سلیم کی سزا کیخلاف درخواست | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سلیم ملک کے وکیل نے موقف اختیار کیا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ انہیں سزا دینے کا مجاز نہ تھا۔ وکیل شاہد کریم نے یہ موقف سنیچر کو ملک محمد الطاف کی سول کورٹ میں دائر کی جانے والی ایک درخواست میں اختیار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ میچ فکسنگ کی تحقیقات کے لیے کمیشن وفاقی حکومت نے تشکیل دیا تھا اور اسی کے پاس یہ اختیار تھا کہ وہ سلیم ملک کو سزا دیتی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے پاس یہ سزا دینے کا اختیار نہیں تھا۔ یہ سماعت پیر تک ملتوی کردی گئی ہے۔ پیر کو پاکستان کرکٹ بورڈ کے وکیل تفضل حیدر رضوی جوابی دعوی دائر کریں گے۔ اب تک کرکٹ بورڈ نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ یہ سزا پاکستان کرکٹ بورڈ نے نہیں دی بلکہ اس نے تحقیقاتی کمیشن کی دی گئی سزا پر عملدرآمد کرایا تھا۔ واضح رہے کہ2000ء میں جسٹس ملک محمد قیوم کمیشن نے میچ فکسنگ کی تحقیقات مکمل کرتے ہوئے سلیم ملک اور عطاءالرحمن پر تاحیات پابندی اور دیگر کرکٹرز پر جرمانے کی سزا کی سفارش کی تھی۔ عطاء الرحمن پر عائد پابندی اٹھائی جاچکی ہے۔ سلیم ملک نے اس سزا کے فیصلے کے خلاف اپیل سول کورٹ اور ہائی کورٹ میں مسترد ہونے کے بعد سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا جس نے یہ مقدمہ سول کورٹ کو واپس کردیا تھا کہ وہی اس کی سماعت کرنے کی مجاز ہے۔ | اسی بارے میں ’سلیم ملِک کی اپیل دوبارہ سنیں‘22 May, 2008 | کھیل سلیم ملک اپیل: سماعت کل21 May, 2008 | کھیل میری محنت ضائع گئی: جسٹس قیوم30 March, 2007 | کھیل کرکٹ اور کرپشن، پھر بحث شروع23 March, 2007 | کھیل سلیم ملک اپیل: سماعت کل10 November, 2006 | کھیل مشتاق کی تقرری: جسٹس قیوم ناخوش16 September, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||