BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 16 November, 2008, 22:21 GMT 03:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کلین سویپ کا یقین تھا:شعیب

کرس گیل(فائل فوٹو)
شعیب ملک کی کپتنانی میں یہ تیسری کلین سویپ ہے
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان شعیب ملک نے کہا ہے کہ انہیں یقین تھا کہ وہ ویسٹ انڈیز کے خلاف کلین سویپ کرینگے۔

واضح رہے کہ بنگلہ دیش اور زمبابوے کے بعد شعیب ملک کی قیادت میں پاکستانی ٹیم نے اس سال تیسری مرتبہ کسی سیریز کے تمام میچز جیتے ہیں۔

تیسرے ون ڈے کے بعد پریس کانفرنس میں شعیب ملک نے کہا کہ ہر کھلاڑی نے محنت کی اور یہ جیت ٹیم ورک کی مرہون منت ہے۔

انہوں نے کہا کہ سینئر اور نئے کھلاڑیوں کے اشتراک سے حاصل ہونے والی اس کامیابی کی اس لئے اہمیت ہے کہ پاکستانی ٹیم عالمی رینکنگ میں چھٹے سے چوتھے نمبر پر آگئی ہے۔

شعیب ملک نے کہا کہ انہیں اپنے بولرز پر بھروسہ تھا کہ وہ ویسٹ انڈیز کو274 رنز کا ہدف حاصل نہیں کرنے دینگے حالانکہ کرس گیل نے ایک بار پھر عمدہ بیٹنگ کرتے ہوئے سیریز میں دوسری سنچری اسکور کی۔

پاکستانی کپتان نے ان فٹ شعیب اختر کو وطن واپس بھیجنے کے بارے میں سوال پر کہا کہ وہ آخری میچ کے لئے فٹ تھے لیکن انہوں نے خود یہ کہا کہ چونکہ پچھلے میچ میں تینوں بولرز نے عمدہ بولنگ کی تھی لہذا ان میں سے کسی کو بھی ڈراپ نہ کیا جائے، لہذا شعیب کو اس میچ میں نہیں کھلایا گیا۔

سلمان بٹ کی جانب سے کوئی بڑی اننگز نہ کھیلے جانے کے بارے میں شعیب ملک نے کہا کہ سلمان بٹ خرم منظور اور ناصر جمشید کی شکل میں اس وقت اچھے اوپنرز موجود ہیں اور اوپننگ اس وقت مسئلہ نہیں ہے۔

تیسرے ون ڈے انٹرنیشنل میں شاندار سینچری بناکر مین آف دی میچ بننے والے یونس خان کا کہنا ہے کہ ان پر کسی قسم کا کوئی دباؤ نہیں ہے اور وہ اپنی کرکٹ سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔

یونس خان نے کہا کہ وہ صورتحال کے مطابق کھیلتے ہیں اور انہیں اپنی ذمہ داری کا ہمیشہ سے احساس رہا ہے۔

اس سوال پر کہ کیا محمد یوسف کے جانے کے بعد اضافی دباؤ تو محسوس نہیں کررے ہیں، یونس خان نے کہا کہ اگر وہ خود پر دباؤ محسوس کرینگے تو کیسے کھیلیں گے۔

یونس خان نے کہا کہ ویسٹ انڈیز کی بولنگ کو کمزور نہیں کہا جاسکتا اور نہ ہی آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان نے یہ سیریز آسانی سے جیتی ہے تاہم پاکستانی ٹیم کو آل راؤنڈرز اور سپنرز کی وجہ سے ویسٹ انڈیز پر فوقیت حاصل رہی۔

شعیب ملک کی قیادت کے بارے میں یونس خان نے کہا کہ وہ وقت کے ساتھ ساتھ سیکھ رہے ہیں اور انہیں لمبے وقت کے لئے کپتان رہنا چاہئے۔

یونس خان نے سنچری مکمل کرنے کے بعد جیب سے کاغذ نکالا جس پر لکھا تھا ’ موتی آئی لو یو۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے یہ پیغام کسے دیا تھا ؟ یونس خان نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ موتی دراصل ٹیم کے سابق فیلڈنگ کوچ محتشم رشید تھے جن کے ساتھ انہوں نے کلب کرکٹ کھیلی ہے اور یہ سنچری انہوں نے ان کے نام کی ہے۔

اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد