سٹیڈیم کے وی آئی پی پیویلین کا کنٹریکٹ انیس کروڑ روپے کا تھا اور اس کنٹریکٹ کے تحت خام مال کی قیمتیں بڑھنے پر کرکٹ بورڈ پر لازمی تھا کہ وہ کنٹریکٹر کو نئی قیمت کے حساب سے رقم ادا کرے۔ شفقت نغمی نے بتایا کہ قیمتیں بڑھنے کے بعد بھی پیویلین کی تعمیر تئیس کروڑ روپے میں ہوجانی چاہیے تھی جو کہ نہیں ہوئی۔ شفقت نغمی نے بتایا کہ اب سینتالیس کروڑ کی جو قیمت بتائی جا رہی ہے وہ ان کے کرکٹ بورڈ چھوڑنے کے بعد کی ہے۔ شفقت نغمی نے یہ بھی بتایا کہ پویلین کے نقشے کے بارے میں جو الزامات عائد کیے گئے ہیں وہ نقشہ کرکٹ بورڈ کی گورننگ باڈی نے منظور کیا تھا اور جس میٹنگ میں یہ منظوری دی گئی تھی اس میں اعجاز بٹ بھی موجود تھے۔ اس الزام کے بارے میں کہ انہوں نے بیرون ملک دورہ کیا، شفقت نغمی نے بتایا کہ انہوں نے صرف آسٹریلیا کا دورہ کیا تھا اور آسٹریلیا کے دورے پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے لیے ایک بائیو میکنِک لیب خریدی گئی تھی جس کی آج کل تعریف کی جا رہی ہے۔ | اسی بارے میں شعیب ملک کی کارکردگی پراطمینان13 November, 2008 | کھیل اعجاز بٹ بھارت جائیں گے05 December, 2008 | کھیل کپتان نے پیسوں کی پیشکش کی: گِبس12 October, 2006 | کھیل کرکٹ اور کرپشن، پھر بحث شروع23 March, 2007 | کھیل سلیم کی سزا کیخلاف درخواست20 September, 2008 | کھیل پی سی بی نے آصف کومعطل کر دیا15 July, 2008 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||